لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں میں کہا ہے کہ تاریخ کی راہ گزر پر بعض شخصیات اور جماعتیں ایسی ابھرتی ہیں جو اپنے وجود سے زیادہ اپنی دوغلی حیثیت کے باعث سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ بلوچستان کے اندر موجودپاکستانی پارلیمان پرست سیاسی جماعتیں اس وقت بلوچ سیاست میں ایسے ہی سوالات کی تجسیم بن چکے ہیں۔ ایک طرف وہ خود کو بلوچ قوم پرست کہتے ہیں، بلوچ مفادات کا نگہبان ظاہر کرتے ہیں، اور دوسری جانب اپنی پوری سیاسی جدوجہد کو اس آئین اور اس نظام کے اندر مقید رکھتے ہیں جس کی بنیاد ہی بلوچ سرزمین کی محکومی پر رکھی گئی ہے۔
یہ وہی تضاد ہے جسے فلسفے کی زبان میں سروائیول کا فریب کہا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ کیفیت جس میں ایک محکوم قوم کے نمائندے اپنے وجود کے جواز کو اسی قوت کے اندر تلاش کرتے ہیں جو اس کی غلامی کا سرچشمہ ہے۔ ایسے لوگوں کی سیاست اسی فریب کی عملی صورت ہے، یعنی آدھا پاکستانی، آدھی بلوچ قوم پرستی، آدھا تیتر، آدھا بٹیر۔
سوال یہ ہے کہ یہ سیاسی آدھاپن اور دوغلی پالیسی بلوچ قوم کو کہاں لے جا سکتا ہے؟ کیا اس غلامی کو ذہنی طور پر قبول کرکے کبھی بلوچ قوم کے حقوق حاصل کئیے جاسکتے ہیں؟
حالیہ دنوں بی این پی کے ایک عوامی جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں پندرہ سے زائد بلوچ فرزندوں کا خون بہا۔ یہ سانحہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ پاکستانی قابض ریاست اب اس آدھی اور دوغلی پالیسی کو بھی قابلِ قبول نہیں سمجھتی۔ ریاست کا منشا واضح ہے، بلوچ صرف اس وقت قابلِ قبول ہیں جب وہ شفیق مینگل، سرفراز بگٹی یا چنگیز مری کی طرح مکمل طور پر ریاستی بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ایسا تضاد، جس میں ایک طرف بلوچ قوم پرستی کا لبادہ ہے اور دوسری طرف پاکستانی آئین کا سہارا، ریاست کے لئے ناقابلِ قبول ہے، لیکن اس تضاد کا سب سے زیادہ نقصان بلوچ عوام کو ہے، کیونکہ یہ تضاد ان کے لہو اور قوت کو بے سمت و بے مقصد کر دیتا ہے۔
فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہماری پارٹی اپنے بیانیے کی اساس میں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بلوچ مسئلے کی جڑ “قومی آزادی” ہے۔ گمشدہ افراد کا مسئلہ، بے دریغ شہادتیں، اجتماعی قبریں، سب اسی بنیادی سوال کے سائے میں پیدا ہوئے ہیں۔ اگر بلوچ قوم آزادی کا مطالبہ نہ کرتی، اگر وہ اپنی سرزمین پر مکمل اختیار کا سوال نہ اٹھاتی، تو نہ یہ اغوا کاریاں ہوتیں، نہ گمشدگیاں ہوتیں، نہ خون کی یہ قربانیاں ہوتیں۔ لہذا اصل مسئلہ گمشدگیاں نہیں بلکہ آزادی ہے۔ اور جو سیاست گمشدگیوں کو بنیادی مسئلہ بنا کر آزادی کے سوال کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کرے، وہ دراصل محکومی کو دوام بخشنے کے مترادف ہے اور ایسے آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی پالیسی بلوچ قومی آزادی کے بانیے کو پراگندہ اور متنازعہ بنانے کی بنیاد ہے۔
پاکستانی آئین کے اندر بلوچ قومی حقوق کی حصول کے نعرے لگانے والی یہ پارٹیاں مسلسل یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستانی آئین کے اندر رہ کر بلوچ اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ تاثر دراصل ایک سراب ہے۔ جیسے صحرا میں پیاسا مسافر دور سے پانی دیکھتا ہے، لیکن قریب جا کر ریت کی سختی پاتا ہے، اسی طرح بلوچ عوام کو بھی آئینی ڈھانچوں میں نجات کا فریب دیا جاتا ہے۔ یہ فریب ہی سب سے بڑا زہر ہے، کیونکہ یہ آزادی کے سوال کو ثانوی اور وقتی مراعات کو بنیادی بنا دیتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پارلیمانی طرز سیاست بلوچ قوم کو “وجود” کے سوال سے کاٹ کر صرف “معاش” کے سوال تک محدود کر دینا چاہتی ہے۔ یعنی ایک طرف آزادی، وقار اور خودمختاری جیسے وجودی سوالات ہیں، اور دوسری طرف نلکہ، نالی اور نوکری جیسے معاشی سوالات۔ ایسے لوگوں کی سیاست بلوچ کو وجودی سوال سے ہٹا کر محض معاشی سوال میں الجھاتی ہے۔ لیکن محکوم اقوام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب تک وجود محفوظ نہ ہو، معاش کبھی مستحکم نہیں ہو سکتا۔
پاکستانی ریاست کی پالیسی صاف ہے، بلوچ سرزمین اور اس کے وسائل پر بلا شرکتِ غیرے قبضہ۔ اس مقصد کے لئے وہ کبھی براہِ راست فوجی جارحیت کرتی ہے، کبھی اپنے لے پالک ایجنٹوں کے ذریعے بلوچ عوام کو زیر کرتی ہے، اور کبھی ایسے سیاسی دھڑوں کو آگے بڑھاتی ہے جو آدھی مزاحمت اور آدھی مصالحت کے ذریعے بلوچ تحریک کو تذبذب میں ڈالیں۔ پارلیمانی سیاست کے سائے میں حقوق حاصل کرنے کے دعویداراس تیسرے حربے کی علامت ہیں۔ وہ نہ کھلے دشمن ہیں نہ کھلے دوست۔ اور یہی ان کی سیاست کو زیادہ مہلک بناتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ فری بلوچستان موومنٹ پارلیمانی سراب کے پیچھے بھاگنے والوں سے یہ سوال کرتی کہ وہ اپنی اس معاشی و مراعاتی سیاست کے تحت کتنے سالوں کے اندر بلوچ قوم کو انکے جائز حقوق دلا سکتے ہیں اور کیا وہ تب تک بلوچ قومی شناخت، زبان اور وجود کو قابضین کی یلغار سے بچاپائیں گے یا نہیں؟ کیونکہ بلوچ کے خلاف پاکستانی و ایرانی قابضین کا سب سے بڑا ہتھیار بلوچ قومی شناخت کو ختم کرنا ہے، سروں کی قربانی اور لہو کا بہنا شاید قوم کو اتنا نقصان نہ دے سکیں جتنی کہ شناخت اور وجود کا بحران دے سکتے ہیں، اور تو اور آج سندھ کے اندر بھی بلوچ قوم پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ اپنی شناخت سے دست بردار ہوکر سندھی شناخت کو اپنائیں، یورپین ممالک میں بھی سینسس ہوتے ہیں جہاں ہر ایک سے انکی اوریجن، شناخت، زبان اور کلچرل ویلیوز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تاکہ ہرکسی کےپہچان و شناخت کو الگ سے ریکارڈ کیا جاسکے، لیکن سندھ میں بلوچ بڑی تعدا میں آباد ہونے کے باوجود اپنے شناخت کلچر سے بے دخل کیئے جارہے ہیں۔ پاکستانی پارلیمان پرست اور نام نہاد قوم پرست جماعتوں سے سوال ہے کہ کب تک آپ بلوچ کے لہو کو اس تضاد کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے؟ کب تک آپ آزادی کے سوال کو پس پشت ڈال کر وقتی مراعات کو اصل منزل سمجھتے رہیں گے؟ کب تک آپ ایسے رہنماؤں کے پیچھے چلتے رہیں گے جو ایک ہاتھ سے بلوچ قوم پرستی کا جھنڈا اٹھاتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے پاکستانی پارلیمان میں حلف اٹھاتے ہیں؟ ہمارا یہ یقین ہے کہ بلوچ اگر آج پاکستانی و ایرانی آئینی پریم ورک کے اندر رہ کر محض وقتی مفادات و معاشی مراعات کے لیئے جد و جہد کرکے آزادی کے سوال کو پس پشت ڈال دیں تو ہمارا حال بھی ابوریجن اور ریڈانڈینز جیسی ہوگی اور اپنے سرزمین پر غیروں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے جہاں نہ ہماری شناخت و وجود محفوظ ہوگا اور نہ ہی فیصلہ سازی کا اختیار ہمارے پاس ہوگا۔ قومی آزادی کی بیانیئے کی بنیاد پر سیاسی مزاحمت ہی بلوچ شناخت و وجود کی ضمانت دے سکتی ہے کیونکہ فرد کی قربانیاں اجتماعی مفادات کی نگہبانی کرتی ہیں جب تک اجتماعی مفاداتکی نگہبانی کا سوچ موجود ہوگا بلوچ قومی شناخت و وجود کی تحفظ ہوتا رہے گا۔
بلوچ تحریکِ آزادی کا بیانیہ بالکل واضح ہے، غلامی اور آزادی کے درمیان کوئی درمیانی راہ نہیں۔ محکومی کو آدھا تسلیم کرکے قومی حقوق حاصل نہیں کیئے جا سکتے۔ یہ یا تو سب کچھ ہے یا کچھ بھی نہیں۔ آزادی کا سوال کل بھی بنیادی تھا، آج بھی بنیادی ہے، اور آنے والے کل میں بھی بنیادی رہے گا۔ جو سیاست چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو اگر وہ ایرانی و پاکستانی قابضین سے ملکر بلوچ راجی آجوئی کی بنیادی سوال کو کمزور کرتی ہے، وہ بلوچ عوام کے خلاف ہے چاہے وہ کسی بھی لبادے میں ہو۔
بلوچ سرزمین کے شہداء اور گمشدہ فرزندوں کی قربانیاں ہمیں ایک ہی درس دیتی ہیں، آزادی ہی منزل ہے۔ اگر ان قربانیوں کو محض “انسانی حقوق” کے فریم میں محدود کر دیا جائے تو یہ قربانیاں بے معنی ہو جائیں گی۔ لیکن اگر انہیں قومی آزادی کی جدوجہد کا حصہ سمجھا جائے تو یہی قربانیاں بلوچ مستقبل کا چراغ بنیں گی، کیونکہ انسانی حقوق کی تحفظ ایک آزاد ریاست میں ممکن جہاں بلوچ کو انسان سمجھا جائے جب پاکستانی و ایرانی قابض ریاستیں بلوچ کو انسان ہی نہیں سمجھتے تو انسانی حقوق کا مطالبہ دیوانے کا خواب ہے۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ فری بلوچستان موومنٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ بلوچ پارلیمان پرست اور نام نہاد قوم پرستی کے دعویداروں کو فلسفے اور تاریخ دونوں کے آئینے میں یہ سچائی قبول کرنی ہوگی کہ محکومیت سے نجات کا واحد راستہ آزادی ہے۔ کوئی آئینی ڈھانچہ، کوئی انتخابی عمل، کوئی نیا عمرانی معاہدہ یا کوئی پارلیمانی نشست اس آزادی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ لیکن پارلیمان پرست جماعتوں نے اپنے رویے سے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ بلوچ عوام کو اسی تذبذب میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں جہاں نہ آزادی کی مانگ ہو اور نہ مکمل غلامی کا اعتراف ہو۔ لیکن تاریخ کا پہیہ اس طرح کے تضادات کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرتا۔
بلوچ قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا یا تو وہ اس تضاد میں گھلتی رہے یا پھر اس وجودی سوال کا سامنا کرے کہ آزادی ہی اس کی بقا کی شرطِ اوّل ہے۔ ہم بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سراب کو پہچانیں اور اپنی تمام تر توانائیاں قومی آزادی و کامل اختیار کی منزل پر مرکوز کریں جو ان کے شہداء کے لہو نے روشن کی ہے۔
فری بلوچستان موومنٹ یہ عہد کرتی ہے کہ وہ ہر اس بیانیے کا مقابلہ کرے گی جو بلوچ آزادی کو ثانوی بنانے کی کوشش کرے۔ چاہے وہ کھلے دشمن ہوں یا دوغلی قوم پرستی کے پردے میں آنے والے کردار۔ بلوچ قوم کا لہو آزادی کے سوا کسی اور راہ کو قبول نہیں کرتا، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے تاریخ بار بار ثابت کرتی ہے۔















