ہمگام کالم : طالبان حکومت کے خاتمے سے لیکر 2018 تک امریکی حکام طالبان کو دہشتگرد کہہ کر اُن سے کسی بھی قسم کے گفت و شنید کو خارج از امکان قرار دے رہے تھے ۔پھر اچانک اُنکے بیانیے میں تبدیلی آئی اور طالبان کیساتھ گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔اس سے پہلے کہ بحث کو آگے بڑھائیں پہلے دو سوالات کا جواب دینا لازمی ٹھہرتا ہے پہلا مذاکرات شروع کرنے میں کونسی قوت اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹا ؟ دوسراکونسی قوت آج کہاں کھڑی ہے ؟ تاکہ انکی اہمیت و برآمد نتیجہ بارے درست رائے دینے کی کوشش کرسکیں ۔ پہلے کے جواب میں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ طالبان کم ازکم اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے بلکہ اُنکی خواہش پر درجنوں طالبان لیڈر پاکستان و افغانستان میں رہا کئے گئے اُنھیں ویزہ جاری کرنے میں معاونت و مدد فراہم کی گئی جبکہ امریکہ نہ صرف اپنے سابقہ موقف سے کوئی معقول وجہ بتائے بغیرپیچھے ہٹا بلکہ اس عجلتی بات چیت کے دؤڑ دھوپ میں اپنے اصل اتحادی افغان گورنمنٹ اور عام عوام کو بھی اعتمادمیں لینا بھول گیاجس سے افغان حکام اور امریکیوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا ہوگئی اور افغان قیادت میڈیا میں اپنے خدشات و تحفظات بیان کرنے کو مجبور ہوا۔ جبکہ طالبان اور اُنکا اتحادی پاکستان میں باہمی ہم آہنگی اس حد تک مثالی رہی کہ پاکستانی وزیر اعظم نے آئندہ افغانستان کے تمام معاملات پر براہ راست اختیار رکھنے کاممکنہ اشارہ دیتے ہوئے افغانستان میں نئی کیئرٹیکر حکومت کا نوید سُنایا جسے افغان حکام نے اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دے کر بھرپور ناراضگی کا اظہار کیا۔ دوسرے سوال کے جواب میں بھی امریکہ اور اُسکے اتحادیوں کی پوزیشن کچھ بہتر نہیں اربوں ڈالر جنگ میں جھونکنے کے باوجود امریکہ نہ افغانستان میں دائمی امن لا سکا نہ اس دؤراں یہاں ایک بھی حقیقی سیاسی پارٹی کی تشکیل ہوسکی جو ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرسکے،نہ معاشرے میں قومیتوں کے درمیان خلیج میں کمی لائی جاسکی ،نہ وار لارڈ ز کو قانون کا پابند بنایا جاسکا نہ افغان امن خراب کرنے والے پاکستان بارے دوٹوک موقف بنایا جاسکا نہ اُسے ملنے والے امداد کاموثر فارمولابناسکے جس سے وہ امریکی پیسے امریکہ واتحادیوں کو مارنے اور بیگناہ بلوچ و پشتونوں کو دبانے خرچ کرسکے نہ افغانستان میں عسکری میدان میں ادارے بناکر مضبوط کئے جاسکے جو آئندہ دنوں امریکی افواج کے بغیر اپنی دفاع کو یقینی بنا سکیں جبکہ ان کے مقابلے میں اگر عسکری قوت کے لحاظ سے 2001میں طالبان کی تعداد 45000 کے لگ بھگ تھی تو2014 میں 60000 اور اب 100000 سے بھی زائد قیاس کی جارہی ہے۔ جبکہ سفارتی سطع پر وہ خطے کے ساتھ ساتھ عالمی قوتوں کو اپنے ساتھ براہ راست یا باالواسطہ رابطے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے جو اس سے قبل طالبان کے بارے میں مطلق منفی رائے رکھتے تھے ۔
اُنکے سفارتی اور عسکری میدان میں کامیابیوں کا اندازہ اس بات سے بھی بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ اُنھیں بات چیت کے دؤراں ایک گھنٹے کیلئے بھی خون ریزی روکنے پر رضامند نہ کرسکا ۔
شائد کچھ مبصر ان مذاکرات سے کچھ توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں مگر اصل میں یہ مذاکرات امریکہ اور اُنکے اتحادیوں کیلئے تپتی دشت میں سُراب کے سوا کچھ نہیں جو پاکستان امریکہ کو دکھا کر کچھ مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا پہلے امریکہ پاکستان تعلقات میں کسی طرح نرمی لائی جائے جو آخری وقت میں بہت خراب ہوچکے تھے اور پاکستان پر دہشتگردوں کا مددگارہونے کا زبردست دباؤ تھا دوسرا پاکستان عالمی طور پر تنہا ہوچکا تھا اس تنہائی کو دور کرنے میں بھی امریکہ کی مدد کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا تیسرا ملک اقتصادی طور پر دیوالیہ کے قریب پہنچ چکا تھا آئی ایم ایف سے لیکر خلیجی ممالک تک سب کے پیسے قرض یا مدد کسی بھی شکل میں امریکہ کے مرضی کے بغیر ملنا ناممکن تھا چوتھاملک کے اندر داخلی بیتابیاں اور بلوچ و پشتون قوموں کے درمیان نزدیکیوں کے امکانات اسلام آباد کی ننیدیں حرام کرچکا تھاان سب پر قابو پانے کیلئے
لازمی تھا کہ بیرونی یا داخلی کسی ایک دباؤ کو کم کیا جاسکے کیونکہ ملک کے اصلی حکمرانوں کو اس بات کا ادراک ہوچکا تھا کہ اگر ایسے ہی داخلی و خارجی دباؤ یکساں برقرارموجود رہے تو ملک کسی بھی وقت غیر متوقع صورتحال کا شکار ہوسکتا ہے ۔داخلی دباؤ کوکم کرنے جس ویژن اورسنجیدگی کی ضرورت ہے وہ اسلام آباد کے پاس نہیں اور بیرونی دباؤ امریکہ کے بغیر کم کرنا پاکستان کے بس میں نہیں تھا ۔مذکورہ بالا تقاضوں کے پیش نظر پاکستان نے ان مذاکرات کا ڈرامہ رچایا تھا،تاہم اس کے باوجود بھی کچھ دیگر اہم وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر بلاتردد کہا جاسکتا ہے یہ مذاکرات افغانستان اور خطے میں کسی امن کا پیش خیمہ نہیں ہوسکتے ۔
1 ۔ یہ مذاکرات امریکہ اپنی تاریخ کے کمزور ترین پوزیشن میں کرنے جارہی ہے ۔ پاکستان کے خفیہ ہاتھوں کے ساتھ ملکر امریکہ کے اپنے بنائے ہوئے طالبان ،القاعدہ،داعش نے اُسے گھٹنوں پر گرا کر بات چیت کی میز پر لایا ہیں ۔عالمی طور پر عراق ،لیبیا ،شام،یوکرائن،جارجیا اور وینزویلا وغیرہ میں مثبت تبدیلیوں کی سرپرستی کرنے کا نتیجہ بدترین ناکامیوں اور مایوسیوں کی شکل میں برآمد ہوا جبکہ سود میں داعش بھی ملا جو اب ہزاروں کے حساب سے شام ،عراق و دیگر محاذوں سے شکست کھاکر پاکستان کے راستے افغانستان کے سرحدی پٹی پر ژوب سے لیکر فاٹا تک جمع ہوکر آہستہ آہستہ افغانستان میں داخل ہوکر پھیلتے جارہے ہیں جو یہاں ایک ایسی تباہ کن صورتحال پیدا کرنے کی آمادگی لگتی ہے جس سے خون آشامیوں کے نئے نہ ختم ہونے والے سلسلے شروع ہوں گے۔
2 ۔ یہ بات چیت عین پاکستان کے سناریو کے مطابق ہورہے ہیں جسمیں امریکہ کی شکست فاش دکھانے افغان اور برسراقتدار حکام کی بے توقیری کا ساماں کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی ۔ منتخب افغان حکومت جس کو امریکہ کی پشت پناہی اور حمایت حاصل ہے اُسے طالبان عملی طور پر کٹھ پتلی کہہ کر اُس کے ساتھ بیٹھنے پر آمادہ نہیں جبکہ امریکہ طالبان کے بدلے پاکستان سے بات چیت کا مطالبہ نہیں کرسکتا حالانکہ امریکہ بارہاپاکستان کودہشتگردوں کاسرپرستی کرنے والا ملک کہہ چکا ہے۔ اگرطالبان امریکی سرپرستی میں افغان حکومت کو ماننے تیار نہیں تو امریکہ بہادر پاکستان کی سرپرستی میں اُس کے پاسپورٹ پر سفر کرنے والے طالبان کے بجائے براہ پاکستان سے کیوں بات نہیں کرتا ؟
3 ۔ امریکہ یہاں سے اختیار کو خیر باد کہہ کے جانے کی راہیں تلاش کررہا ہے جبکہ طالبان داخل ہو کر اختیار ہاتھ میں کرنے کی تیاری میں ہیں۔ پہلا اگر اختیار ہاتھ میں رکھتے ہوئے اپنے اتحادیوں کی اتنی عزت افزائی یقینی نہ بنا سکا کہ وہ مذاکرات کا حصہ بنیں تووہ یہاں سے نکلنے کے بعد اُن لوگوں کو کیا ریلیف دلا سکے گی؟ جو آج اُس کے اتحادی ہیں اور کل وہ اِسی اتحادی ہونے کی سزا بھی کاٹیں گے جسکی مثالیں افغان تاریخ میں نہ صرف بہت بھیانک رہے ہیں بلکہ ہمیشہ جاری جنگ کو بدتر خون آشام بنانے کا سبب بنے ہیں۔
4 ۔ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ طالبان(پاکستان) امریکہ مذاکرات میں عام افغان نہ صرف ابھی تک شامل نہیں ہیں بلکہ آئندہ بھی اُنکو شامل کرنے کا کوئی قابل عمل و قابل قبول فارمولا موجود نہیں ہے ۔افغان حکومتی نمائندوں کے طالبان کے ساتھ جس غیر رسمی ملاقاتوں کے اہتمام کا عندیہ دیاجارہا ہے وہ افغان حکومت کے سخت احتجاج کے نتیجے میں خانہ پُری سے زیادہ کچھ نہیں ۔کیونکہ جو شرائط طالبان نے رکھے ہیں اُنکی روح سے موجودہ افغان حکمراں اور اُنکے حمایتیوں کیلئے کوئی جگہ نہیں بجز اس کے کہ وہ خود کو مکمل طور پر طالبان و پاکستان کے سامنے سرنڈر کریں یا نئی جنگ کیلئے صف بندی کریں ۔
5۔ خلق حکومت اورسوویت یونین قیادت کے درمیان افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا بارے مکمل ہم آہنگی تھی جبکہ موجودہ افغان قیادت اور امریکہ کے درمیان اتحادیوں کے افواج کے انخلا بارے ہم آہنگی موجود نہیں ۔سوویت یونین نے خلقیوں کو اپنے انخلاکے بعد بے یار ومددگار چھوڑ دیا جبکہ امریکہ افغانستان
میں ہوتے ہوئے موجود ہ افغان قیادت کے ساتھ وہی بے رُخی اپنا رہا اس کا مطلب ہے امریکہ کا چھوڑا ہوا افغانستان سوویت یونین کے چھوڑے ہوئے افغانستان سے بھی بدتر حالات سے دوچار ہوگا۔
6 ۔ یہ بات انتہائی ناقابل یقین و حیران کن ہے کہ امریکہ پاکستان کے ہاتھوں ایک بار پھر بدترین دھوکہ کھارہا ہے جو وہ امریکہ کو یہ باور کرانے کامیاب ہوا کہ وہ امریکہ کی خواہش پر سی پیک میں چین کیلئے مشکلات پیدا کرکے اُس میں تعطل لائے گا تاکہ بعد میں چین کے کردار کو محدود کیا جاسکے بدلے میں امریکہ افغانستان میں اُسکی مرضی کی حکومت قائم کرنے راستہ ہموار کرے جو وہاں نہ صرف امریکہ کے مفادات کا تحفظ کرے گا بلکہ مستقبل میں روس کے ممکنہ اثر و رسوخ کو بھی روکے گا ( اس پر ہم اپنے اگلے مضمون ’ ’سی پیک سے چین کے بیدخلی کاپاکستانی منصوبہ ‘ ‘ میں بحث کریں گے) اس امریکی خوش فہمی کی قیمت افغانوں کو نئے خونین جنگ کا ایندھن بننے اور ہمسایوں خاص کر وسطی ایشیائی ممالک، روس اور بھارت کودہشتگردی کی لپیٹ میں آنے اور ڈرگ ٹریفکنگ میں اضافہ کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔
7 ۔ طالبان امریکہ مذاکرات میں سب سے بڑی بد نصیبی یہ بھی ہے کہ اس ملک میں امن ،ترقی اور آزاد حکمرانی پاکستا ن کے پالیسی کا حصہ نہیں ۔کیونکہ اگر دہشتگرد اور دہشتگردی نہیں رہے گی تو پاکستان کی اہمیت کیسے برقراررہے گی؟ جو اسے اب ملک کے ریاستی پالیسی کا حصہ بنا چکے ہیں۔ اگر وہ ہمسایہ ملک میں واقعی امن چاہتے تو وہ ماضی میں اپنے ہی پروردہ مجاہدین کو خانہ کعبہ کے اندر قران پر ہاتھ رکھنے کے بعد اپنے وعدوں کا پابند بناتے نہ کہ اُن کے درمیان انتشار پھیلاکراُنھیں آپس میں لڑاکر کمزور کرکے اُن کے خلاف طالبان کی تشکیل کرتے۔
موجودہ صورتحال ماضی کی نسبت بہت بدتر ہے کیونکہ اس وقت پاکستان سیاسی و معاشی بحرانوں کے لپیٹ میں دیوالیہ کے قریب پہنچ چکاہے ایسے میں وہ افغانستان میں کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں جب کہ اُس کے مقابلے میں اُس کا حریف بھارت افغانستان میں درجنوں اربوں ڈالرز پر مشتمل پروجیکٹس کیساتھ بڑے سرمایہ گذاری کرنے والوں میں سرفہرست ہے ۔بھارت سمیت دیگر کو افغانستان کو بنانے سے روکنے پاکستان کیلئے جنگ میں نئی روح پھونکنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں رہے گا اور اس کے لئے اس نے پہلے سے تیاریاں مکمل کی ہوئی ہیں۔
اگر غیر متوقع طور پربات چیت کامیاب ہوتے ہیں تو وہ امریکی افواج کے انخلا کے بعدطالبان کے اندر دھڑہ بندیوں کو ہوا دے کر اُنھیں ایک دوسرے کے سامنے صف آراء کرنے کے ساتھ ساتھ داعش اور سابقہ جہادی مجاہدین کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اُنھیں میدان میں اُتارے گا جبکہ طالبان امریکہ مذاکرات کے مخالف ویسے بھی پہلے سے مزاحمت کیلئے میدان میں موجود ہوں گے۔ موجودہ حکومت کے عہدیداروں کے علاوہ باقی تمام قوتیں اس وقت صرف اس ایک بات پر متفق ہیں کہ امریکہ یہاں سے کسی بھی صورت نکل جائے اور وہ بعد میں روان جنگ میں نئی شدت ونئی جدت لائیں ۔دوسری صورت میں بھی افغانستان میں خونریزی میں کمی نہیں آئے گی کیونکہ خطہ بارے امریکی ڈانواں ڈول پالیسیاں مکمل تبدیلیوں کا متقاضی ہیں جو اب ہر لحاظ سے ناکام ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے امریکہ ایک قدم آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ چارقدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہورہااور دنیا میں امن کے بجائے خونریزیوں کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔















