اے بلوچ فرزندو! اے عظیم بلوچستان کے وارثوں مکران کی زمین سے لے کر گیاوان تک پورے متحدہ بلوچستان کے باشندوں اب وقت آ گیا ہے کہ غفلت کی نیند سے جاگو اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لو آج تفرقہ اور انتشار ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور وہی ہتھیار جس سے یہ قوم شکست کھا سکتی ہے وہ ہمارے اندرونی اختلافات ہیں۔ بلوچستان کی تاریخ ایسے ناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اس قوم کی شان و غیرت کو معنی دیا سردار جیسے میر چاکر رند میر حمزہ خان بلوچ میر دوست محمد خان شہید بالاچ خان امیر عبدالمالک اور درجنوں دیگر بہادر جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں تاکہ بلوچستان کی زمین قابض کے ہاتھوں میں نہ جائے علما جیسے مولانا کوہی مولانا نقشبندی اور دیگر آزادی پسند علماء نے بھی سینہ سپر کیا اور قابضین کے سامنے ڈٹے رہے انہوں نے اپنی جانیں دیکر بلوچ کی عزت کو برقرار رکھا مگر آج تلخی کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ وقت کے کچھ سردار اور علما انہی بزرگوں کے نام کے دعوے تو کرتے ہیں اور خود کو ان شہیدوں کا وارث کہلاتے ہیں مگر عمل میں وہ دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا چکے ہیں ایران اور پاکستان کے قابضین کے ساتھ مل کر اپنی قوم کی زمین ناموس اور مستقبل سے پیٹھ موڑ دی ہے انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے فخر کے بجائے شرمندگی اور بدنامی کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔ ہم ان شہیدوں کے سچے فرزند ہیں نہ وہ جو صرف نام پکار کر رہ جاتے ہیں بلکہ وہ جو ان کے راستے کو جاری رکھتے ہیں اگر بلوچ آج متحد ہوں اگر بلوچستان ایک آواز بن کر اٹھ کھڑا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارے خلاف کھڑی نہیں رہ سکتی۔ عظیم بلوچستان کوئی محض تصور نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے ایک حقیقت جو ہمارے اتحاد میں زندہ ہوگی ہم ایک قوم ہیں ایک خون ہیں ایک زبان ہیں اور مارا ایک مقصد ہے آزادی اور بلوچستان کی عظمت۔ آئیے بلند آواز سے اعلان کریں اب نہ قابض ایران ہمیں خاموش کر سکے گا نہ قابض پاکستان ہمیں دباتا رہے گا متحدہ بلوچستان ایک ناقابلِ شکست قوم ایک قوم جو بلوچستان کے سمندر کی مانند بے کنار اور کوہِ تفتان جیسی آتش فشاں ہے اے بلوچ اپنے بھائی اور بہنوں کا ہاتھ تھامو قبیلوں کو پیچھے رکھو تفرقہ کو دفن کر دو کیونکہ ہم سب بلوچ ہیں اور اسی بلوچستان کی اولاد ہیں ہماری آزادی کا دن وہی ہوگا جب ہم سب ایک ہی آواز بن جائیں گے ہماری طاقت کا دن وہی ہوگا جب ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ اگر بلوچ متحد ہوں تو قابضین کی بنائی ہوئی جعلی سرحدیں انہیں محدود نہیں کر سکتیں۔ اٹھو عظیم بلوچستان کے لیے اٹھو اٹھو اتحاد کے لیے اٹھو اٹھو اُس مستقبل کے لیے اٹھو جہاں بلوچ آزاد سربلند اور ناقابلِ شکست ہوں۔