یکطرفہ فائرنگ یا فرینڈلی فائر،:تحریر وارث بلوچ


ہم میں سے کسی کو بھی پوائنٹ سکورنگ، دوسرے تنظیموں اور رہنماوں کی کردار کشی اور ان کو نیچا دکھانے، اپنی ذاتی، گروہی، جماعتی مفادات کے حصول کی غرض سے بالکل بھی ٹانگ اڑانے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہے لیکن جب بلوچ قومی اجتماعی مفادات کو ذک پہنچنے کا خدشہ لاحق ہو ، منفی رویوں کی وجہ بلوچ تحریک کی ساکھ خطرے میں ہو تو بلوچ قوم کے ہر فرد پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ بلوچ قومی آزادی پر سمجھوتا کرنے والوں کے ان منفی و ضرر رساں پالیسیوں پر لازمی بن جاتی ہے، نیک نیتی سے تعمیری تنقید ہمیشہ مثبت نتائج لیکر آتی ہے۔ غلط ڈگر پر جاتے معاملات پر لب کشائی کرنا چاہیے، غلط پالسیوں کی نہ صرف نشاندہی کرنی چاہیے بلکہ ان کمزوریوں، کوتاہ بینیوں کا مرتکب تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے ان اعمال اور پالیسیوں کو ٹھیک کرنے کااپنی بساط کے مطابق مشورہ بھی دینا چاہیے۔ الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے کے لئے رضاکارانہ طور پر اپنے خدمات پیش کرنا شعوری بیداری کے زمرے میں آتا ہے۔

بلوچ تحریک آزادی میں جڑے ہر نظریاتی دوست چاہے وہ مرد ہے یا عورت سب ہماری بلوچ تحریک کے قیمتی اثاثے ہیں، اور یہ اثاثے اچانک اس تحریک سے نہیں جڑتے، نظریات کے لڑی سے پروئے ہر ایک ہیرا دہائیوں کی محنت ، مشقت اور شعوری طور فیصلے بعد اس جہد کا حصہ بننے میں حامی بھرتے ہیں، بلا غرض ، لالچ ، ڈر خوف اور کسی کے خوشنودی کے وہ اپنی جان تک خندہ پیشانی سے قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ایسے نایاب ہیروں کو ہم اتنی آسانی سے کھونے کا متحمل نہیں ہوسکتے۔
بلوچ نظریاتی لشکر جو آزادی کی جہد کو اپنی قیمتی لہو سے سینچ رہے ہیں، ان کی اس بے مثال قربانیوں کو کسی بھی ملک کے پراکسی کی نظر نہیں کیا جاسکتا، بلوچ تعلیم یافتہ، منجھے ہوئے سیاسی اکابرین کا فرض ہے کہ ایسے عناصر کا محاسبہ کریں جو بلوچ تحریک کو قابض قوتوں کے پراکسی بنانے کے جرم کا مرتکب ہورہے ہیں۔ آج اگر بلوچ عوام ان عناصر کی بلوچ سرزمین کی تاریخی وحدت و جغرافیہ بابت سودا بازی پر چھپ رہے تو مستقبل قریب میں ایسے لوگ بلوچ جہد کاروں اور پوری تحریک کو عالمی سطح پر ناقابل تلافی نقصانات پہنچانے کا سبب بنیں گے۔ بلوچ قوم دوست رہنما سنگت حیربیار مری کے بقول ایران اور پاکستان اپنے تعلقات معمول پر آنے کی صورت میں اپنے اپنے علاقوں میں موجود آزادی پسند جہد کاروں کا سودا کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

ایران و پاکستان دونوں تاریخی بلوچ جغرافیہ پر قابض ہیں، ہمیں ایران و پاکستان کی فوجی، معاشی ، سیاسی و سفارتی گٹھ جوڑ سے ہرگز غافل نہیں ہونی چائیے، سن ستر کی دہائی میں جب بلوچستان میں پاکستانی افواج اور بلوچ جنگ آزادی کے سپاہیوں و عوام کے مابین گھمسان کی جنگ ہورہی تھی تو بھٹو حکومت نے شاہ ایران سے جنگی کمک کی درخواست کیا تھا ایران نے وقت ضائع کئے بغیر ایرانی جنگی جہاز بمعہ پائلٹ بلوچستان کے علاقے کوہستان مری اور دیگر علاقوں میں فوجی کاروائیوں میں حصہ لینے کے لئے بھیجے تھے۔ ان کاروائیوں میں ہزاروں بلوچ مرد و زن کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی۔ لاکھوں کی تعداد میں مال مویشیاں ہلاک۔ کروڑوں کی دیگر مالی نقصانات ہوئے۔

ایران و پاکستان کے تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے پالیسیوں نے بلوچ قوم کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے، بظاہر ایران کچھ منظور نظر افراد کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے لیکن پردے کے پیچھے ایران ان عناصر کا گلہ کاٹنے کے لیئے پاکستانی اداروں اور انٹیلی جینس ایجنسیوں کے ساتھ مل کر تلوار کی دھار کو تیز کررہی ہے جو بوقت ضرورت اپنے ان پراکسیوں کا گردن قلم کرنے میں دیر نہیں کریگا۔

ایران کا بلوچستان کے آزادی پسند رہنماوں اور عوام کے خلاف کاروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ایران نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ تعلیم یافتہ اور نظریاتی لوگوں کو پکڑ کر سمگلر ، منشیات فروش اور مذہبی دہشت گردی کا لیبل لگا کر تختہ دار پر لٹکایا۔
یہ وہی ایران ہے جو ایرانی زیر تسلطی بلوچستان کے بلوچوں کو سمگلر اور منشیات فروشی کا لیبل لگاکر سرے عام پھانسیاں دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف آزادی پسند چند ایک افراد یا جن پر بلوچستان کے عوام منشیات فروشی کے دھندے میں ملوث سمجھتے ہیں کے لئے نرم گوشہ بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
گذشتہ دنوں ایرانی دہشت گرد بارڈر فورسز کے ہاتھوں بی ایل ایف کا ایک جہد کار گہرام بلوچ فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہوئے ، لیکن مجھے یہ پڑھ کر انتہائی حیرت ہوئی کہ بی ایل ایف کی ترجمان گہرام بلوچ نے ایران کو آب زم زم سے غصل دیتے ہوئے ایرانی قابض فورسز جس کی گولی سے ان کا جہد کار ایک قیمتی اثاثہ شہید ہوا کے خلاف ایک مزمتی لفظ تک ادا کرنے کی جرائت نہیں کی۔ بلوچ قوم توقع کررہے تھے کہ بی ایل ایف کی قیادت ایران کی جانب سے اپنے کارکن کی شہادت کا بدلہ لینے کا کوئی سنجیدہ بیان دیں گے لیکن حیف کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جب کہ بی ایل ایف الٹا ایران کا وکیل بن کر ایرانی قابض بارڈر فورسز کے اس گھناونی بلوچ دشمن عمل کو یہ کہہ کر جواز فراہم کردیا کہ چونکہ سرحد پر سمگلر، مذہبی انتہا پسند اور دیگر جرائم پیشہ لوگوں کی آمد و رفت ہوتی رہتی ہے بی ایل ایف نے اپنے کارکن کی شہادت کو ایرانی قابض کی جانب سے معمول کی فائرنگ کا شاخسانہ قرار دے کر ایران کو کلین چٹ دے دی جو بلوچ عظیم شہید کی خون سے مزاق کے مترادف عمل ہے۔

گہرام صاحب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بارڈر کے آر پار بلوچوں کی آپس کی رشتے داریاں ہیں، لیکن جسے آپ بارڈر کہہ رہے ہیں یہ گلزمین بھی بلوچوں کا ہی ہے جس پر پاکستان اور ایرانی قابض افواج بزور طاقت مقیم ہیں اب اگر پاکستان یا ایران ہمارے لوگوں کو آئے روز معمول کی فائرنگ کا نشانہ بناتے رہیں اور ہم اپنے جہد کاروں کی ہلاکت پر احتجاج اور مزاحمت کی بجائے اسے اللہ کی رضا قرار دے کر چھپ رہیں تو پھر بلوچ قوم کس سے توقع کرے؟ ایک مزاحمتی تنظیم کی حیثیت سے بی ایل ایف اپنے جہد کار کی شہادت پر ایران کے خلاف نرم گوشہ رکھ کر ایران کی پراکسی ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔

افسوس کا مقام ہے بی ایل ایف کا ایک جہد کار دہشت گرد ایرانی قابض فورسز کے ہاتھوں بلا اشتعال فائرنگ سے شہید ہوا لیکن گہرام صاحب کے منہ سے ایران کی مذمت تک کا حق ادا نہ کر سکا، کیا بی ایل ایف نے ایرانی قابض فورسز کی یکطرفہ کاروائی میں جانبحق اپنے کارکن کا خون دشمن کو بخش دیا؟ نہ مذمت، نہ ایران کے خلاف کوئی جملہ یہ انتہائی نرم گوشہ بلوچ نوجوانوں کے خون قربانی کو فراموش اور ذاتی و پارٹی مفادات کا بھینٹ چھڑانے کے مترادف ہے؟

اپنے ہی بلوچ آزادی پسند دوستوں تنظیموں اور جہد کاروں کے خلاف تند و تیز اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرنے والے گہرام کی زبان سے ایران کی جانب سے اپنے جہد کار کے شہادت کی مذمت نہ کرنا چے معنی دارد ؟