ظلم کی زنجیروں میں جکڑا ہوا کوئی بھی قوم اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنی آزادی کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہ ہو یہ قیمت صرف جلسے، نعرے یا قراردادیں نہیں، بلکہ پسینے، قربانی اور خون سے ادا ہوتی ہے تاریخ کے اوراق اس سچائی کے گواہ ہیں کہ ظالم ہمیشہ طاقت کے نشے میں اندھا، مغرور اور بہرا ہوتا ہے وہ انصاف کی فریاد نہیں سنتا، اور نہ ہی امن کی اپیل اس کے دل کو نرم کر سکتی ہے۔ مظلوم جب تک ہاتھ باندھ کر رحم کی امید رکھتا ہے، غلامی اس کا مقدر بنی رہتی ہے لیکن جب وہ بندوق اٹھاتا ہے، پہاڑوں کا رخ کرتا ہے اور چھاپہ مار جنگ شروع کرتا ہے، تب ہی ظالم کے قلعے لرزتے ہیں، اس کے محلات کی بنیادیں ہلتی ہیں اور اس کے خواب بکھر جاتے ہیں شہید نواب بالاچ مری اسی نظریے کے روشن چراغ تھے انہوں نے آزادی کو شاعری یا نعرے کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عملی جدوجہد بنایا• بالاچ مری نے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا، دشمن کو اپنی زمین پر بے چین کیا اور یہ سکھایا کہ اگر آزادی چاہتے ہو، تو میدان میں آؤ پہاڑوں کی خاموشی کو بارود سے گونجاؤ کیونکہ آزادی کا ایک ہی ڈھنگ ہے گوریلا جنگ یہ فلسفہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے ویتنام میں ہو چی منہ کی قیادت میں کسان اور مزدور امریکی فوج کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہے، اور آخرکار دنیا کی سب سے بڑی فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ الجزائر میں احمد بن بیلا اور ان کے ساتھیوں نے فرانسیسی سامراج کو شکست دے کر آزادی حاصل کی افغانستان کے پہاڑوں نے روسی ٹینکوں کو جلا ڈالا اور برطانیہ کے غرور کو خاک میں ملایا یہ سب ایک ہی سبق دیتے ہیں: پہاڑوں اور جنگلوں میں لڑی جانے والی گوریلا جنگ ظالم کو جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے بالاچ مری کی جدوجہد اسی تسلسل کا حصہ ہے انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگرچہ دشمن کے پاس جدید اسلحہ، ٹینک اور فضائیہ ہو، لیکن جب ایک قوم اپنی زمین کے کونے کونے سے مزاحمت کا طوفان برپا کرے، تو دشمن کا کوئی قلعہ، کوئی شہر اور کوئی فوجی اڈہ محفوظ نہیں رہتا وہ جانتے تھے کہ آزادی کا راستہ مشکل ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی واحد راستہ ہے جو غلامی سے نجات دلا سکتا ہے بالاچ مری ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ غلامی ایک زہر ہے، اور گوریلا جنگ اس کا تریاق وہ نوجوانوں کو یہ سمجھاتے تھے کہ پہاڑ صرف پتھروں کا ڈھیر نہیں بلکہ آزادی کے قلعے ہیں دشمن کے لیے وہ خطرہ ہیں، اور آزادی کے متوالوں کے لیے پناہ گاہ۔ وہ جانتے تھے کہ دشمن کو اس کے آرام دہ اڈوں سے نکال کر میدانوں اور وادیوں میں بھٹکانا ہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے گوریلا جنگ کا مطلب صرف لڑائی نہیں بلکہ ایک ذہنی، معاشرتی اور سیاسی مزاحمت ہے۔ یہ دشمن کو ہر محاذ پر غیر محفوظ بنانے کا نام ہے۔ اس میں چھاپہ مار حملے، رسد کے راستے کاٹ دینا، اس کی فوجی نقل و حرکت کو محدود کرنا، اور ہر وقت اسے خوف اور غیر یقینی کی حالت میں رکھنا شامل ہے۔ دشمن کے لیے یہ جنگ ایک ایسا دلدل ہے جہاں اس کا ہر قدم اسے مزید کمزور کرتا جاتا ہے ویتنام: ایک کسان فوج نے جدید امریکی فوج کو پسپا کر دیا۔ الجزائر: نوآبادیاتی طاقت کو عوامی مزاحمت نے شکست دی کیوبا: فیڈل کاسترو اور چے گویرا نے گوریلا جنگ سے انقلاب برپا کیا۔ افغانستان: مقامی مزاحمت کاروں نے روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا یہ تمام تحریکیں ایک ہی بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ گوریلا جنگ صرف عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک کا دل ہوتی ہے بلوچستان کے پہاڑ آج بھی آزادی کے متوالوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ آج بھی نوجوان شہید نواب بالاچ مری کے راستے پر چل رہے ہیں، پہاڑوں سے دشمن پر کاری ضرب لگا رہے ہیں، اور یہ ثابت کر رہے ہیں کہ آزادی صرف خواب نہیں بلکہ قربانی اور استقامت سے حاصل ہوتی ہے یہ تحریر اُن تمام بہادروں کے نام ہے جو آج بھی اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں وہ جو پہاڑوں میں چھپ کر زندگی نہیں گزار رہے بلکہ وہاں سے دشمن کے دلوں میں خوف پیدا کر رہے ہیں۔ وہ جو اپنے خون سے آزادی کی تاریخ لکھ رہے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں غلامی کا ذائقہ نہ چکھیں جو قوم مرنے کے لیے تیار ہو، اُسے کوئی طاقت غلام نہیں رکھ سکتی پہاڑوں میں گونجتی گولی کی آواز، آزادی کا اعلان ہے فیصلہ کرنے کا وقت کبھی آسان نہیں ہوتا، لیکن جب کوئی قوم فیصلہ کر لے تو کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی گوریلا جنگ وہ راستہ ہے جس نے تاریخ میں ہر مظلوم قوم کو طاقتور سامراج کے سامنے سر اٹھانے کا حوصلہ دیا اور آج بلوچ قوم کے لیے بھی یہی واحد راستہ ہے کیونکہ آزادی کا ایک ہی ڈھنگ ہے: گوریلا جنگ•