وہ پہاڑ جن پر میرا قدم نہیں پڑا، وہ صحرا جن کی تپش میرے ہاتھوں نے محسوس نہیں کی، وہ وادیاں جن کی ہوا نے میرے چہرے کو نہیں چھوا، اور وہ بہادر سپاہی جن کی آنکھوں سے میری نظریں کبھی نہیں ملیں مگر میں ان سب سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔ یہ کوئی عام سی محبت نہیں، یہ تو ایک عہد ہے، قربانی کی ایک داستان ہے، یہ عشقِ آزادی کی وہ لازوال کہانی ہے جو میرے رگ و پے میں دوڑ رہی ہے. مجھے بلوچستان کے ان سربلند پہاڑوں سے عشق ہے، جو دشمن کے فولادی پرندوں اور آہنی توپوں کے دھماکوں کے باوجود اپنی عظمت پر قائم ہیں۔ یہ پہاڑ گواہ ہیں کہ ان کے دامن میں کھیلنے والے بیٹوں نے اپنی لہو کی ہولی کھیلی مگر سر کبھی نہیں جھکایا ان چٹانوں سے ٹکرا کر واپس لوٹنے والی ہر للکار، دشمن کے ایوانوں میں زلزلہ بندھا دیتی ہے میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، مگر یہ پہاڑ میرے ایمان کا حصہ ہیں، میری ہمت کا ستون ہیں. مجھے ان ریگزاروں کی دہکتی ہوئی ریت سے پیار ہے، جہاں دشمن کی جدید ترین جنگی مشینیں بھی اپنی حسرت لے کر دم توڑ دیتی ہیں، مگر ایک ننگے پاؤں مجاہد کی آواز ہی دشمن کے ہوش اڑا دیتی ہے یہ ریت کے ذرّے شاہد ہیں کہ کس طرح یہاں کے فرزندوں نے غلامی کی بیڑیاں چکنا چور کی ہیں۔ اگرچہ میں نے اس ریت کو اپنی ہتھیلی پر کبھی محسوس نہیں کیا، لیکن اس کی ہر کنی میرے خون میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہے. بلوچ سرمچار وہ راہِ آزادی کے وہ مسافر، جن کے چہروں کو میں نے نہیں دیکھا، جن کے نام شاید وقت کی دھول میں دب جائیں، لیکن ان کے قدموں کی چاپ، ان کی بندوقوں کی کڑک اور ان کے آزاد بلوچستان کی گونج میرے خوابوں میں گونجتی ہے وہ پہاڑوں کے شیر ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین کی خاطر ہنستے ہنستے جامِ شہادت پیا، پر غلامی کا زہر کبھی نہ پیا ان کی زندگی بھوک اور پیاس کی صلیب ہے، مگر ان کے سینوں میں آزادی کا سورج ہمیشہ بلند رہتا ہے سرمچار محض جنگجو نہیں، وہ قوم کی غیرت کے پیکر ہیں جب وہ گھاٹیوں میں گھستے ہیں تو ہوائیں بھی ان کے قدم چومتی ہیں جب وہ دشمن پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں تو پوری وادی ایک خوفناک خاموشی میں ڈوب جاتی ہے وہ دشمن کی ٹینکوں کے سامنے ایک ایسی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں جو فولاد سے بھی مضبوط ہے، اور اپنی بندوقوں سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ دھرتی آزاد پیدا ہوئی ہے اور آزاد ہی رہے گی میری محبت ان بلوچ سرمچار سے اس لیے ہے کہ وہ موت کو اپنی آغوش میں بسانا جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ غلامی کی زندگانی سے شہادت کی موت کہیں بہتر ہے وہ اپنے لہو سے تاریخ کے اوراق سرخ کرتے ہیں، اور اپنی قربانیوں سے آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کا سورج روشن کرتے ہیں اگرچہ میں نے ان پہاڑوں کو نہیں دیکھا، ان صحراؤں میں نہیں چلا اور ان سنگتیون سے کبھی نہیں ملا، لیکن میری روح ان کے ساتھ ہے کیونکہ آزادی کی جنگ محض میدانوں میں نہیں لڑی جاتی یہ تو ہر اس دل میں لڑی جاتی ہے جو ظلم کے آگے جھکنے سے انکار کر دے بلوچستان کے پہاڑ، صحرا اور بلوچ سرمچار میری محبت ہیں یہ محبت بندوق کی آواز میں گونجتی ہے، یہ محبت شہیدوں کے لہو میں رچی بسی ہے، یہ محبت اس سرزمین کے ہر ذرے میں موجود ہے اور جب تک یہ بلوچ سرمچار پہاڑوں میں اپنا عزمِ صمبھالے کھڑے ہیں، تب تک دشمن کی ہر چال بے کار ہے اس کا ہر حربہ ناکام ہے آزاد بلوچستان