13 نومبر میثاقِ لہو کا دن،تحریر:داد شاہ بلوچ


سفر کی تھکان اپنی جگہ لیکن کئی راتوں کی بے خوابی اعصاب پر ایسے سوار تھی کہ نہ بھوک ستا رہا تھا نہ پیاس کی شدت، کندھے پر لٹکتا بندوق اور پیٹھ پر بندھے زاد سفر، بوجھل قدم اور چہرے سے چمٹی دھول الگ، ٹٹولنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ پانی کا چاگل بھی ساتھ چھوڑ گیا ہے، بس چند آخری بوندیں پڑی ہیں پیندے میں، دو کتابیں تھیں ان میں سے ایک کے بیشتر اوراق پانی رسنے کی وجہ سے گیلے ہوگئے تھے، وہ سوچ رہا تھا کہ ابھی اگر پیاس کی شدت موت سے بگل گیر ہونے والی ہوتی تو یہ صفحے پھاڑ کے کھا جاتا، تو شاید پیاس بجھا جانے کا کچھ آسرا رہتا!! یہ سوچ کر وہ خوش کن تحیر میں پڑ گیا، ارے پانی تو پیا جاتا ہے، اور صفحے کھانے پڑتے ہیں، پیاس بجھانے کو، لیکن پھر اسے خیال آیا کہ بیاباں میں رہ کر صحرا نوردی کرکے کیا پینا اور کیا کھانا، بس زندہ رہنے کو سہارہ چاہیے، اسے پہلی بار زبان کے ساخت پر غور کرنے کا احساس ہوا، لیکن عارضی تھا اور یہ خیال بھی کافور ہوگیا، اور اسے وہ بحث یاد گئی ایک دفعہ دیوان جاہ میں دوران حال و احوال ایک دوست نے کہا تھا کہ کتاب زندگی دیتی ہے اور بندوق زندگی بچاتی، اس پر خوب بحث و تکرار ہوئی تھی اور دیوان دو حصوں میں بھٹ چکی تھی اور ایوان یعنی دیوان جاہ مچھلی بازار بن گیا تھا، وہ ادھر ادھر دیکھتا رہا، سنگت کہاں سے آئیں گے، وہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہے تھے، چونکہ دو سنگت گٹ چڑھنے سے پہلے اوٹ میں پانی تلاشنے گئے تھے، اسے یہ علاقہ اچھی طرح سے یاد تھا، وہ قریباً ساڑھے تین سال پہلے یہاں سے ہوکر گزرا تھا گو کہ سفر چند ساعتوں کی لیکن یاداشت بھلا کی تھی، ہر گٹ و گزرگاہ پر اسکو یہاں سے ہوکر جانے کی یادیں ستا رہے تھے. وہ یاد کرکے مسکرا رہے تھے جب وہ پہلی اور آخری بار یہاں سے گزرے تھے تو چند لمحوں بعد ان کو دشمن کی موجودگی کی بھنک پڑ گئی تھی اور وہ اگلے چند گھنٹوں تک سب تھکان، نیند کی جان کن خواہش اور چاگل، چاگل اس دن بھی اسی طرح سوکھا ہوا تھا، وہ مسکرا دئیے، وہ یہ سب بھول بھال کر دشمن کی تاک میں گھات لگائے بیٹھے رہے، سورج ڈھل گئی تو وہ تاریکی کو چیر کر دشمن کے بگل سے دبے پاؤں نکل گئے تھے. یہ دشمن کو شکست دینے کا اسکا پہلا تجربہ تھا، اسکے بعد تو یہ گویا روز کا معمول رہا جہاں دشمن سے بچنے اور مقصد سے جڑنے کا سلسلہ جاری رہا، وہ سوچ رہا تھا کہ اصل مسئلہ خطرے کی موجودگی کا نہیں، وہ تو ہر دم پرتو بن کر ساتھ ہی چلتا ہے، اصل بات یہ ہے کہ کونسا خطرہ کتنا شدید ہے اور ترجیحات میں کس کو آگے ہونا ہے اور کس کو پیچھے، بھوک اور پیاس کی شدت دشمن کی موجودگی سے کہیں کم ہوتی ہے، حالانکہ بھوک اور پیاس بھی دورانِ جنگ دشمن کے جانب سے آپکے خلاف لڑتے ہیں، لیکن جب تک دشمن سے محفوظ نہ ہوں بھوک و پیاس کی شدت اس طرح سے محسوس نہیں ہوتی جیسے کہ عام حالات میں ہوتی ہے، اور ہم کیوں بندوق سینے پر سجا کر جد و جہد کررہے ہیں، ہمیں جب دشمن سے ہی لڑنا ہے تو اس دن ہم کیوں دشمن سے لڑے بغیر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر دبے پاؤں نکل گئے، آج وہ پھر اسی بات پر سوچ و بچار کرتا رہا، اسے یاد تھا جب ایک دفعہ پہلے اس پر مختصر سی بات ہوئی تھی تو ایک دوست نے از راہِ مذاق کہا تھا کہ ” ہم اقبالی شاہین ہیں،
جھپٹ کر پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانا،،
وہ اس پر خوب ہنسے تھے اسی دن سے وہ مزاق میں ایک دوست کو اقبالی شاہین کہہ کر چھڑاتے رہتے تھے، وہ سوچ رہا تھا کہ کب خون بہانا ہے اور کب بچانا ہے یہی ایک فیصلہ ہے جو جذبات و اعصاب کو قابو میں لاکر کرنا ہے اور اگر یہ فیصلہ درست ہوا تو نتائج بے نظیر ہی رہیں گے.

وہ شمال میں دو قدرے پست گزرگاہوں کو زہن میں رکھ کر دوستوں کے منتظر رہے، وہ ایک گزرگاہ سے خود ہوکر یہاں تک آئے تھے، اس نے چاگل کو ہلایا، ڈھکن کھولا اور پانی پینے کو ہی تھا کہ یکدم رک گیا. سنگت آئیں گے ان کے پاس تو ضرور پانی ہوگا، ایک کے پاس تو ہوگا ہی ہوگا، وہ دو سنگت ہیں، اگر انہیں قریب میں کہیں بھی پانی نہ ملا تو، چاگل کو دوبارہ بند کرتے ہوئے اس نے تھوک حلق سے اتاربے کی کوشش کی لیکن گلہ سوکھ گیا تھا، اسے احساس ہوا اگر سنگت آئیں اور انکے بھی چاگل خالی ہوں، تو کیا ہوگا، ہوسکتا ہے انکو پانی نہ ملے اور وہ پیاس سے نڈھال کہیں میری طرح سستا رہے ہوں، ہمیں ایک دشمن سے تھوڑا لڑنا ہم نے تو بھوک، پیاس، حدت، سردی، بیماری، بے آسراتی، انا، ضد، بے اصولی، ہٹ دھرمی، من مانی، مادی و مالی خواہشات، دنیا کی للچائی نظروں، ہمیں تو ان سب سے لڑنا ہے، دشمن تو خیر اخیر ہی میں آتا ہے.

وہ مسکرا کر اٹھے اور اٹھ کر گزرگاہ سے قدرے دور جاکر پہاڑوں کے اوٹ میں ایک درخت کے سایے تلے لیٹ گئے، اگر پیاس کی شدت بلا کا ہو تو پانی کم پیو آرام زیادہ کرو اسکے ذہن کے پہیے گھومے جارہے تھے اور وہ خود سے ہمکلام کہہ رہا تھا کہ ہم ہیں عہد کی پابند لوگ، وعدوں کے گرفتار روحیں ہیں ہم، اپنا خون خود بھی پیتے ہیں پانی بنا کر اور زمین کو بھی پلاتے ہیں امرت بنا کر، یہ جنگ ہے اس میں کیا کیا نہیں ہوسکتا، پانی کا نہ ہونا تو روز کا مسئلہ ہے لیکن بسا اوقات تو رگوں میں خون بھی نہیں بچتا سب بہہ جاتا ہے، مٹی کا ہوجاتا ہے سب یار دوست کھڑے بس دیکھتے رہ جاتے ہیں، انکو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اس انجام پر تاسف نہیں کرنا بلکہ یقین کامل رکھنا ہے کہ منزل کے تمام رستے اسی انجام سے ہوکر گزرتے ہیں، لہو کی باریک پگڈنڈیاں، اور پیچھے بچ جاتا ہے ایک احساس، ایک نصب العین اور ایک عہد اور اسی عہد کے ڈوری سے بندھے ہم اور ہماری روحیں، کتنی پرسکون روحیں ہم سے رخصت ہوئیں، مسکراہٹوں کے ساتھ، یادوں کے سایے میں، ہم تو اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں کفن کی ضرورت بھی نہیں ہے، ہم عہد کے چادر میں لپیٹے جائیں گے، وہی سرزمین سے عہد، وفاداری کا عہد اور ہر دم برسرِ پیکار رہنے کا عہد.

عہد سے اسے یاد آیا، کیسے بچپن میں وہ سنتے رہے کہ ہم ایک عہد کے پابند ہیں، اسے اس وقت تو بالکل عہد کی عملی مفہوم کا اس صورت نکلنے کا گماں نہیں تھا لیکن وہی زبان و کلام کی عہد آج ایک عمل بن کر سامنے کھڑی روحوں سے خون کا خراج مانگ رہی تھی، یہ تعین کرنا ہی عہد ہے کہ میرا خون زمین کا ہے، زمین جب چاہے جہاں چاہے اور جس انداز میں چاہے مجھ سے یہ خراج لے سکتا ہے، زمین مقدم ہے اور اس سے جڑے وہ سب تصورات و عقائد بھی مقدس ہیں جو اس زمین کی قرض اتارنے کا سبیل پیدا کرسکیں، میں کون ہوں کیا ہوں کہاں سے آیا اور کہاں تک سفر کرکے پہنچ گیا یہ سب تصورات بے معنی حقیقت یہی ہے کہ میری ابتدا اسی زمین سے جڑنے کی مرحون منت ہے، وہ سوچ رہا تھا اگر میں اپنی ذات میں اس بات کا تعین کرنے بیٹھ گیا کہ میرے خون پر میرا حق ہے، تو زمین کا حق کدھر گیا، اجتماعیت و اشتمالیتی احساس ہر چیز کو تیاگ دینے کا نام ہے، میرے خون کی چھینٹوں سے نسلوں کی نسلیں سنور جائیں گی مگر اس میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس میں میرا نسل ہوگا بھی کہ نہیں میرے بچے اور میرا خاندان، لیکن فرد اور فرد سے جڑے ذمہ داریاں ہم پھر بھی پورا کرنے کو شش کرتے رہتے ہیں، ہم لڑتے بچھڑتے، گرتے اٹھتے، خون اور پسینہ بہا کر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی ذات کی انگ انگ کو قربان کرنے حتی شہید کہلانے کے باوجود اپنی بچوں کی مستقبل کی ضمانت تک حاصل نہیں کرسکتے اور یہی عہد کی اصل مفہوم ہے جو مجھے بچپن میں سمجھ نہیں آیا اور صحیح سے شاید سمجھایا نہیں گیا.
کتنا گھاٹے کا سودا ہے، ہے ناں،
وہ سر ہلائے جارہا تھا، لیکن گھاٹا تو اپنی جگہ یہ سودا بھی تو نہیں، مطلب سودا کیسے ہوگا کہ آپ اپنا سب کچھ دو اور سامنے کوئی عرض اور آرزو بھی نہ رکھ سکو، سودے میں تو ہمیشہ دو طرفہ لین دین ہوتا ہے، یہ عہد ہے، عہد و پیماں اور بس جاں سے گزرجانے کا نام، اگر محلے کے کریانہ کا دکان ہوتا تو نفع نقصان کا سوچتے، کچھ ناپ تول کرتے، لیکن یہاں ہر سودے کی قیمت خون سے ادا کی جائیگی اور ہر عہد کا میثاق صرف لہو سے عبارت ہوگی، سودا بازی اور عہد میں بس یہی ایک فرق ہے سودا دو طرفہ ہے اور عہد یک طرفہ، سب کچھ تیاگنے اور آگے کوئی آرزو نہ رکھنے کا عمل، شہید دلوش کی بالکل آخری چند ساعتیں اور وہ بات چیت جہاں وہ گاڑی میں بیٹھ کر بس رخصت ہی ہونے والے ہیں، اسمیں کسی آرزو کسی گزارش اور کسی خواہش کا شائبہ تک نہیں وہ عہد و پیماں عظمت کے ایک مینارے کے مانند اسکے سامنے کھڑی تھی.

وہ چاروں طرف نظریں گھما گھما کر دیکھتے اور سوچتے جارہے تھے کہ کتنے سنگت تھے جب ہم یہاں آخری بار آئے تھے ان میں سے بہت آج اس سفر کا ایندھن بن چکے ہیں، جنہیں ہم بس یاد ہی کرسکتے ہیں ایسے وقت میں جب دشمن سے نبرد آزما ہونے کی جتن اب بھی جوان ہے وہ کیسے بھولے جائیں گے جنہوں نے عہد و پیماں کو اپنا کفن بنا کر موت سے پہلے خود پر لپیٹ لیا تھا، انہیں ایسے محسوس ہورہا تھا جیسا کہ یہ خون کسی اور کا ہے جو اسکی رگوں میں دوڑ رہا ہے، وہ اپنی سانسوں کو مقروض محسوس کررہا تھا، اب یہ احساس مزید شدت پکڑتی جارہی تھی، وہ بڑبڑاتے ہوئے کہہ رہے تھے، خون سب کا ہے، ایک رنگ کا اور ایک ہی قیمت کا، لیکن مسئلہ ہے تو بس بہاؤ کا، اسکے رخ کا اور عمل و عملداری سے تعلق رکھنے کا، جب دشمن سے لڑائی ہوگی تو سب پیاسے ہونگے، پیاس کی شدت بھی سب کو برابر ستائے گی اور دشمن سے لڑکر جب آخری گولی اپنے سینے میں خود ہی داغی جائیگی تو اس سے بہنے والا خون بھی ایک جیسا رہیگا اور پیاس کی شدت خون کی ان بوندوں میں بھی جھلکتی نظر آئیگی، ٹپکتے لہو کے پیاسے قطرے اور سرخ، غازے کی مانند سرخ، اور سب کی سانسیں ایک ہیں، ہم سب ایک ہیں، زمین کے وارث اور مٹی کے مقروض، لیکن یہ قرض کون اپنی خون سے اور کون کریانے کے دکان پر کھاتہ داروں جیسے انداز میں ادا کررہا ہے، سب ایک ہیں سب غلام ہیں بہت بیگانے ہیں اور کئی دیوانے ہیں. اسے لگا جیسے کوئی اسے تھامے ہوئے کھائی میں گرنے سے بچانے کی کوشش کررہا ہو، اسے محسوس ہوا کہ نیند اس پر غالب ہورہی ہے، وہ اٹھے اور اپنے جاٹ کو اتارا اور سائیڈ پہ رکھ کر اس میں سے خالی خانوں کو گننے کے لیے بیٹھ گیا، سونے کا مطلب دشمن سے اپنی موت کا پروانہ خود ہی لینا تھا، اسے اچھی طرح یاد تھا جب وہ پہلی بار محاز پر آئے تو اسیے یہ تاکید کرکے بتایا گیا کہ جتنا ہوسکے جہاں تک ہو سکے جب بھی اکیلے پڑگئے تو نیند سے بچنا ہے، وہ جاٹ کو ٹٹولنے لگا.
ایک میگزین اور پانچ گولیوں کے خانے خالی ہیں. ہم سے زیادہ تو ہمارے جاٹ بھوکے ہیں، وہ مسکرایا.

وہ یاد کررہا تھا کہ کتنی بار اس نے منت سماجت کئیے، بار بار تعاقب کی، کتنے مباحثے ہوئے کہ ہمارے جاٹ کیوں خالی ہیں، ہمیں مکمل اسباب کیوں فراہم نہیں کئے جاتے، بارہا اسکا ایک ہی جواب تھا کہ ” خون سے سینچنا ہوگا اس فصل کو کہ جہاں لوہے کی گولیاں اور بندوق اگ سکیں، بارود کی فصل کو خون سے سیراب کرنا ہے، اسے یہ سمجھانے کی بارہا کوششیں کی گئیں کہ غلام قوم جب بھیک مانگنے لگے تو اسے اپنی گلزمین کی آزادی پسند سے کسی پرائے کی پراکسی سپاہی بن جانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا” سب دوست اس بات پر خار خار رہتے تھے، وہ کہتے تھے ہمارے بگل میں تو ہے دنیا کے سب اسلحے یہیں سے فروخت ہوتے ہیں، پوری منڈی ہے جو دل چاہے خرید لو جو من چاہے اٹھا لو بس قیمت ہونی چاہیے جیب میں، کتنی سرحدیں ہیں، کچھ تو روایتی حریف اور فطری دشمن بھی ہیں، شمال دیکھ کہ جنوب پر نظر کر، اور مغرب کی تو بات ہی کیا، وہ بلا رہے ہیں سماجت کررہے ہیں، کبھی غلام قوم کی بھی اپنی منشا ہوتی ہے بھلا، ان سب کے باوجود ہمارے جھوتوں کے بخییے ادھڑ چکے ہیں، بندے ہیں تو بندوق نہیں، جسے بندوق دی گئی ہے اسکا جاٹ بھوکا ہے، لیکن سامنے سے ایک ہی جواب ملتی رہتی تھی کہ “نصب العین اور بنیادی مقصد کو گروی رکھ کر اگر سب ساز و سامان حاصل کیا جائے تو اس سامان کا کروگے کیا، ہمیں اپنی مقصد کے حصول کیلئے سامان چاہئیں سامان کی حصول کے لیے مقصد کی قربانی نہیں” بالآخر وہ سمجھ گیا تھا کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت مختلف صورتوں میں ادا کی جاتی ہے اور بلوچ کے پاس بس ایک ہی چیز ہے!!! خون، بس اسی خون سے سب محرومیوں کی قیمت چکانی ہوگی اور اپنی منشا کو سب پر ثابت کرنے کا رستہ بھی بہتے لہو سے ہوکر گزرتا ہے، یہ احساس تفاخرانہ تھا وہ فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنی لہو کی توقیر کا تصور کررہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ اس انمول رکت کی کیا قیمت ہوگی کسی کو اسکا اندازہ نہیں لیکن دوسری طرف یہ خون کس بیدردی اور گھناؤنی انداز میں بلا مقصد لوگوں سے خراج کی صورت لے کر بہائی جارہی ہے. توقیر اور مول کی بات مقصدیت سے نتھی ہے لیکن لہو کی دھار کو مقصدیت سے اگر نہ جوڑا گیا تو کبھی پناہ کی خاطر، کبھی مہمانی کے نام ہر، کہیں امداد کے بہانے تو کہیں چند بندوق و کچھ بارود کی خاطر لہو کا بہاؤ مقصد سے ہٹ جائیگا، “ہٹ جائیگا” وہ اپنے آپ سے گویا ہوئے وہ کب کا ہٹ چکا اور مسلسل ہٹتا جارہا ہے، اسکے قدم بوجھل ہونے لگے، اسے ایک عرصے بعد آج پہلی دفع یہ محسوس ہورہا تھا کہ وہ کمزور پڑچکا ہے، اتنا بڑا مقصد، یہ عظیم نصب العین اور یہ ہماری نادانیاں، وہ جاٹ کندھے پر رکھتے ہوئے سوچ رہا تھا یہ پانچ خانے شائد اس لیے خالی ہیں کہ میں زمین کا وارث ہوں، میرا عہد اسی زمین سے ہے، ہوسکتا ہے کہ اس زمین کی مرکزیت سے ہٹ کر میں کسی اور دھارے میں بندھ جاتا تو میرا جاٹ بھی نیا ہوتا، کپڑے اور جوتے بھی فوجی شان کے ہوتے اور شاید شاید ہم کافی مادی طاقت حاصل بھی کرجاتے، مگر زمین کی وراثت سے ہٹ جانا ہی اصل ناکامی ہے زمین کی مرکزیت سے ہٹ کر کتنا بھی قوت پالو وہ مشروط و مقروض طاقت رہیگی جب تک رہیگی، میرے جاٹ کے یہ پانچ خالی خانے ہی سہی، مگر میں اپنی ضمیر کو شان سے کہہ سکتا ہوں کہ لہو کی توقیر سلامت رہی تو یہ پانچ خانے بھی بھر جائیں گے، نہ سر پہ قرض رہیگی اور نہ عہد پہ کوئی شرط.

وہاں سے اٹھ کر کچھ دیر ادھر ادھر قدم گھماتے گھماتے اس نے اپنی جیب کو ٹٹولا اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ زیر لب کہا، جانے کب آئے گا وہ دن، اسنے سائیڈ کے جیب سے دو گولیاں نکال کر انہیں دیکھنے لگا، وہ برابر مسکرائے جارہا تھا، اسکو یاد تھا جب پاچن کش کے مقام پر دشمن سے مدبھیڑ ہوئی تھی تو ایک سنگت نے سب کو واپس پلٹنے کا اشارہ دے کر خود مورچہ سنبھال لیا، اس رات خاصی دیر تک جھڑپوں کا سلسلہ چلتا رہا، آخر میں گولیوں کی گھن گرج مانند پڑ گئی، اور سب کے اوسان بحال ہوئے تو آہستہ آہستہ سب سنگت چھوٹے چھوٹے جھوکوں کی صورت آگے بڑھے اور آپس میں ملتے رہے مگر ایک سنگت کا کوئی سراغ نہ مل پایا، آج تک انکی لاش تک نہیں ملی، بس جھڑپ کے کئی دن تلاش و کوششوں کے بعد پگڈنڈی کنارے پتھر تلے دبی ایک چھٹی ملی جس میں تحریر تھا،
“الوداع سنگتاں، آج اپنا جیب خالی کئیے جارہاہوں، ناں جیب پہ بوجھ ہوگا نہ ہی روح پر، دو گولیاں میری ہی تھیں اور میرے ہی کام آگئیں، آج ان گولیوں کو تقریباً ڈیڑھ برس ہوئے میرے جیب میں پڑے رہے، اور کبھی داغِ مفارقت نہیں دی، آپ لوگ ہمیشہ کہتے تھے کہ مس فائر ہوئے تو؟ مجھے ایک لمحہ بھی ایسا نہیں لگا اور ابھی تک میں آپکی اس بات پہ اسی طرح مسکرا رہا ہوں جیسے کہ اس وقت مسکراتا تھا، مگر مجھے یقین تھا اور یقین ہے کہ یہ مجھے میری منزل تک پہچا دیں گے، آج یہ ثابت کرنے کا دن ہے، دشمن سامنے آنے سے کترا رہی ہے، پہاڑوں کے اوٹ میں کھڑی وقفے وقفے سے گولیاں برسا رہی ہے، لیکن اب میرے جانے کا وقت آگیا ہے، دل تو کر رہا ہے کہ ان دو میں سے ایک گولی دشمن کی نظر کردوں مگر سوچتا ہوں کہ نہیں. میرے نام پر منصوب یہ دو یارِ غار میرے ہی جگر کے پار.
الوداع سنگتاں الوداع”.

وہ شدید اعصابی تناؤ کے زد میں تھا، وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ لہو کہ اس مثبت ترین دھارے کی بہاؤ کو آج اس طرح کیوں بدلنے کی کوششیں ہورہی ہیں، کچھ دن بعد ان سب عظمت کے معماروں کی دن ہے، تیرہ نومبر یوم شہدائے بلوچ، جہاں ہم شان سے اپنے شہیدوں کو نہ صرف یاد کریں گے بلکہ فخر سے سر بلند کرکے یہ کہہ سکیں گے کہ ہم اسی قطار سے برآمد ہوئے لوگ اور اسی عہد کی مضبوط کڑھی سے بندھے ہیں، ہم شہیدوں کی ارمانوں کے وارث ہیں، لیکن ہم نے نئی نسلوں کی وراثت میں کیا چھوڑا ہے، اسباب کو مقصدیت پر قربان کرنے والوں کی جانشینی کے دعویدار ہم آج اپنے خالی جاٹوں سے گھبرا کر مقصد کو اسباب پر قربان کرنے کی تیاری کررہے ہیں اور اسکو نئی بند و بست کا نام دے رہے ہیں، نہیں ہوسکتے ہم ان شہداء کی وارث کبھی بھی نہیں، جب تک ہم مقصد کو واپس سرزمین کی مرکزیت کے دھارے میں لیکر نہ آئیں تب تک ہم پر دوسروں کی شرطوں پر لڑنے مرنے کے احکامات صادر ہوتے رہیں گے، اور دوسروں کے احکامات پر لڑنا ان تمام شہداء سے ناانصافی ہے جو ساری دنیا کی احکامات نظرانداز کرکے اپنی مٹی پر مر مٹے، انہیں پہاڑ کے گزرگاہ سے کچھ حرکت کرتا ہوا نظر آیا غور کیا تو اس نے دیکھا دونوں سنگت آرہے ہیں، اسنے ہاتھ ہلایا مگر وہ دوسری طرف دیکھ رہے تھے، مخابرہ سے صوتی پیغام آیا مگر بوجوہ اسنے اسکا جواب نہیں پلٹا، اسنے پھر سے اشارہ دیا، تین چار دفعہ اشارے دینے کے بعد سنگت اسکے جانب متوجہ ہوئے، وہ بھی انکے طرف بڑھنے لگے، انہوں نے قریب پہنچ کر انہیں آواز دی آ جاو ادھر پہاڈ کے اوٹ میں کسی سایے تلے بیٹھ جاتے ہیں، وہ آئے اور بیٹھ گئے، بیٹھتے ہی انہوں کہا کہ کچھ پوچھنا چاہتا ہوں، ایک سنگت نے سر کے اشارے سے کہا ہاں، “کیا سرزمین کی مرکزیت سے نکل کر، اپنے آپ پر انحصار کو کم کرکے، کسی اور پرائے قوم بلکہ اپنی ہی دشمن کی پناہ میں بیٹھ کر اور اسکی شرائط پر اور اسکی مہیا کی ہوئی اسباب سے جنگ لڑتے ہوئے کیا خون کی دھارے کو مقصدیت کے ساتھ جوڈا جا سکتا ہے اور اس طرح کے عمل کو اس عظیم نصب العین سے ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے کہ جہاں سب کچھ محض اس لئے قربان ہوا جارہا ہے کہ سرزمین کو دشمنوں سے واگزار کیا جاسکے”؟ ان میں ایک سنگت نے جواب دیا، نہیں، تو وہ دوبارہ پوچھنے لگے، تو پھر اس بندوق کا مقصد کیا ہے، جاٹ میں پڑے ان گولیوں کا مطلب کیا، اس جنگ کا حاصل کیا ہے، اور یہ جد وجہد اسکی اہمیت کیا ہے، اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے کی اس سے بڑی اور کیا چیز ہوسکتی ہے، اچھا میں آپ دونوں سے پوچھتا ہوں کہ مال و اسباب کی خاطر اصولوں آدرشوں اور مقصد کی قربانی دی جاسکتی ہے کیا، یا مقصد ہی مقدم ہے، کیا دشمن سے لڑنے واسطے دشمن کی پناہ میں جانا آدرشوں اور مقصدیت کی نفی نہیں ہے، اگر مقصد مقدم ہے تو اس مقصدیت کے مدار سے ہٹ جانے کی قیمت کیا ان بچھڑے ہوئے روحوں کو نہیں دینی پڑی گی جو عرصہ پہلے مقصد سے جڑے رہ کر خون میں لت پت خاک کے رزق ہوگئے اور ہاں جو لوگ مقصد سے جڑے سرزمین کی مرکزیت پر یقین کرکے اپنے آپ پر منحصر طاقت کی حصول کے لیے کوشاں ہیں کیا یہ قیمت انکو بغیر گناہ کئیے اور شریکِ جرم ہوئے بغیر نہیں چکانی پڑ رہی؟
ایک دوست نے چاگل آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ لو پانی پی لو، پیاسے ہو ناں، لو پی لو پانی، اگر پیاسا نہ ہوتا تو پتہ نہیں کتنے اور سوال کرتے، وہ قہقہہ مار کر خوب ہنسنے لگے، اسنے پانی پیا چاگل کو زمین پر دھرکر کہنے لگے، ہم اس تیرہ نومبر کو ان تمام شہداء کے مقروض ہونگے جنہوں نے اصولوں آدرشوں اور سرزمین کی مرکزیت کو گروی رکھنے کے عوض طاقت پانے کی کوششیں نہیں کیں، بلکہ غلام قوم کی منشا و مرضی کو خون سے طاقتور بناکر اور سرخرو کرکے وہ آج ہمیں قرض دار چھوڑ گئے، یہ یقین مانو کہ آج ہم نے کے ساتھ ساتھ ان تمام بچھڑے ہوئے روحوں کے قرض دار ہیں جو مقصد کو زہن میں رکھتے ہوئے جان سے گزر گئے.

وہ دونوں سنگت سفر کے تھکن سے چور اور نہ بجھنے والی پیاس سے نڈھال اس یقین کے ساتھ سو گئے کہ کوئی تو جاگ رہا ہے، جو آدرشوں اور اصول کا امین ہے، جو دشمن سے باخبر ہے، سو امید کی کرن ابھی تک بجھی نہیں ہے.