لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کے صدر اور بلوچ آزادی پسند رہنما حئیربیار مری نے پاکستان کی جانب سے افغانستان پر مبینہ بلاجواز اور اشتعال انگیز حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں کسی خودمختار ملک کے خلاف عسکری کارروائی نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اسلامی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب افغان عوام اپنی سرزمین کے دفاع میں ردعمل دیتے ہیں تو انہیں مذہب کے نام پر تنقید اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ یہ حقیقت نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ کشیدگی کا آغاز کس جانب سے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض پاکستانی مذہبی و سیاسی حلقوں کی جانب سے افغانوں کے ایمان پر سوال اٹھانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

حیربیار مری نے کہا کہ خطے کی تاریخ کو سیاسی مقاصد کے لیے مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے بعض کردار آج خود کو اسلام کا محافظ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اندرونِ ملک بلوچ اور پشتون اقوام کے خلاف ماورائے عدالت اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات بدستور موجود ہیں، جن کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے افغان وزیرِ خارجہ کے دورۂ بھارت پر ردعمل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر مرتب کرے اور جس ملک کے ساتھ چاہے سفارتی تعلقات استوار کرے۔ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ افغانستان کو اپنی پالیسیوں کے تابع سمجھے یا اس کی خودمختاری پر سوال اٹھائے۔

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم تاریخی طور پر افغان عوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات رکھتی آئی ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے، خودمختار ریاستوں کے احترام اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔