پاکستان بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی کو فروگ دے رہا ہے ۔ اللہ نظر بلوچ

منگل 6 جنوری, 2015

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستانی آئی ایس آئی فرقہ واریت کے ذریعے بلوچ تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کیلئے بلوچستان میں مذہبی بنیاد پرستوں کی حمایت کر رہی ہے۔بلوچستا ن سے متعدد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔ انہیں عام طور پر گھروں، بسوں، بازاروں سے اٹھایا جاتا ہے اور ان میں سے اکثر کو آئی ایس آئی اور اس کی پراکسی تنظیموں کی طرف سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر بیدردی سے قتل کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں لشکر طیبہ نے حال ہی میں پاکستان آر می کنٹونمنٹ آواران، جہاں ایک بریگیڈیئر پاکستانی فوجیوں کی کمان کر رہا ہے، کے قریب اپنا تربیتی کیمپ کھول رکھا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنچ ڈاٹ کام کو دیئے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویومیں کیا۔انہوں نے پنجابی آباد کاروں پر حملے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ میں دنیا میں کہیں بھی معصوم لوگوں پر کسی بھی قسم کے حملے کی مذمت کرتا ہوں کیونکہ ہم انسانیت سے محبت کرتے ہیں اور اس پریقین رکھتے ہیں۔ لیکن جہاں تک سوال کا تعلق ہے تو وہ شخص جوکہ استعمار کی پالیسیوں کی حمایت اور پانچویں کالم کا کردار ادا کرتا ہے تو بلوچ اسے ایک شریک کار سمجھتے ہیں۔ لہٰذا بلوچ بلا تفریق تعلق نسل ان کے حلیفوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ خواہ وہ نسلاً بلوچ ہو یا کہ ایک آبادکار۔انہوں نے کہا کہ بلوچ تحریک مکمل طور پر ایک سیاسی جدوجہد ہے۔ بلوچ عسکریت پسندی بھی سیاست کے سنہری اصولوں کی پابند ہے۔ ہمارے سیاسی نظریات کا مطلب ہماری سیاسی ریاست ہے؛ ایک جمہوری اور خوشحال آزاد بلوچستان۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچ تحریک آزادی ابتداء ہی سے ایک مقامی تحریک ہے۔ ہم اپنے لوگوں پر انحصارکرتے ہیں جو ہر طرح سے ہماری مدد کررہے ہیں؛ سامان کی ترسیل کے ساتھ ساتھ مالی معاونت بھی۔ ہم اسے فتح تک جاری رکھیں گے۔ اگرچہ عالمی برادری نے بلوچ کی جانب اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں، وہ اپنی عالمی انسانی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہے ہیں اور پاکستان کیخلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں جو بلوچستان میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔وحشی اور بدمعاش پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس نے ہزارہا بلوچ جبری طور پر لاپتہ کیے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کو نافذ کرنے کا پابند ہونے کے باوجود پاکستان ان کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ وہ عالمی برادری کو گمراہ بھی کر رہا ہے۔ لیکن ایک دن عالمی برادری اور آزادی پسند لوگوں کا ضمیر پاکستان کیخلاف جاگ جائے گا۔ یا پھر، مجھے یقین ہے کہ، آزادی کیلئے ہماری مسلسل جدوجہد انہیں جاگنے اور عمل کرنے پر مجبور کردے گی۔ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے مزید کہا کہ میں نے بین الاقوامی میڈیا سے اپنے انٹرویوز میں بارہا اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پاکستانی آئی ایس آئی فرقہ واریت کے ذریعے بلوچ تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کیلئے بلوچستان میں مذہبی بنیاد پرستوں کی حمایت کر رہی ہے۔ پنجگور اور دشت مکران میں لڑکیوں کے اسکولوں کو نذر آتش کرنا؛ مستونگ، خضدار اور کوئٹہ میں بلوچ خواتین پر تیزاب کے حملے؛ آواران اور دشت میں ذکریوں کا قتل عام بلوچستان میں جہادیوں کی موجودگی کی واضح مثالیں ہیں۔ لشکر جہاد، انصار الاسلام آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے آواران میں لشکر طیبہ نے حال ہی میں پاکستان آر می کنٹونمنٹ آواران، جہاں ایک بریگیڈیئر پاکستانی فوجیوں کی کمان کر رہا ہے، کے قریب اپنا تربیتی کیمپ کھول رکھا ہے۔آئی ایس آئی کھلے عام جہادیوں حمایت کر رہی ہے، مالی معاونت اور ہتھیاروں کی فراہمی کیساتھ اور نقد رقم کے ذریعے جسے یورپ، امریکہ اور دیگر ایشیائی اور افریقی ممالک کو منشیات سمگل کرکے حاصل کیا جارہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بلوچ تحریک آزادی کو کچلنا اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے کہ اصل مسئلہ بلوچ تحریک آزادی نہیں ہے بلکہ وہ اسے ایک فرقہ وارانہ مسئلے کے طور پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0