کابل(ہمگام نیوز ڈیسک) افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے حالیہ کشمیر ،پلوامہ خودکش حملےاور پاکستان انڈیا کشیدگی کے بعد پیداہونے والی صورتحال، افغان طالبان امن مزاکرات پالیسیز ، جس کے حوالے سے افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر زاہد نصرالللہ کی افغان حکومت کو امن مزاکرات بارے طالبان کی طرف سے دباو میں لانے اور بلیک میلنگ کا حربہ استعمال کرکے دھمکی آمیز ٹویٹ کی تھی ، جس کی وجہ سے انھیں افغان دفتر خارجہ طلب کرکے تنبیہی طورپر انھیں ایک مراسلہ بھی دیا گیا۔پاکستانی سفیر کے اسی ٹویٹ کی وجہ سے افغان آفیشلزنے اسے اعلی سطح تک سخت ناپسند کیا گیا۔جس میں موجودہ ایکٹنگ وزیر داخلہ ،اور این ڈی ایس کے سابقہ سربراہ امرالللہ صالح کی مزمتی بیان نمایا تھے۔اسی صورتحال بارے صدر اشرف غنی نے کچھ دنوں پہلے جرمنی میں امریکی نمائندہ برائے افغانستان امن عمل زلمے خلیل زاد کو ایک ملاقات میں کہا کہ افغان طالبان کے وفد کو پاکستان جانے سے ضرور روکا جائے، اگر افغان طالبان پاکستان گئے تو ہم پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دینگے ۔ صدر اشرف غنی نے اپنا یہ بیان زلمے خیل زاد کے سامنے پیش کی۔
تفصیلات کے مطابق صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے زلمے خلیل زاد سے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے بعد میں بلوچ آزادی پسندوں کو افغانستان بلاکر ان کے ساتھ ملاقات کروں گا ،اور مزید یہ کہ بھارت کے دورے پر بھی جائوں گا۔ زلمے خلیل زاد نے یہ سب باتیں سن کر ایک پیغام کی صورت میں حکومت پاکستان کو بھجوا دیں ۔ جب پاکستانی حکام کو یہ پیغام ملا تو وہ طالبان کی ملاقات سے ہاتھ کیھنچ کر سعودی ولی عہد شہزادہ کی خدمت گزاری میں مصروف ہوئے۔ دوسری طرف افغان حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ اقوام متحدہ نے طالبان کے کچھ رہنمائوں پر سفری پابندیاں لگا رکھی ہیں لہٰذا ان رہنمائوں کی طرف سے پابندیوں کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا جائے۔ اس تمام صورتحال میں افغان طالبان نے طے شدہ ملاقات کی منسوخی کے بعد ایک بیان جاری کیا اور سفری پابندیوں کو جواز بنا کر 18فروری کو دورۂ پاکستان ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔


