کیا بلوچ اس طلائی موقع سے فاہدہ اُٹھاسکیں گے یا حسب سابق ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر کھائی میں گرنے کے بعد ایکدوسرے پر الزامات لگانے کا روش برقرار رکھیں گے ؟ )
بظاہر دیکھا جائے یہ ایک عام سا معاہدہ ہے جو اکثر ممالک اپنے قومی مفادات کے پیش نظر کرتے رہتے ہیں مگر حالیہ پاکستان سعودی عرب معاہدہ کئی حوالوں سے بہت خاص ہے پہلے یہ کہ یہ دونوں کے نقصان میں ہے تاہم سعودی کے کم پاکستان کے زیادہ نقصان میں ہے کیونکہ اس معاہدے کی وجہ سے سعودی عرب کے چند ارب ڈالر ضائع جائیں گے جنکی اس پاس کمی نہیں جبکہ پاکستان کے لوگ مریں گے ہمسایہ جو پہلے سے تپے ہوئے ہیں مزید ناراض ہوجائیں گے عالمی طور پر اسکے فوجی ایک بار پھر کرایہ کے سپاہی کہلائے جائیں گے۔ مگر جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے اس کا اُن لوگوں کو زرا بھی پرواہ نہیں کیونکہ سعودی عرب جو اربوں ڈالر دے گا وہ انکے جیبوں میں چلا جائے گا اور لاشیں عام لوگوں کے گھروں کوجائیں گی چاہے وہ افغانستان سے آئیں یمن سے آئیں سعودی عرب سے آئیں یاکہ خیبر پختونخواہ یا بلوچستان سے ۔
معاہدے کی ضرورت کیوں پیش آئی : ویسے عام تاثر یہی ہے کہ یہ معاہدہ آناً فاناً قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہوا ہے مگر حقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ اس نوعیت و اس سطع کے معاہدات کھڑے کھڑے جلدبازی میں نہیں کئے جاتےاس کے لئے بھرپورتیاری کی جاتی ہے اس کے تمام پہلوؤں پر غور و غوض کیا جاتا ہے ۔اپنے قومی مفادات کیساتھ ساتھ دوسرے کئی فیکٹرز پر بھی غور کیا جاتا ہے کہ وہ جو دستخط کرنے جارہے ہیں وہ مستقبل میں کسی بھی پہلو سے نقصان کا باعث تو نہیں بنیں گے وغیرہ وغیرہ پھر جاکرسربراہاں مملکت دستخط کرتے ہیں لیکن تاہم پاکستان کے بارے میں یہ ساری باتیں نہیں کہی جاسکتی ہیں کیونکہ اس ملک میں حکمرانوں کی دو بُری عادتیں ہمیشہ سے رہی ہیں پہلا یہ کہ یہ لوگ فیصلہ پہلے اور اُس پر سوچ و بچار بعد میں اُس وقت شروع کرتے ہیں جب نتیجہ برعکس نکلے دو سرا یہ قومی مفادات کے معاملات کو بھی اپنے ذاتی مفادات کے تابع دیکھتے ہیں اگر ملک کی تقدیر بدلنے والی کوئی منصوبہ یا کوئی معاہدہ ہو پھر بھی وہ اُس وقت تک اُس پر دستخط یا اُسکی منظوری نہیں دیتے جب تک اُن کا اپنا چائے پانی فکس نہیں ہوا ہے ۔یہاں تو چائے پانی کیساتھ سعودی سلیق ،مندی اور کِستہ ،مکبوس بھی ساتھ تھاپھر کیسے اس پر آناً فاناً دستخط نہیں ہوتے ۔
اصل قضیہ یہ ہے کہ امریکہ اپنے کئی ایک غلطیوں سے بُری طرح پشیمان ہے اور اُنکی اصلاح کا خواہاں ہےسب سے بڑی غلطی افغانستان سے عجلت میں انخلا ہے جس نے نہ صرف اسکے عالمی یکتا سربراہ ہونے پر سوال کھڑے کئے بلکہ نادانستہ طور پر اپنے سخت تریں حریف چین کیلئے میدان خالی کیا اس پر افغانستان سے انخلا سے بہت پہلے اپریل دوہزار اُنیس سے فروری دوہزار ایکیس تک ہم نے مضامین کا ایک سیریز اس موضوع کو وقف کرکے (ا)امریکہ طالبان امن مذاکرات یا نئے جنگ نا تمام کا اہتمام (ب) پریشان امریکہ الجھا ہوا پاکستان اور لہولہان افغانستان (پ) مسلہ افغانستان ! امریک ،روس ،چین کا ادراک اور پاکستان کی نت نئی چالیں (ت) افغان مسلہ حل بارے امریکہ کا ایک اور غلط فیصلہ (ٹ) اغیار کے ہاتھوں یرغمال بین الافغانی مذاکرات(ث ) مسلہ افغانستان !امریکہ کے عالمی اعتبار کو درپیش چیلنج (ج) افغان مسلے کے حل کا سنہری موقع اور امریکہ کے بصیرت کا امتحان(چ) افغان قضیہ : ماسکو کانفرنس امریکہ کیلئے اصلاح احوال کا بہترین راہنمائی جیسے کئی ایک مضامین میں چین کا اثرو رسوخ بڑھنے کے امکانات اور خطے میں رونما ہونے والے گھمبیر صورتحال پیدا ہونے کے امکانات و خدشات پر کھل کر لکھا جن کو آج موجودہ امریکی صدر مسٹرٹرمپ اظہار تاسف کیساتھ دہراتے رہتے ہیں ۔حیرت ہوتی ہے کہ جو چیز ہم جیسے محدودمعلومات تک رسائی رکھنے والے دیکھ رہے تھے امریکی تھنک ٹینک اور پوری دنیا کی خبر رکھنے والے امریکی و اتحادیوں کے اداروں کے لوگ کیوں نہیں دیکھ پائےجو آج کھیل کو پھر وہاں سے شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں سے چھوڑا تھالیکن یہ دیکھنے اور جاننے کی زحمت نہیں کرتے کہ ان پانچ برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے کھیل کے رولز سے لیکر کھلاڑیوں کی پوزیشن تک ۔
لیکن اب یہ اصلاح احوال امریکہ کیلئے اکیلے مشکل ہے کیونکہ جب پہلی بار وہ دوہزار ایک کو افغانستان آیا تھا تو اُسے تقریباً پوری دنیا کی حمایت حاصل تھی گیارہ ستمبر کے واقعات نے اس کے لئے زمین ہموار کیا تھادوسرا امریکہ کی مالی حالت بھی اتنی خراب نہیں تھی جتنی اب ہے جو داخلی قرضہ سینتیس اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر کے قریب آچکے ہیں تیسرا اُس وقت چین کا حصہ گلوبل مینی فیکچرنگ میں سات اعشاریہ ایک فیصد تھا جبکہ آج ستائیس اعشاریہ سات فیصد اور پوری دنیا میں چار اعشایہ چھ چھ ٹریلین ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر براجمان ہے جبکہ امریکہ دو اعشاریہ نو ٹریلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اُس وقت نہ ہی وہ اور روس اتنے قریب آچکے تھے جو آج امریکہ کے غلطیوں کی وجہ سے قریبی اتحادی بن چکے ہیں نہ امریکہ کے اتحادی یورپی یونین و نیٹو ممالک کسی ایسے بحرانی صورتحال سے دوچار تھی جو اب یوکرائن میں جنگ کی وجہ سے ہیں اور تو اور امریکہ کے تعلقات اپنے دوست کینیڈا اور ڈنمارک جیسے ممالک سےسردمہری کا شکار بھی نہیں تھے چوتھا تقریباً سارے سرمایہ دار عرب ممالک اُس کے ساتھ تھے اور اُنھوں نے امریکی جہاد کو افغانستان میں سپانسر کیا پانچواں اُسکا اتحادی پاکستان داخلی طور پر اتنے مشکلات میں نہیں گرا ہواتھا جو اب ہے۔پاکستان کی حالت ایسی مخدوش ہے کہ بلوچ آزادی سے کم کوئی بات کرنے تیار نہیں اور اس کے لئے وہ ہنستے ہنستے جانیں بھی قربان کررہے ہیں اور نہ پشتونوں میں قومی سلامتی و بقا کی شعور اس سطع تک تھی جو اب پی ٹی ایم کی کوششوں کی بدولت ہے کہ وہ سرحد کے دونوں طرف مختلف ناموں اور مختلف پرچم تلےمرنے کیلئے راضی نہیں جو ایسی صورتحال میں پاکستان کے اثاثہ تھے جو اُنھیں جہاں چاہتا خان بہت دلیر و بہادر کہکر توپوں کے گولوں کے سامنے کرتا اور خان بہادر کے پرخچے اُڑ کر تابوت میں واپس گھر بھیجے جاتے۔امریکہ کیلئے اس مایوس کن صورتحال کے باوجود اُسے اس ریجن میں اپنے منصوبوں کیلئے پاکستان سے بہتر کوئی اور نظر نہیں آرہا ہے۔حالانکہ ٹرمپ سمیت امریکہ کے دیگر بڑی شخصیتیں بار بار اس ملک کیلئے ایسے ریمارکس دے چکے ہیں کہ یہ ہمارے ساتھ دہرا کھیل کھیل رہا ہے بلکہ یہاں تک بھی کہتے سُنے گئے ہیں کہ ہم سے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے پیسہ لیکر ہمارے خلاف دہشتگرد پیدا کرکے استعمال کرتا ہے مگر دوسرا آپشن نہ دیکھکر اس لئے قطر میں حماس قیادت کو خود بلاکر اسرائیل کے زریعے خونی ڈرامہ رچا کر اس معاہدے کے عجلت میں دستخط کرانے کو جواز فراہم کیا ۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان اور سعودی عرب ایک فریق پر حملے کو دونوں پر حملہ سمجھ کر مل کر اُس کا دفاع کریں گے۔گوکہ یہ بات بہت اچھی لگتی ہے مگر نہ پاکستان سعودی عرب پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کے خلاف لڑے گا اور نہ سعودی عرب پاکستان ہندوستان جنگ کی صورت میں اپنی فوجیں ہندوستان کے خلاف میدان میں اُتارے گا ہاں البتہ شاید مالی معاونت کرے اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان امریکہ سے معاہدے کے تحت ہندوستان کے خلاف اپنے ایف سولہ طیارے استعمال نہیں کرسکتا ہے تو وہ اُنھیں اسرائیل کے خلاف کیسے استعمال کرے گا ؟کیا وہ اپنے شاہین دو اور تین ابدالی سمیت سعودی عرب میں نصب کرے گا جہاں سے وہ اسرائیل کو ہدف بنا سکتے ہیں کیونکہ پاکستان سے یہ میزائل اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟ یہ اتنا غیر سنجیدہ سوال ہے کہ اسے سامنے رکھنا اچھا نہیں لگتا اس پر بحث و تبصرہ کرنا تو دور کی بات ہے توپھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس معاہدے سے امریکہ ،سعودی عرب اور پاکستان کیا کیا چاہتے ہیں ؟ ۔جیسے کہ اوپر تذکر ہوا کہ امریکہ کو افغانستان میں واپسی کیلئے پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے وہاں داعش اور دیگر مذہبی گروپوں کی مدد سے خانہ جنگی کا پھر سے آغاز کرانا ہے تاکہ وہاں جنگی صورتحال پیدا ہو جسکی وجہ سے چین اور روس سرمایہ کاری کر کے جڑ نہ پھیلائیں پاکستان اس تناظر میں ہندوستان کو دیکھتا ہے جس نے پہلے دؤر حکومت میں تین بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی تھی اور اب پھر طالبان کیساتھ تعلقات بہتر کرکے اپنے ادھورے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے جو ظاہر ہےجنگ کی صورت میں آگے نہیں بڑھ پائیں گے ۔ایسے میں جب پاکستان امریکہ کے سبوتاژی منصوبوں کا حصہ بنے گا اور یقیناً بنے گا کیونکہ سعودی سیکورٹی کنٹریکٹ کے نام پہ یہ پروجیکٹ اُسے ایڈوانس کی شکل میں دلوایا گیا ہے تو اس سے چین کی ناراضی طے ہے کیونکہ اب اس ریجن میں حالات اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں کہ پاکستان کیلئے چین اور امریکہ دونوں کو راضی کرنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ اب بات صرف تجارت اور مالی مفادات کی نہیں بلکہ خطے میں اثر ورسوخ اور اپنی حیثیت منوانے کی ہے اگر امریکہ اپنے ڈگمگائے ہوئے وقار کی بحالی کی تگ ودو میں ہے تو چین اور روس برکس ممالک کیساتھ ملکر نئی سیاسی و اقتصادی عالمی نظالم کیلئے صف بندیوں میں مصروف ہیں کہ جنکے نتائج بھی تاحال حوصلہ افزا ہیں ۔چین اپنے دیرنہ اتحادی پاکستان کو اچھی طرح جانتا ہے اور امریکہ کے لومڑی جیسی چالوں سے بھی واقف ہے اس نازک وقت میں چینی کسی بھی ڈبل گیم کو برداشت نہیں کریں گے اور امکان ہے کہ اُنکا رویہ بھی سخت ہوجائے ۔
جہاں تک سعودی عرب کا سوال ہے وہ ان پاکستانیوں کو لے جاکر اُنھیں یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑائے گا جس کا اثر براہ راست پاکستان ایران کے تعلقات پر پڑیں گے جس سے اس بات کا احتمال زیادہ ہے کہ پاکستان میں پھر سے فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں گے جو پاکستان کے پہلے مخدوش حالات کو اور خراب کریں گے۔پہلے اگر آگ پر صرف ایران اور کچھ عرب ممالک امریکہ کے کہنے پر تیل چھڑکتے تھے اب اگر پاکستان نے اسی طرح افغانستان کو دشمن ملک کہکر اس کے اندر ریشہ دوانیاں کیں جو امریکہ چاہتا ہے تو پاکستان میں فرقہ واریت کے آگ پر طالبان بھی زوردار پھونک ماریں گے ۔
مذکورہ معاہدے سے جو صورتحال بننے جارہی ہے اُس سے بلوچ قوم بھرپور فاہدہ اُٹھا سکتی ہےکیونکہ اب وہ دنیا کی نظروں میں ایک بار پھر آنا شروع ہو ئے ہیں ۔اگر چین اور پاکستان بلوچ عسکری قوتوں کو دہشتگرد قرار دینے کی تگ ودو میں ہیں تو دوسری طرف امریکہ ،برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کا بلوچوں کے خلاف قرادادوں کے خلاف ووٹ دینا یا اُنکے خلاف کسی فیصلے کو تعطل میں رکھوانا توجہ مبذول کرنے بہت بڑی مثبت نشانی ہے جو ماضی قریب میں خود بلوچ عسکری قوتوں کے خلاف سخت فیصلے کرتے رہے ہیں ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں بڑی قوتیں امریکہ اور چین اُسے چلینج سمجھنے لگے ہیں گویا پاکستان سے حالات بے قابو ہونے کی صورت میں بلوچ قوم میں ممکنہ حلیف بھی دیکھنے لگے ہیں ۔ اس توجہ اور نرم گوشہ پیدا ہونے کے آثار کے باوجود شرط یہ ہے کہ تمام بلوچ آزادی پسند قوتیں ملکر ایک فحال و موثر کمیٹی تشکیل دیں جس میں تمام گروپوں میں سے دو تین ممبر زشامل ہوں جو تمام قومی سطح کے معاملا ت بارے متفقہ رائے قائم کرکے دنیا اور قوم کے سامنے رکھدیں ۔ جہاں تک پشتونوں کی بات ہے وہ ابھی تک حق مانگتے ہیں اور اُنھیں اُمید ہے کہ پاکستان اُنھیں پُرامن طریقے سے حق دے گا لیکن چونکہ کوئی مانگنے سے حق نہیں دینے والا تو اُنکی بے چینی اور بڑھے گی تاہم اگر پشتونوں نے بھی اپنے بلوچ بھائیوں کی طرح حقیقی طور پر آزادی کا نعرہ لگایا تو اس خطے کا نقشہ بدلنا نوشتہ دیوار ہے۔ (ختم شُد )















