تحریر: احسان غنی

ہمگام کالم

کسی دور میں ایک شاہی دربار میں مشاعرے کا اہتمام ہوا. اُس علاقے اور مسافات سے بڑے اور نامی گرامی شاعروں نے اپنے فن و قابلیت سے دیوان میں موجود تمام حاضرین و سامعین کو لطف اندوز کیا. محفل میں موجود تمام لوگوں نے کافی دادرسی حاصل کی اور مختلف موضوں پہ اشعار سننے سے دل افروغ ہوئیں. اختتام پہ بادشاہ نے ایک مصرہ رکھا اور تمام شاعروں سے کہا کہ اس مصرے کو مکمل کریں. اور سب کو ایک ہفتے تک کا وقت دیا.

“چمن سے آرہی ہے بؤ ء کباب……… ” اس کا دوسرا مصرہ بادشاہ سلامت کو درکار تھا, جس کےلیے انعام رکھا گیا..

اب چونکہ یہ ہر شاعر کےلیے ایک بڑا چیلنج تھا. کافی لوگوں نے دماغ لڑایا اور بادشاہ کے مصرے کو پورا کرنے میں خوب مگن ہوۂے. دیوان ختم ہونے کے بعد تمام شاعروں کا وقت شروع ہوا کہ ایک ہفتے کے اندر بادشاہ کو کس نے سب سے پہلے خوش کرنا ہے اور انعام و شہرت اپنے نام کرنی ہیں.

دن گزرتے گئے اور لوگ سوچنے و ڈونڈھنے لگ گئے کیونکہ اس مصرے کو معنی و تاریخی پس منظر دینا ہے جو اُنھیں شہرت یافتہ و سُرخرو کر دیگا. اِنہی دنوں کے درمیان ایک شاعر جو دیوان میں موجود تھا اور اسے بھی اس مقابلے میں شرکت کرنے کا موقع میسر تھا.  تو یہ شاعر اسی مصرے کی رٹ لگائے, گلی و کوچوں سے گزرتا اور مصرہ دُہراتا چلے جا رہا تھا.  اسی لمحے اسکا گزر ایک ایسے گلی سے ہوا جہاں کچھ بچے, جن کی عمر 10سے 12سال کے درمیان کی تھی. ایک بچے کے قریب سے گزرتے وقت,  شاعر کے منہ میں یہی مصرہ رٹ رہا تھا کہ دوسرا مصرہ بھی بن جاہیں.

“چمن سے آرہی ہے بؤء کباب… چمن سے آرہی ہے بؤ ء کباب….. “

بچوں کے قریب سے گزرتے وقت اسکا لگاتار ایسے رٹنا اور مصرے کو باربار دورانہ. بچے کے کان میں یہی الفاظ باربار گونجنے کے بعد,  بچے نے بھی اپنے الفاظ اسکے مصرے میں شامل کیے جو وہ کہی دنوں سے دہرا رہا تھا کہ

“چمن سے آرہی ہےبؤء کباب…

شاید کسی بلبل کادل جلا ہوگا.. “

یہ سنتے ہی محترم شاعر رُکا اور مُڑ کربچے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگا کہ اُس بچے نے اپنے منچلے پن میں اس کا مسئلہ حل کردیا. اب یہ اُس بچے کی ذہانت تھی یا اُسکا ذاتی تجربہ خدا ہی بہتر جانیں..!! اور یوں وہ بچہ یہ شہرت اپنے نام کرگیا.

بلوچستان اور بلوچ قوم کی اپنی ایک الگ پہچان,  ایک عجیب رنگ, ثقافت و فطرت ہیں. بلند وبالا سُرمئی پہاڑ, دلکش ودل فریب چشمہ چکُل, درخت و جنگلی پودے, خوبصورت جغرافیہ, بلوچی ثقافت کے رنگ اور خوراک تو ایسی کہ دوسرے زمینوں کے لوگ کوہِ سُلیمان کے بڑے اور بل کھاتی پہاڑوں کا لمبا سفر طے کرکے دوڑے چلے آتے ہیں کہ بلوچستان کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مختلف لذیز کھانوں کا لذّت لے سکیں.

خیر یہ باہر کے لوگ جب بلوچستان پہنچ جاتے ہیں تب انکے جاننے والے بلوچستان کے مقامی بلوچ احباب اپنے بلوچی روایات کے مطابق انکا کُھلے دل سے استقبال کرتےہیں. چونکہ ہمسایہ ممالک میں بلوچوں کی یہی روایات ہی انکی اعلی شان کی وجہ بنتے ہیں. کہ جی ہم بلوچ تو بڑے مہمان نواز و فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں, جب ہمارے مہمان ہمارے وطن میں قدم رکھتے ہیں. ہم تو صاحب چاکر و گُہرام کی نسل سے ہیں اور ہماری مہمان نوازی تو اپنی مثال آپ ہیں. اسی تہذیبی نرگسیت کے چلتے بلوچ قوم اپنی روایات کی پاسداری کو بڑے منظم و شاندار طریقے سے سرانجام دیتی ہےکہ باہر کے مہمان واپس جاکر وہاں ہماری ان روایات کو یاد کریں. اور وہ صاحب تو یہاں کے جغرافیاۂی نظاروں کا لطف اور کھانوں کا مزہ لینے کے بعد بڑے مہذب سلیقے سے کھانے کی تعریف کرتے ہیں. پھر خیر سے اپنے دیس پہنچ کر بڑے ہی شفیق انداز میں مہمان نواز بلوچ کا فون میں شکریہ ادا کرتے ہے کہ “بلوچ بھاہی آپ تو ماشاءاللہ اچھے اخلاق اور مُہذب دنیا کے لوگ ہو.” ماشاءاللہ…!

بلوچ قوم کے اپنے مذہبی عقیدے اور ثقافتی رنگ ہوتے ہیں. جو دوسرے قوموں اور نسلوں کی طرح بلوچ کی سرزمین پر بھی بڑے جوش و جذبےسے مناہیں جاتےہیں. عید کے دن قریب آرہے تھے. ہر طرف خوشی و جوش کا سما تھا. چونکہ بلوچستان کی زمین پر رہنے والےبلوچوں کا مذہبی عقیدہ بھی دنیا کے باقی مسلمانوں کے جیسے,  دین اسلام پر مبنی ہیں. جسکی اپنی ایک الگ سادگی و خوبصورتی ہے. جو بلوچ ثقافت کی طرح مساوی و برابری کے بنیاد پر پریکٹس ہوتی ہیں.

عید کی ان خوشیوں میں ہر طرف ایک جنت جیسا سماں تھا. گھر سے نکلتے ہی گلیوں میں خوشی و شور کی لہریں طواف کر رہی تھی. ہنسی و قہقوں کی آوازیں, بچوں اور بزرگوں کا عید کا چاند کی تلاش میں مگن رہنا, بازار میں کوئی اپنے نئے کپڑوں کی فکر میں,  تو کوئی نئے جوتوں کی شوق میں گھوم رہا تھا. کچھ حضرات چاقو تیز کرنے میں لگے تھے تو کچھ حمام کی دکان پہ رش لگائے بیٹھے تھے. کوئی چرس کے کش لگائے جارہاتھا تو کوئی بنگ کے نشے میں چور تھا. جس سمت نظر پڑتی وہاں کچاری و خوش گپی کا ماحول تھا. طالب علم اپنے پڑھاہی اور نوکری والے حضرات اپنے دفاتر سے چھٹی کیے اپنے اپنے گھرانوں اور خاندانوں کے پاس عید منانے آہیں ہوئے تھے.

اچانک اس بہشتی ماحول میں نظر ایک بچے پہ پڑی جسکی عمر 10سے12 سال کی تھی. جو اس رنگین ماحول میں بلکل عجیب اور مختلف لگا. جس کے پٹے پرانے کپڑوں اور ننگے پیروں نے بہشتی کیفیت میں ایک رکاوٹ ڈال دی. رکاوٹ آتے ہی کیفیت میں تبدیلی سی آگئی کہ یہ بچہ کیوں دوسروں سے الگ تلگ ننگے پیر اس بازار میں گھوم رہا ہے؟

“بیٹا تم کون ہو؟” اور کیوں اس حالت میں ہو؟؟ پاس جاتے ہی یہی سوال زبان پہ دوڑ پڑی.

“میں ایک یتیم ہوں,” نمدیدہ آنکھوں اور ہلکی سی تلخ انداز میں جواب دیا.

“تم ایسے کیوں بےبس و لاچار نظر آرہے ہو؟ کیا بات ہوئی ہے ؟ بتاؤ ذرا… ؟”

کہاں اُس یتیم نے مجھے کچھ ایسا..

“کہ کان رکھتے ہو تو سنو میری بات ذرا.. “

“ضمیر گر ہے تجھ میں تو سنو میری بات..

تمھارے لوگوں کی یہ رنگینی دیکھ کر..

پتہ لگتی ہے یہ بات..

کہ آزاد ہو تم لوگ.. نہیں ہو غلام تم لوگ..!

نہیں ہوں میں آپکے جیسا..

میرے ابّاجان نے کی قربان اپنی ساری زندگی..

کہ آپ کی صبحِ نوّ کیلئے..

اپنا سینہ دیا ساری رات..!

ابھی تم خاک پہچانو

ابھی تم خاک یہ جانو

تم تو بھول گئے ہو

پھر اُسے پتہ تھی,  وطن کی یہ داستان..!

تمھارے ہی حصّے کی لڑائی لڑی اُس نے..

سینے پہ کھاہی گولی اُس نے

خون بہایا اُس نے اور

ملی نہیں کوئی گرم بستر..!

وطن کے لئے  وہ یخ و گوریچ ہواوں میں ڈوبہ تھا

کھبی وہ بھوکا تو کھبی وہ پیاسا تھا..

اپنا آج اُس نے دیا تمھارے کل کے لئے

خاک کو سینے سےلگایا وطن کے لئے..!

شہید کہاں مرتا ہے, وہ تو حیات ہے قوم کی..

ہاں ہوں تو میں یتیم,  مجھے فخر اس بات کا..

تمھاری کوئی زند ہے,  جو تم ہو غلام..

کہ لڑتے رہتے ہو آپس میں, تم لوگ صبح و شام..!

کون ہے ذمہ دار,  کس نے بیچھی اپنی ضمیر..

کون ہے کم ظرف, اور کون ہے تم میں امیر..

تو ہے تمھاری صفت پہ,  تم پر ہو لعنت..

آنکھیں ہوگئی ہے سفید تمھاری,

تم بزدل و لغور رہوگے تا قیامت..!

ہاں اُسی یتیم نے کہی مجھے یہی کہاوت…

ہاں اُسی یتیم نے کہی مجھے یہی کہاوت…!

قابلِ غور بات یہاں پر یہ بن جاتی ہے کہ انسان عمر کے جس حصّے میں بھی ہو. وہ سیکھتا اپنی ذاتی تجربے سے ہے اور اپنی ذہانت و قابلیت کے بنیاد پر سرخرو و کامیاب ہوتا ہے. بلوچی روایات بھی دورِ حاضر اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر پریکٹس کی جاہیں تو یقیناً ہم اپنے آنے والے نسلوں کو ایک کامیاب راستہ دکھا سکتے ہیں اور وہ راستہ ہموار بھی کر سکتے ہیں.