2017کا سال بلوچ تحریک آزادی بابت کیسا رہا؟،تحریر: عمر اچکزئی

ہفتہ 30 دسمبر, 2017

موجودہ بلوچ تحریک آزادی قوم دوست رہنما حیربیار مری ، فرزند نواب خیر بخش مری (مرحوم) کی سربراہی میں انتہائی مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ یہ سال بھی بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جنگی جارحیت ، بربریت سے محفوظ نہ رہ سکا۔ پاکستانی فوج نے حسب معمول بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بمباری، پکڑ دھکڑ، مال مویشیوں کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ چونکہ پاکستانی ریاست بلوچ خواتین، بچوں کی گرفتاری ، بڑے پیمانے پر اغوا جیسے جنگی جرائم میں شروع سے ہی ملوث رہی ہے لیکن اس سال ان جنگی جرائم کو بڑے دیدہ دلیری وتیزی کے ساتھ سامنے لائی گئی ۔

بلوچستان کے علاقہ کوہستان مری، ڈیرہ بگٹی، کراچی، کوئٹہ ، مشکے و آواران کے علاقوں سے بلوچ خواتین کو اغوا کیا گیا۔ جن میں چند ایک بلوچ مزاحمت میں برسرپیکار لوگوں کے رشتے دار بھی تھے۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں کوہستان مری کے علاقہ کاہان اور مضافات میں ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں مری اور بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بلوچ خواتین کو دوران فوجی جارحیت اغوا کرلیا گیا تھا۔ ان کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ان کے مغوی خواتین اور بچوں کو پاکستان کی فوج نے راولپنڈی، لاہور،سبی اور کوئٹہ کے ازیت خانہ مرکز جیسے قلی کیمپ میں رکھا گیا ہیں جو کہ اب تک بازیاب نہیں ہوسکے۔

بلوچستان کی مزاحمتی میدان میں گرما گرمی رہی ، بلوچ سرمچاروں نے بلوچ وطن کی دفاع میں پنجابی فوج کا جوان مردی سے مقابلہ کیا۔ بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ریپبلکن آرمی اور لشکر بلوچستان نے پنجابی فوج پر کئی حملے کئے گئے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے غیر مسلح لوگوں کی قتل و غارت گری میں پچلے سال کے نسبت کافی تیزی لاگئی ہے۔

جنگی سطح پر بی ایل اے نے اپنے دو علاقائی کمانڈروں کو تنظیمی نظم و نسق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے پر تنظیم سے معطل کردیا ہے، اس معطلی پر دوسرے بلوچ تنظیموں کا رویہ کافی مثبت رہا بی آر اے ، یونائیٹڈ بلوچ آرمی، لشکر بلوچستان نے بی ایل اے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خود کو دور رکھا ان کی اس دور اندیشی پر بلوچ حلقوں میں کافی سراہا جارہا ہے جبکہ بی ایل ایف کی جانب سے ان دو مزکورہ کمانڈروں کی پشت پناہی کرنے ان پر عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ۔

عالمی سطح پر سیاسی میدان میں بھی کافی گرما گرمی رہی، بلوچستان ہاوس کی جانب سے سوئٹزر لینڈ میں فری بلوچستان کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا گیا ، اس عالمی مہم کے دوران فری بلوچستان کے نام کے پوسٹرز ٹریم، ٹیکسیوں اور شاہراہوں پرچسپا کئے گئے۔ پاکستان نے کافی شور مچایا لیکن ان کا ایک بھی نہ چل سکا۔ سوئس حکومت بالآخر پاکستانی بلیک میلنگ کا شکار ہوتی نظر آئی جہاں انہوں نے بلوچ رہنما مہران مری پر سوئٹزلینڈ میں ان کو بچوں سمیت گرفتاری اور بعد میں داخلے پر پابندی لگائی، اور براہمدغ بگٹی کی سیاسی پناہ کو پاکستانی جنرل باجوا اور چائنا کی طرف سے دباو میں آکر مسترد کردیا گیا ۔سوئس کی اس فیصلے پر تمام بلوچ سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید ترین رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

فری بلوچستان موومنٹ کے سربراہ حیربیار مری اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمدغ بگٹی کے درمیان آزاد بلوچستان اور باہمی تعاون بابت رابطہ ہوا دونوں بلوچ رہنماوں نے مل کر ماضی کے بد گمانیوں اور سیاسی اختلافات کو حل کرنے پر اتفاق کیا۔ ان کے نماہندوں کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ایک ملاقات بھی ہوئی جو کافی خوشگوار اور موثر ثابت ہوا۔
حیربیار مری کے پارٹی نام سے متاثر ہوکر ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن نے لندن میں ایک آگاہی مہم فری بلوچستان کے نام سے شروع کیا ، یہاں بھی ٹیکسیوں، بسوں ، شاہراہوں پر بڑے الیکٹرانک بورڈز لگا کر مہم چلائی گئی ۔ اس مہم پر بھی آئی -ایس- آئی اور پاکستانی حکومت میں کافی تشویش کا اظہار کیا گیا، برطانیہ کے ہائی کمیشن کو طلب کرکے پاکستان نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا لیکن اسے اس وقت منہ کی کھانی پڑی جب برطانیہ نے ان پوسٹرز کو ہٹانے کا صاف صاف انکار کیا ، لندن حکام نے کہا کہ اس مہم کے دوران مقامی قانون کا مکمل احترام کیا گیا لہذا ہم ان بلوچ پوسٹرز کو ہٹا نہیں سکتے۔
لندن کے بعد جاوید مینگل کی ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن نے اپنے اس مہم کو امریکہ تک وسعت دی، نیویارک کے شہروں پر فری بلوچستان کے بینرز راج کرنے لگے، ٹیکسیوں، اور شاہراہوں پر اس فری بلوچستان کے پوسٹرز گھومنے لگے، نیویارک ٹائم اسکوائر پر آویزاں ان پوسٹروں پر بلوچستان میں پاکستان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی بابت تحاریر درج ہیں اور دنیا سے بلوچستان میں مداخلت کی اپیلیں کی جارہی ہیں۔

مجموعی طور پر 2017کا سال بلوچستان کی آزادی کی تحریک کے لئے مثبت اور حوصلہ افزاں رہا۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] آرٹیکلز. RSS 2.0