13 نومبرشہدائے بلوچستان کےموقع پر بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا فیصلہ۔بی ایس ایف

جمعہ 24 اکتوبر, 2014

کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں بلوچ وطن موومنٹ بلوچ گہار موومنٹ اور بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کی قومی نجات کی جدوجہد میں فعال جز کی حیثیت سے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے تنظیمی امور سمیت عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال بلوچ سالویشن فرنٹ کی دوسالہ کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالہ سے مختلف ایجنڈے زیر بحث لائے گئے اتحادی پلیٹ فارم کو مزیدموثر متحرک کرنے پر زور دینے کے ساتھ ساتھ اتحادی تنظیموں کے مابین باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کو سراہا گیا اجلاس میں13 نومبر کو شہدائے بلوچستان کے قومی و تاریخی دن کے موقع پر بلوچستان بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اجلاس میں کہاگیا کہ اتحادی تنظیمیں جملہ بلوچ شہداء کے برسی کے حوالہ سے 13نومبر کی دن کے انتخاب تاریخی اہمیت اور مقاصد کو اجاگر کرنے کے لئے زونل اورعلاقائی سطح پر اپنی بساط کے مطابق پروگرامز کا انعقاد کریں اجلاس میں کہاگیا کہ13نومبر بلوچ تاریخ کا ایک روشن باب ہے جو جہد آزادی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کل بلوچ شہداء کے برسی کے حوالہ سے اس دن کا انتخاب ایک طویل تاریخی اور سیاسی پس منظر رکھتی ہے یقیناًیہ فیصلہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ہزاروں بلوچ شہداء کے الگ الگ برسی منانے کے لے نہ صرف سال کے تین سوپینسٹھ دن کم پڑتے ہیں بلکہ ہزاروں بلوچ شہداء میں ان شہداء کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی جنہوں نے آزادی کے لئے گمنامی کے حالت میں شہید کئے گئے اور174سالہ طویل المیعاد جدوجہدکے دوران کئی جانثار اور قومی آزادی کے پروانے ایسے معرکوں میں شہید کئے گئے جو گمنامی کے صورت میں مادر وطن کے آغوش میں آسودہ خاک ہے اجلاس میں کہاگیا کہ بلوچ قومی غلامی کی ابتداء1839کو ہوئی بلوچ قومی حکومت کے سربراہ شہید خان محراب خان اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ انگریز کی غلامی تسلیم کرنے کے بجائے بلوچستان کی آزادی کے لئے اپنی جانیں قربان کرکے جدوجہد آزادی کے لئے اکائی کے طور پر پہلی اینٹ گھاڑ دی اجلاس میں کہاگیا کہ یہ دن ہماری آزادی کی تاریخ کو دہراتی اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ 1839سے قبل بلوچستان ایک آزاد و خود مختیار ریاست کے طور پر دنیا کے نقشہ میں موجود تھا 1839کے بعد انگریز نے نہ صرف بلوچ قومی اقتدار کو ختم کیا بلکہ بلوچ جغرافیہ کو اپنی توسیع پسندانہ عزائم کے بھینٹ چڑھا کر ایران اور افغانستان میں بلجبر شامل کرکے پاکستان کے موجودہ زیر قبضہ علاقہ کو برٹش بلوچستان کے نام سے متعارف کیا عوام کی زمین وجائیداد پر قبضہ کرکے انہیں نواب و سرداروں کو بطور جاگیر عطا ء کی قبائلی نظام میں فرسودگیان پیدا کرکے بلوچ مرکزیت اور اتحاد کو پارہ پارہ کردیااس دن کی تاریخی اہمیت اور شہداء آزادی کے برسی کے مناسبت مشترکہ دن کا چناؤ عالمی دنیا کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ انگریز اور پاکستان ریاست 1839سے اب تک بلوچ مملکت کے حوالہ سے جو معائدہ کئے ہیں یاسماجی طور پر بلوچ سماج کو آلودگیاں پیدا کی گئی ہے یا جغرافیائی طور بلوچ زمین کو جس طرح تقسیم کرکے ایران و افغانستان کی جغرافیہ میں دیکر بلوچ آبادی اور زمین کے درمیان جس بے رحمی کے ساتھ خونی لکیریں کھینچ کر ایک وحدت ایک مشترکہ تہذیب و ثقافت زبان کے مالک بلوچ قوم کو مختلف سامراجی قوتوں کے دست نگر اور غلام بنانے کی جو کوشش کی گئی ہے وہ بلوچ مرضی منشاء کے بلکل برعکس ہے اوروہ تمام علاقائی یا عالمی معائدے اور پالیسیاں غیر قانونی ہے جو بلوچ رضاء اور منشاء کے بغیرطے کئے گئے یا تشکیل دیئے گئے ہیںیا حالیہ دنوں ایران گیس پائپ لائن یا چین یا دیگر ممالک کے ساتھ ریاستی معائدات جن کی کوئی قانونی اور بین الاقوامی قوانین سے کوئی جواز نہیں بنتا جنکا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے سامنے بلکہ بلوچ قوم کے سامنے کوئی اہمیت و حیثیت نہیں اجلاس میں کہا گیا کہ گولڈ سمتھ لائن اور ڈیورڈ لائن کی کو ئی حیثیت نہیں ہزاروں سال سے بلوچ قوم اس دھرتی کاوارث اور مالک ہے انگریز اور موجودہ ریاست سے بلوچ قو م کا کوئی رشتہ نہیں بلوچ سرزمین پر غیر ملکی دعویداری قبضہ کے سوا کچھ نہیں اجلاس میں کہا گیا کہ بلوچ قومی مسئلہ کا حل 13نومبر1839سے قبل والی پوزیشن سے جڑے ہوئے ہیں یہ2005یا آج کا نہیں اجلاس میں ایک دفعہ پھر کہاگیا کہ13نومبر کوبلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤں ہڑتال ہوگا کاروباری مالیاتی اور تعلیمی مراکز بندہوں گے بلوچ عوام اپنے آزادی کے شہداء کو بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کرکے ہڑتال کو کامیاب بنائیں موجود جہد آزادی انہیں شہداء کے جدوجہد اور قربانیوں کا تسلسل ہے شہداء کا مشن ابھی تشنہ تکمیل ہے ہمیں اس موقع پر تجدید عہد کرنا چاہیے کہ ہم الحاق اور غلامی کو تسلیم کرنے کے بجائے آزاد بلوچستان کی قیام کو اپنی اصل منزل سمجھتے ہیں ۔
ٌٌٌٌٌٌٌٌٌ

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0