ہمگام کالم : ایران کا کچھ مخصوص ممالک کو آئل برآمد کرنے کا آخری مہلت 2 مئی تھا سو وہ گزر گیا، اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اب ایران پراسٹیل کی تجارت پربھی پابندی لگا دی ہے۔ اسکے بینکنگ سسٹم پر پہلے ہی سے پابندی لگ چکی ہیں۔ اسی لیے ایرانی وزیر خارجہ جواز ظریف نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا وہ تباہی کی اتاہ گہراہیوں میں گرنے سے پہلے جوابی کاروائی کرینگے۔ اسکے جواب میں امریکہ نے اپنے بحری بیڑے یو ایس ایس ابرہم لنکن کو بمعہ بی 52 بمبار جنگی جہازوں کو خلیج عرب کی طرف روانہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کی طرف سے ایسے اشارے مل رہے ہیں وہ امریکی مفادات کے خلاف کوئی کاروائی کرینگے لہذا اگر ایران یا انکے کسی پراکسی نے امریکہ یا انکے کسی اتحادی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو اس کا سارا زمہ دار ایران ہی ہوگا۔ اب تازہ ترین رپورٹ سی این این نے دی ہے جس کےمطابق امریکی سنٹرل کمانڈ، سینٹکام کی سربراہ جنرل کنیتھ ایف مککنزی جنیئر نے ایران کو مخاطب کرتے ہوے کہا ہے امریکی افواج ایران کے خلاف جنگ کیلئے تیار ہیں۔ یاد رہے کہ 2015 میں اوبامہ انتظامیہ نے مغربی ملکوں کے ساتھ ملکر ایران کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھاکہ ایران کی ایٹمی پروگرام کو بند کرنے کے بدلے میں اس سے اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائینگی۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے ہاتھ کھینچتےہوئے یہ کہا کہ یہ ایک بہت بری معاہدہ ہے، صدر ٹرمپ نے یکطرفہ طور معائدہ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر پہلے سے زیادہ مزید بدتر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔ امریکہ نے ایران پر نہ صرف تیل کی تجارت اور بینکنگ پر بابندی لگا دی ہے بلکن ایران کی فوج یعنی سپاہ پاسدارن انقلاب کو بھی ایک دھشتگرد تنظیم کے درجے میں ڈالا ہے۔جو کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کسی ریاستی فوج کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہو۔ جوابی ردعمل دکھاتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے یورینیم کی افزودگی کو جزوی طور پر پھر سے شروع کرنے کا اعلان کردیا اس کے ساتھ ہی یہ بھی دھمکی دی ہے کہ وہ تیل کی اہم گزرگاہ تنگہائے ہرمرز کو بھی بند کر دینگے۔ ساتھ ہی سی این این نے رپورٹ نے دی ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کو بحری جنگی کشتیوں پر نصب کرنا شروع کردیا ہے۔ اب اس مرحلے سے آگے کیا ہوگا؟ تنگہائے ہرمرز جہاں دنیا کی تقریبا 40 فیصد تیل گزرتی ہے کی وسعت 40 کیلومیٹر یعنی 25 میل ہے، ایران کی امریکہ کو دھمکی اس بات پر ہے کہ وہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو بند کرینگے۔ یعنی وہ اس گزرگاہ میں بحری بارودی سرنگ بچھائینگے۔ جس کی وجہ سے تیل بردار آبی جہازوں کیلئے ممکن نہیں رہے گا وہ اس گزرگاہ سے اپنا تجارتی سفر جاری رکھے ، لیکن امریکہ نے کہا ہے وہ ایران کو ایسا ہرگزکرنے نہیں دینگے۔۔ امریکہ نے یو ایس ایس ابرھم لنکن بحری بیڑہ کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں کی فلیٹ کو بھی عرب گلف کی طرف روانہ کیا ہے جو کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آج ہی کے دن کو عرب گلف قطر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ ایسے اقدامات ہیں کہ جس سے صاف یہ نظر آتا ہے کہ اگر ایران نے کہیں بھی کاروائی کی، اس کے جواب میں امریکہ فورا جواب دینے کی پوزیشن میں ہوگا۔ یاد رہے CIA کی سابقہ ڈائریکٹر اور موجودہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے پہلے دن سے ہی کہا ہے وہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کی امکانات کو رد نہیں کرینگے۔ امریکی ایجنسیوں نے ایران کے ارادوں کے بارے ٹھوس اور قابل اعتبار زرائع سے خبر دی ہے کہ وہ عراق اور سوریہ میں موجود امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے غیراعلانیہ طور ہر کل عراق کا خفیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے عراقی حکمرانوں کو ایران کے ارادوں کے بارے خبردار کیا۔ یاد رہے کہ سی این این نے اعلی ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے کشتیوں کے زریعے درمیانہ رینج کے راکٹوں کو عراق روانہ کیا ہے۔ دوسری طرف مغربی ملکوں فرانس جرمنی اور برطانیہ جوایران ڈیل کے شریک ہیں نے ایران کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اب بھی 2015 کی معاہدے کے پابند ہیں اگر اس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج نکلینگے۔ حسن روحانی نے مغربی ملکوں کو ساٹھ دنوں کی مہلت دی ہے تاکہ وہ ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائیں، نہیں تو اس کی حکومت یورینیم کی افزودگی کو پھر سے شروع کردے گی ۔ اس تمام معاملے میں مختلف ممالک کے مختلف موقف اور رائے سامنے آئیں۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ نے کہا ہے انکی اپروچ امریکہ سے مختلف ہے اور پومپیو نے کہا کہ لندن ملاقات کے دوران ”صاف گفتگو“ ہوئی۔ جرمن وزیر خارجہ نے کہا ایران نیوکلیئر ڈیل یورپی یونین کے سیکیورٹی کیلئے انتہائی ضروری ہے، فرانسیسی وزیردفاع نے کہا کہ یورپی یونین سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں تاکہ یہ معاہدہ ختم نہ ہولیکن اگر اسکی خلاف ورزی کی گئی تو ایران پر مزید پابندیاں لگ سکتے ہیں ۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے معاہدے کی باقی تمام شریک اپنے زمہ داریوں کے پابند رہیں ساتھ ہی اس نے اس معاہدے کو دستخط کنندگان پر الزام لگایا کہ وہ اپنی نالائقیوں کو چھپانے کے لیے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چائنا نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کا بڑے عزم کے ساتھ مخالفت کرینگے۔اسرائیل نے اپنی پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کو بلکل نیوکلیئر اسلحہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ ”ہم ان لوگوں کے ساتھ اپنا لڑائی جاری رکھیں گے جو ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں“ نیتن یاہو ، اسرائیلی وزیرآعظم۔ تازہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بڑے ممالک فرانس برطانیہ جرمنی نے کہا ہے وہ ایران ڈیل کے ساتھ ہیں لیکن وہ ایران کی کسی الیٹیمیٹم کو خاطر میں نہیں لائینگے۔ اب ان تمام محرکات کے بارے کچھ مختصر باتیں کرینگے کہ جن کی وجہ سے ایران آج ایک خطرناک طوفانی بھنور میں پھنس چکی ہے، جس کے اوپر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بقول محمد بن سلمان آل سعود جب سے ایران میں شیعہ انقلاب آئی ہے، اس وقت سے عرب ممالک میں ایران مزھبی فرقہ واریت کے بنیاد پرمداخلت کر رہا ہے، ایران کی اس مداخت کی وجہ سے تقریبا تمام عرب ممالک کی سوسائٹی بھی دو مزھبی فرقہ واریت کے بھنور میں پھنس چکے ہے۔ لبنان، فلسطین، عراق، سوریا، بحرین، یمن، سعودی عرب، سوڈان اور کویت میں ایران مسلسل مداخلت کر رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف سنیوں میں مزھبی خدشات بلکہ ان ممالک کی قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، آج عراق، سوریا، یمن اور لبنان کئی حصوں میں بٹ چکے ہیں۔ بحرین جیسا ایک پرامن چھوٹا سا ملک بھی ایران کی شرانگیزیوں سے نہیں بچھا ہے۔ لیکن ان شریف عرب ممالک نے ابھی تک ایران کے اندرونی معاملات میں کبھی بھی مداخلت نہیں کی ہے۔ ایک زمانے سے لے کر اج تک ایران اپنے مخالفین کو دنیا کے کسی بھی کونے میں ٹارگٹ کلنگ کرتی رہی ہیں ۔ حال ہی میں فرانس میں ایرانی دہشتگردی کا ایک سرغنہ پکڑا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ تنگ آمد بہ جنگ آمد ، اسی لیے حال ہی میں شیخ محمد بن سلمان آل سعود نے کہا ہے وہ ایران کی اس جنگ کو ایران کے اندر ضرور منتقل کرینگے۔ ایران کی ملا رجیم نے اندرونی طور پر بھی لوگوں کی آزادیاں سلب کی ہیں، عوام شدید غم وغصہ میں ہیں، انسانی حقوق کی شدید پائمالیاں ہو رہی ہیں۔ مریم رجوی کے سربراہی میں ایک گروپ یورپ میں مضبوط اپوزیشن معرض وجود میں آ چکی ہے ویسے امریکی صدرکے ٹیبل پر کئے اقوام کے فائل پڑے ہیں، جن میں بلوچوں کا فائل بھی شامل ہے، لیکن سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جو فائل رکھ دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے سب سے اولیت کا حامل ہے، اس فائل پر عمل کرنا خود امریکہ کے قومی مفاد میں شامل ہے ۔