VBMPنے عید کے روز دوپہر دو بجے پریس کلب کوئٹہ سے ایک ریلی نکالنے کا اہتمام کیا ہے۔ماماقدیر

ہفتہ 4 اکتوبر, 2014

کوئٹہ ( ہمگام نیوز)لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 1745دن ہوگئے لاپتہ بلوچ ااسیران شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کرنیوالوں میں بلوچ نیشنل وائس کا ایک وفد لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کی اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بلوچ قومی تحریک کی کامیابیوں اور تسلسل کیساتھ ساتھ پاکستانی اداروں کی بربریت بھی شدت کیساتھ تیزہورہی ہے پہلے سے جاری جبری گمشدگیاں اور لاشیں پھینکنے میں تیزی آچکی ہے جبکہ ریاستی گماشتے لوٹ مار میں اپنے شب وروز ایک کیے ہوئے ہیں گذشہ ایک دہائی سے زائد کے تسلسل نے بلوچ قومی تحریک کو بلوچ عوام میں مقبول بنادیا ہے اور ٓج بلوچ معاشرے کا ہر طبقہ قومی تحریک کے مقصد کیلئے قربانیاں دے کر استحصال اور محکومی کے خلاف قومی تحریک میں شامل ہوچکا ہے جبکہ پاکستان کی بریت اور سفاکیت اور چھ دہائیوں پر محیط استعحصال نے ہر بلوچ گھر کو متاثر کردیا ہے اور بلوچ قوم کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ پاکستانی ادارے اور قومی پرستی کے نام پر ان کے ساتھ تعاون کرنے والے بلوچ قوم کے غلامی کو جاری رکھنے کیلئے بر سر پیکار ہے جس کے خلاف ہر بلوچ کو جدوجہد کے میدان میں اترنا ہوگا تو بلوچ سرزمین پر پاکستانی قبضہ گیر اور ظلم وجبر کا شکار بلوچ قوم نے لاپتہ افراد اور بلوچ شہداء کی یاد مین عید گزارے گی اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے عید کے روز کوئٹہ میں ریاستی ج ارحیت کے احتجاجی ریلی بھی نکالے گی جبکہ گذشتہ مہینوں سے گمشدگیوں میں تیزی لائی گئی ہے ہزاروں بلوچوں کی گمشدگیوں اور ہزاروں سے زائد مسخ شدہ لاشیں وصول کرنے کرنے کے بعد بلوچ قوم کی زندگی کی ہر خوشی اور ہر تہوار جدوجہد کا منظر پیش کررہا ہے مسلسل شہادتوں اور گمشدگیوں نے بلوچ قوم کو پاکستان ک�آخلاف مزید منظم کردیا ہے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ بلوچ اسیران کے لواحقین ب ازیابی کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے عید کے روز دوپہر دو بجے پریس کلب کوئٹہ سے ایک ریلی نکالنے کا اہتمام کیا ہے جس میں اسیران شہداء کے لواحقین اور تمام قوم پرست طلباء تنظیموں سول سوسائٹی اور تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ لاپتہ افراد شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں ماما قدیر بلوچ نے مزید کہاکہ 2001سے لیکر اب تک 20ہزار لوگ لاپتہ ہیں اور لاپتہ افراد چار ہزار سے زائد مسخ شدہ لاشیں بھی برآمد ہوچکی ہیں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں روز بروز شدت سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

image_pdfimage_print

[whatsapp] خبریں. RSS 2.0