واشنگٹن(ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے عراق میں متحارب سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ صورت حال پر امن رہے اور سیاسی اختلافات تشدد کی شکل اختیار نہ کر جائیں اور موجودہ کشیدگی مزید عدم استحکام میں تبدیل نہ ہو جائے۔
اس امر کی اپیل کرتے ہوئے امریکہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ بغداد میں پیر کے روزامریکی سفارت خانہ خالی کر دیا گیا ہے۔
امریکہ کی طرف سے عراقی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کیے جانے کی اپیل ایسے وقت میں کی گئی ہے جب شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے اپنی علیحدگی کا اعلان کیا اور اس پھربغداد میں احتجاج و فساد کی صورت پیدا ہونے لگی۔
یہ تصادم ایران کے حمایت یافتہ سیاسی کارکنوں اور شعیہ رہنما مقتدٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان شروع ہوا۔ اس تصادم کی اطلاعات کے ساتھ ہی فوری طور پر ایسی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہونے لگیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ سفارت کار بغداد کے گرین زون سے نکل کر دور محفوظ مقامات کی طرف جارہے ہیں۔
لیکن امریکہ ان ویڈیوز کی بنیاد پر پھیلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ عراق میں اپنا سفارت خانہ خالی کر دیا ہے۔ وائٹ ہاوس کے ایک ذمہ دار کی طرف سے جاری کردہ بیان میں سفارت خانہ خالی کر دینے کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ نیز کہا گیا کہ امریکہ اپنے شہریوں کی حفاظت یقینی بنارہا ہے۔ نیز یہ بھی کہا گیا کے کہ ہماری سہولیات کا تحفظ بھی ہمارے لیے اہم ترین ترجیح ہے۔
ایک سوال پر امریکی اہلکار نے کہا عراق میں تشدد کے واقعات ہمارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ اہلکار نے اس موقع پر خبردار کیا کہ پیر کے روزہونے والے واقعات زیادہ تشدد ، کی طرف جا سکتے ہیں، اس لیے ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے جس سے عراق کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے۔
امریکی اہلکار نے یہ وقت مذاکرات کرنے کا ہے تصادم کو بڑھانے کا نہیں ہے۔ ہم اپنی اس اپیل میں عراق کی تمام سے کہتے ہیں کہ وہ پر امن اور پر سکون رہتے ہوئے تشدد سے بچ کر اپنے سیاسی اختلافات کو طے کریں۔ عراقی آئین کے اندر رہتے ہوئے اور پر امن انداز میں مسائل حل کریں۔


