یونان دیوالیہ پن سے بچ گیا، یورپی رہنماؤں کی ڈیل

پیر 13 جولائی, 2015

ایتھنز(ہمگام نیوز) یورپی رہنما یونان کو دیوالیہ پن سے بچانے کے لیے ایک متفقہ مالیاتی ڈیل پر متفق ہو گئے ہیں۔ یوں مالی مشکلات کی شکار اس ریاست کے یورو زون سے اخراج کا خطرہ ٹل گیا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ یورپی رہنماؤں کے مابین یونان کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی ایک نئی ڈیل پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے آج بروز پیر تیرہ جولائی کو بتایا ہے کہ یورو زون کے ممالک سترہ گھنٹوں کے طویل مذاکرات کے بعد ایتھنز حکومت کے لیے مالیاتی ڈیل کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سن 2010ء کے بعد یونان کے لیے یہ تیسری مالیاتی ڈیل ہے۔

ڈونلڈ ٹسک نے کہا، ’’یورو زون کی سمٹ کے دوران متقفہ طور پر اس ڈیل کو منظور کیا گیا ہے۔ تمام رکن ممالک یونان کی طرف سے سخت مالیاتی اصلاحات کے عوض اس کے لیے ESM پروگرام کے حق میں ہیں۔‘‘ یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاؤد یُنکر نے اس ڈیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یونان یورو زون میں ہی رہے گا۔ یورپی یونین کی طرف سے اس اعلان کے فوری بعد ہی یورپی مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

اس مالیاتی ڈیل پر اتفاق رائے تو ہو گیا ہے لیکن جرمنی کی سرپرستی میں بین الاقوامی قرض دہندگان نے سخت شرائط بھی عائد کی ہیں۔ یوں ماہرین کے مطابق اس مخصوص صورتحال میں یونانی وزیر اعظم الیکسس سپراس کی بائیں بازو کی حکومت ختم ہو سکتی ہے، جو یونان میں ایک غم و غصے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس ڈیل کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں لیکن ابتدائی معلومات کے مطابق یورپی رہنماؤں نے کہا ہے کہ یونانی وزیراعظم نے بآلاخر یونین کی شرائط تسلیم کر لی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ایتھنز حکومت نے جرمنی اور دیگر مالیاتی پارٹنرز کی ایسے شرائط بھی تسلیم کر لی ہیں کہ یونان کے سرکاری اثاثوں کو عارضی طور پر گروی رکھ دیا جائے۔ سپراس نے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اس شرط پر بھی مزاحمت ختم کر دی کہ ایتھنز کے لیے 86 بلین یورو (95.78 بلین ڈالر) کے مجوزہ مالیاتی پیکج میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) کا مکمل کردار نہیں ہونا چاہیے۔ میرکل کے بقول برلن میں پارلیمنٹ سے اس ڈیل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یوں کرنا ناگزیر ہے۔

مبصرین کے بقول اب یہ دیکھنا ہے کہ وزیراعظم سپراس اپنی سیاسی پارٹی کو اس ڈیل کے لیے کس طرح اعتماد میں لیتے ہیں۔ سپراس کے اپنے ہی ساتھی سیاستدانوں نے اس ڈیل کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ رواں برس ہی یونان میں نئے انتخابات کے راہ کھول دے گا۔

دریں اثناء جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس ڈٰیل کو حتمی شکل دینے سے فوری بحران تو ٹل گیا ہے لیکن یونان کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لیے طویل وقت درکار ہو گا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0