لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے صدر اور بلوچ آزادی پسند رہنما حیربیار مری نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں پاکستان پر افغانستان اور بلوچستان میں مبینہ جارحیت کے بارے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بارہا افغانستان میں شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے اور ڈرون کارروائیاں کر چکا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہیں۔ ان کے بقول عالمی برادری کی خاموشی پاکستان کو مزید کارروائیوں کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

حیربیار مری نے ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ یہ سرحد برطانوی دور میں افغانستان اور بلوچستان کی جبری تقسیم کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان مؤرخین کے مطابق امیر عبدالرحمن خان نے اس معاہدے کو قبول نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس پر دستخط کیے تھے، جبکہ افغان عوام مختلف ادوار میں لویہ جرگہ کے ذریعے اس کی حیثیت کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بلوچستان سے متعلق بھی پاکستان پر “غیر قانونی قبضے” اور بلوچ عوام کے خلاف مبینہ زیادتیوں کے حوالے سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان اور بلوچ عوام کو ماضی کی طرح ایک بار پھر متحد ہو کر مزاحمت کرنی چاہیے۔

اپنے بیان میں انہوں نے تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچوں نے ماضی میں افغان حکمران میر ویس خان ہوتک کی صفوی سلطنت کے خلاف جدوجہد میں ساتھ دیا اور مختلف معرکوں میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے قلات اور خان محراب خان کی برطانوی افواج کے خلاف مزاحمت کا بھی حوالہ دیا۔ حیربیار مری نے مزید کہا کہ جب بلوچستان آزاد ہو جائے تو وہ اپنے ہمسایہ ممالک، خصوصاً افغانستان اور بھارت، کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بلوچستان کے وسائل کو استعمال کر رہا ہے اور انہیں اپنے طور پر عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور بعض مسلم ممالک پر بھی تنقید کی کہ وہ بعض عالمی معاملات پر تو آواز اٹھاتے ہیں، مگر ان کے بقول بلوچستان اور کردستان کے مسائل پر خاموش ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی اور سفارتی کشیدگی کے حوالے سے مختلف دعوے اور بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔