13 نومبرکنگریں سرانی روچ ،تحریر: داد شاہ بلوچ

منگل 31 اکتوبر, 2017

ہر قوم اور ملک کے کچھ ایسی ممتاز لوگ ہوتے ہیں جنہیں وہ قوم ہمیشہ اپنے لیے قابل فخر تقلید سمجھتی ہے، قوم و ملک کے تمام لوگ اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ یہ انکی بے لوث و انمول قربانیوں کی ثمر ہے کہ آج وہ اس دنیا میں ایک الگ شناخت کے ساتھ زندہ ہیں، لازم نہیں کہ وہ شناخت انہوں نے حاصل کیا ہو بہت سے ایسے اقوام ہیں جو کہ اس شناخت کی حصول کے واسطے اب بھی اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کررہے ہیں، دنیا میں جتنی بھی قومیں قبضہ گیروں کی چنگلوں سے آزاد ہوئے ہیں انکی تاریخ خون سے عبارت ہے اور مٹی سرخرو ہے، خون قربانی کی آخری حد ہے، کسی بھی بے سروسامان قوم کو خون کے قطروں کے علاوہ اور کوئی طاقت میسر نہیں ہوتی، یہی وہ خون جیسے بہانے کا جذبہ اسے ایک یقین جیسی حقیقی قوت سے مالا مال کرتا ہے.
تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جہاں جہاں قابض و مقبوض کے درمیاں معرکے ہوئے وہاں قابض نے آہن و آتش کی بارش میں کوئی چھوڑے نہ رکھی اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسی معرکے کو جیت میں بدلنے والے کچھ بے سرو سامان مگر یقین و جذبہ اور شعور کی قوت سے لیس لوگوں نے اس آہن و آتش کی بارش کو اپنی لہو سے شکست فاش دی کر اپنی سرزمین سے قابض کے لہراتی ہوئی جھنڈی کو اکھاڑ پھینکا، تاریخ کے دھارے فطرت سے کبھی روگردانی نہیں کرتے جو قانون کل لاگو تھا وہ آج بھی راسخ ہے، کل کیوبا، ویت نام، الجزائر، کوسوو اور دیگر بہت سے ممالک اگر اسی خون نچھاور کرنے کے فلسفے کے بنیاد پر آزاد ہوئے تو آج بھی آَادی کے فلسفے کے بنیادی اصول وہی ہیں، بلوچ سرزمین کی طول و عرض میں لاشوں سے ٹپکتی تازہ خون کی قطرے ہوں یا ریاستی ازیت گاہوں میں بلند ہوتی ہوئی لہو کی فوار ہو، قربانی کا فلسفہ اور جذبہ ہی ایک غلام قوم کی آزادی کا ضامن بن سکتا ہے.
ہر سال کی طرح اس سال بھی اس 13 نومبر کو یوم شہداء کی نسبت سے بلوچستان سمیت دنیا کہ طول و عرض میں جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں وہ اپنے رفتگاں کو یاد کرنے کے لئیے اکٹھے ہونگے، اجتماعات ہونگے، احتجاج ہونگے اور ان سب میں وہ تمام نام گونجیں گے جنہیں قابض شاید سالوں پہلے خاموش کرنے کی کوشش کی تھی، خاموشی قابض کی جیت ہے، ہمارا ہر شہید بولے گا، ہر لہو کے قطرے کو زبان عطا کی جائیگی اور ہر گرتے ہوئے بوند ایک پکار بن جائے گی، ایمان کی حد تک اس یقین کو پختہ کرنا ضروری ہے کہ ہر بوند پسینے کا اور ہر قطرہ لہو کی اور کچھ نہیں منزل کی نوید ہے.
نویدِ سحر کی یہ سفر مشکل اور پیچیدہ ضرور ہے مگر ہر آنے والا 13 نومبر ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ کوئی سفر ناممکن نہیں شرط یہی ہے کہ پاؤں پر سے سفر نہیں کیا جائے بلکہ حوصلوں کو کو بازو بنا کر اڑنے کی کوشش کی جائے، ہر اڑان پہلے کی اڑان سے بہتر ہو یہی ہمارا مطمع نظر ہو اور ہر ناکامی اگلے سفر کے لیے ایک سبق ہو یہی ہمارا انداز ہونا چاہیے، ناکامیوں سے سیکھنے والوں کی کامیابی کے امکانات ہمیشہ بہتر رہتے ہیں، اور ہمارے اس سفر میں سیکھ ہی ہمارے لئیے اہمیت رکھتی ہے، عمل سے سیکھنا اور میدان کی تجربہ گاہ میں اسی سیکھ کو اگلے عمل کے لئیے پیش نظر رکھنا ہی کامیابی ہے.
اس دن کی نسبت ایک عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ مصلحت کی چادر کو پھاڑ کر، بے لوث و بے غرضانہ بنیادوں پر ان تمام ساتھیوں کی ادھورے خواب کی تکمیل میں جھٹ جائیں جسکی حسرت وہ اپنے دل میں لئے کچھ زندانوں میں، کچھ دورانِ سفر اور کچھ ساتھی دشمن سے لڑتے ہوئے یہ بارِ ہمارے کاندھوں پر ڈال کر چل دیئے، یہ بوجھ گراں سے سہی مگر منزل مقصود تک پہنچانا ہے اور اس عہد کے ساتھ کہ خوابوں کا یہ بوجھ گرنے نہ پائے، “بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت”، ہم آج سمجھتے ہیں کہ ہم بہت ہی خوش نصیب ہیں کہ ہمیں، عملی اور بہترین پیش رو ملے جن کی قربانیوں کو لے کر آج ہم فخریہ کہہ رہے ہیں کہ منزل جستجو برقرار ہے، یہ انہی کی دی ہوئی سیکھ ہے، اور ہمیں ہمارے آنے والی نسلوں کو بھی ایک ایسا کردار وراثت میں دینا ہوگا جہاں مایوسی کی وادیوں میں بٹھکنے کے بجائے ہمارے دی ہوئی کردار و عمل کی سیکھ پر تفاخر سے کہہ سکیں کہ منزل کی جستجو برقرار ہے.
13نومبر ایک عہد و پیمان کی دن ہے، جہاں ہم اپنے ان تمام لوگوں کو یاد کرتے ہیں جنہیں شاید ہم بالذات کبھی ملے نہ ہوں، جنکو ہم شخصی بنادوں پر جانتے تک نہ ہوں، مگر مقصد کی ایک ہی ڈور سے بندھے رہنے کی وجہ سے اس دن ہم اپنے تمام بہادر ساتھیوں کی جرات و شجاعت کو سرخ سلام پیش کرنے ساتھ ساتھ یہ عہد کرتے ہیں کہ جو خواب آپ اپنے آنکھوں میں سینچ نسلوں کے لیے چھوڑ چلے تو ہم حاضر ہیں اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے، اس میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے، ہر میدان و ہر محاز اور دنیا کے کونے کونھ میں اپنے تمامتر تہی دامنی و تنگ دستی کے باوجود آپکے خوابوں کے گلدستے کو روز سجائیں گے اور اسے ہر گزرتے دن کے ساتھ منزل لے مزید قریت تر کرنے کی جتن جاری رکھیں.
پیروں کی بیڑیاں چاہے دشمن کے پہنائے ہوئے ہوں یا اپنوں کی نادانیوں کی اسباب لیکن منزل کی طرف قدم جھنکار کے ساتھ اٹھیں گے اور آپکے یہ دیوانے دیوانہ وار پابجولاں سفر کی آجری قدم تک ہمت نہیں ہاریں گے، کتنے بھی کانٹے کیوں نہ بچھائے جائیں، ہمیں یہ حکم کہ نینوں میں بس خواب سجائے جائیں، اور انہی. عہد و پیماں کی ساتھ اور خوابوں کی. اس سفر کے ساتھ ہماری ہر ٹپکتے لہو کی بوند بس ایک صدا گونجے گی
“رخصت اف اوارن سنگت”.

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0