یوم بلوچ شہداء کے موقع پر برطانیہ ، سویڈن ، کینیڈا اور جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک میں پروگراموں کا انعقاد

جمعہ 14 نومبر, 2014

بلوچستان کی طرح پوری دنیا میں بیرونی ممالک میں مقیم بلوچوں نے کل جمعرات 13 نومبر کو یوم بلوچ شہداء کے مناسبت سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا ۔ تفصیلات کے مطابق یوم شہداء کے مناسبت سے یہ پروگرام برطانیہ کے شہر لندن اور گلاسکو ، کینیڈا کے شہر وینکور، سویڈن کے شہر بوراس اور شمالی کوریا کے شہر پوسن میں منعقد ہوئے۔سویڈن کے شہر بورس میں بلوچ سیاسی کارکنان نے سینٹرل لائبریری میں پورے دن کیلئے ایک جگہ بک کیا جہاں بلوچ شہداء کی تصاویر آویزاں کی گئی اور ان کے بارے میں معلومات کا ایک اسٹال لگایا گیا پورے دن مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگ بلوچوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آتے رہے ۔ جنوبی کوریا کے شہر پوسن میں بلوچ سیاسی کارکنان نے بلوچ یوم شہداء کو منانے کیلئے پوسن کے مرکزی اسٹیشن کے سامنے ایک مظاھرے کا اہتمام کیا جہاں انہوں نے شہداء کے تصاویر آویزاں کیئے اس کے علاوہ آزاد بلوچستان کا جھنڈا ا ور بلوچ لاپتہ افراد کی تصاویر بھی آویزاں کی گئی اس موقع پر ایک معلوماتی لیف لیٹ ترتیب دی گئی تھی جسے مظاھرے کے وقت تقسیم کیا گیا جس سے جنوبی کوریا کے عوام کو بلوچستان کے حالات کے بابت آگاہی حاصل ہوئی ۔ اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں بلوچوں نے شہداء کی یاد میں شمع روشن کرکے چراغاں کیا اور اس موقع پر صحافیوں اور گلاسگو کے عوام کو بلوچستان کے مسئلے اور پاکستانی مظالم کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔برطانیہ کے شہر لندن میں یوم بلوچ شہداء کے موقع پر بلوچ کمیونٹی نے ایک اجتماع کا انعقاد کیا اس موقع پر تمام شہداء کو سرخ سلام پیش کیا گیا اور مقررین نے بلوچ شہداء کے گراں قدر قربانیوں کو اپنا خراج عقیدت پیش کیا ۔اس مجلس کی صدارت ڈاکٹر مصطفی بلوچ نے کی جبکہ باقی مقررین میں محراب سرجو بلوچ ، عبداللہ بلوچ ، شبیر بلوچ اور کردستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن جمعہ کرد شامل تھے۔ڈاکٹر مصطفی بلوچ نے اپنے خطاب میں بلوچ شہداء ڈے کی اہمیت ، ضرورت اور تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 13 نومبر 1839 کے دن برطانوی فوج نے بلوچستان پر حملہ کیا اس وقت والی ریاست محراب خان نے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرکے شہادت قبول کی ، آج تمام بلوچ اس دن اکھٹے ہوکر اپنے ان تمام شہداء کو یاد کرکے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں مادرِ وطن کی آزادی کی خاطر قربان کی ۔ کرد سیاسی کارکن جمعہ نے بلوچوں سے یکجہتی کا مظاھرہ کرتے ہوئے کہا کہ کرد بلوچوں کی تحریکِ آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔ آج کرد مشکل حالات سے گذر رہے ہیں ایک طرف ترکی ، ایران اور شام نے ان کے سرزمین پر قبضہ کیا ہوا ہے تو دوسری طرف داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کوبانے میں انکی نسل کشی کررہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ اور کردوں کو ان مشکل حالات میں یکجا ہوکر ان مصائب کا مل کر سامنا کرنا چاہئے ، ان حالات میں اگر کردستان اپنی مکمل آزادی حاصل کر پاتا ہے تو پھر یہ یقیناًتحریکِ آزادی بلوچستا ن کیلئے انتہائی مفیدثابت ہوگا ۔ محراب سراجو بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے شہداء کے عظیم قربانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے آج ہم انکی اس قربانی کو یاد کررہے ہیں جو شہداء نے ہمارے روشن مستقبل کی خاطر دی آج ان کے مقصد سے تجدید عہد کا دن ہے ۔عبداللہ بلوچ نے کہا کہ ہم آج ان تمام شہداء کو خراج عقید ت اور سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں آزادبلوچستان کی خاطر قربان کیا ۔اس موقع پر شبیر بلوچ نے بلوچ قوم پرست رہنما حیربیار مری کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں حیربیار مری نے کہا تھا کہ’’ بلوچ قوم کو اپنے اجتماعی مفادات کی خاطر یکجا ہونا چاہئے ، ہم اس لیئے جدوجہد نہیں کررہے کہ ہم پاکستان اور ایران کی طرح کا ایک مذہبی جنونی یا غیر جمہوری ریاست تشکیل دیں بلکہ ہمارا مقصد ایک ایسا بلوچستان ہے جس میں تمام شہری برابری کے حقوق ایک قانون کے تحت حاصل کریں ‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ ہم اس دن تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم تب تک جدوجہد کرتے رہیں گے جب تک کہ بلوچستان کی آزاد و خودمختار حیثیت بحال نہیں ہوتی‘‘ ۔ دریں اثناء کینیڈا کے شہر وینکوور میں بھی بلوچ سیاسی کارکنان نے ایک یادگاری اجلاس کا انعقاد کیا ۔ عزیز بلوچ نے مجلس کی صدارت کی اس موقع پر بلوچ اور کرد سیاسی کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور بلوچ شہداء کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا ۔اس موقع پر کرد سیاسی کارکن مسعود کرد، کرد کمیونٹی کے سربراہان محمد طوز اورمحمد کرد نے ان تمام بلوچ شہداء کو خراج عقیدت پیش کی جنہوں نے بلوچ قومی آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کردیں انہوں نے بلوچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ایک دن بلوچ اور کرد آزاد ہونگے اور انکی اپنی آزادی سرزمین ہوگی ۔ اس موقع پر پروفیسر نائلہ قادری نے بلوچ شہداء کی قربانیوں اور بلوچ قومی جدوجہد کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے بلوچ قومی تحریک روز بروز مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔ بلوچ کمیونٹی کینیڈا کے نمائیندے عائشہ ناروئی نے شہداء کی قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی ایک دن ضرور یہ جدوجہد اپنے منطقی انجام تک پہنچے گی اس موقع پر غلام مصطفی رئیسانی نے بھی خطاب کیا اور خدا بخش بلوچ نے مبارک قاضی کا انقلابی شعر سامعین کے سامنے پڑھا ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0