ہمگام کالم : امریکہ ایران پر مسلسل اپنی عسکری دباؤ کو بڑھا رہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور انکے اتحادیوں نے ایران پر فوجی یلغارکا مصمم ارادہ کر لیا ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ نے تجارتی جہازوں کو پرشین گلف پر گزرنے پرانتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’غلط شناخت‘‘ کی وجہ سے وہ نشانہ بن سکتے ہیں، فرشین گلف اور گلف آف عمان سے گزرنے والے ان تمام تجارتی ہوائی جہازوں کو کہا گیا ہیں، کہ پرواز کرتے وقت کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کیلئے وہ اس خطے کی سخت عسکری اور سیاسی کشیدگی کو مدنظر رکھیں کیونکہ اس ماحول میں جہازوں کے ہواپیمائی کے آلات یعنی راڈار جام بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلے برطانیہ کی انشورنس کمپنی لیوڈ آف لندن نے انتباہ کیا تھا کہ اس خطے کی میرین ٹائم میں تجارتی جہازرانی کیلیے مسلسل خطرات بڑھ رہے ہیں۔ دی ٹائم آف اسرائیل کے مطابق امریکہ نے اپنی فوجی قوت کو اس علاقے میں اس وقت بڑھانا شروع کردیا جب امریکہ کو اطلاع ملی کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی نے عراق میں چار ہفتے پہلے خفیہ دورہ کرنے کے دوران عراق میں موجود شیعہ ملیشیاؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف پراکسی جنگ کیلئے تیار ہوجائیں، جنرل سلیمانی کی اس حکم کی باز گشت ایرانی وزیر خارجہ جواد طریف کی نیویارک میں دی ہوئی اس بیان میں بھی نمایا سامنے آیا جس میں وزیر موصوف نے کہا تھا کہ ایران تباہی کے اتاہ گہرائیوں میں گرنے سے پہلے وار کریگی۔ ایران کی ان دونوں بیانات کی بنیاد پر امریکہ نے اچانک اپنی فوجی قوت کو سریع الوقت جنگی پیمانے پر تعینات کرنا شروع کردیا۔۔ خطرات کے پیش نظر امریکہ نے مجبور ہوکر عراق سے اپنی اضافی فوج اور ایمبیسی اسٹاف کو نکالنا شروع کردیا ہے جس سے عراقی کردوں میں بھی عدم تحفظ پیدا ہوچکا ہیں ۔ عرب امارات کی ساحل پر لنگر انداز چار آبی جہازوں پر ثبوتاژ کی کوشش اور سعودی عرب کے تیل کی پائپ لائنوں پر حوثیوں کے ڈرون حملوں نے امریکہ اور سعودی عرب کی تشویش میں اور بھی اضافہ کردیا ہیں، ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق امریکی ماہرین ایران یا اس کی پراکسیوں کو زمہ وار ٹہرا رہےہیں۔ بیشتر عرب تجزیہ نگاروں کا ماننا ہیں، کہ اگر ایران کا راستہ نہیں روکا گیا تو ایران مشرق وسطی کے خطے کی امن و سکون کو مزید تباہ وبرباد کردیگا۔ دوسری طرف متوقع جنگ سے بچنے کیلئے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے کہ تاکہ چین اور روس اس تمام معاملے میں بطور فریق شامل ہو، انہوں نے چین اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ ۲۰۱۵ کی ایران امریکہ نیوکلیئر ڈیل کو بچانے کی عملی کوشش تیز کردیں۔ اس سے پہلے امریکی سیکریٹری خارجہ پومپیو کے ساتھ ملاقات کے بعد روسی صدر نے اخبارات سے استفسارکیا ’’کیا روس ایک فائربریگیڈ ہے جو ایران نیوکلیئر ڈیل کو بچائے گی‘‘۔ پاکستان نے بیان دیا ہے کہ وہ اس تمام معاملے میں نیوٹرل کا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کیلے نیوٹرل رہنا بہت سخت اور مشکل فیصلہ ہوگا۔ سعودی عرب اور عرب امارات نے اسے 6 ارب اس لیے دیے ہیں تاکہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں انکا ساتھ دے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان کس حد تک نیوٹرل رہے گا یا ساتھ دیگا مگر پاکستان ایک مکار ملک ہے پیٹھ پیچھے سب کو خوش کرنے کی انتھک کوشش کرے گا۔ شرق الاوسط کے سابقہ آڈیٹران چیف سلمان الدوسری خلیج عرب کے موجودہ صورتحال کے بارے لکھتے ہیں ’’ماحول وہی ہے اور ٹینشن بھی وہی۔ انکے مطابق ۳۹ سال پہلے عراق اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہوئی، پھر ۱۹۹۱ میں کویت کو آزاد کرانے کیلئے عراق کے ساتھ ایک جنگ لڑنا پڑا پھر صدام رجیم کو ہٹانے کیلئے ۲۰۰۳میں تیسرا جنگ کرنا پڑا۔ انکا کہنا ہے کہ کچھ لوگ حقائق کو توڑ مروڑ کرکے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کوئی ایران پر جنگ مسلط کرنا نہیں چاہتا ، دراصل یہ ایران ہی ہے جو جنگ کی آگ کو بھڑکانا چاہتا ہے۔ جبکہ دوسرے اسے جنگ سے اجتناب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ایران اب سخت لہجے میں دھمکی دینے پر اترآیا ہے۔ ایرانی سپاہ پاسدارن انقلاب کے ڈپٹی ہیڈ اف پولیٹکل افیٗرز کے رہنما یداللہ جوانی نے کہاہے کہ امریکہ کی اتنی جرآت نہیں کہ وہ ہمارے خلاف ملٹری ایکشن لے۔ اگر انہوں نے تھوڑا سا حرکت کی تو ہم انکی سر کوکچل کر رکھ دینگے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی فوجوں کی مڈل ایسٹ میں موجودگی پہلے بہت سنجیدہ خطرات تھے، لیکن اب وہ ہمارے ٹارگٹ پر ہیں۔ ہم ان پر میزائلوں کا بارش کردینگے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بحرینی وزارت خارجہ نےاپنے شہریوں کو کہا ہیں کہ وہ ایران اور عراق جانے سے گریز کرے، اور جو بحرینی شہری ان دونوں ملکوں میں گئے ہیں انکو فورا اپنے ملک واپس آنا چاہیے کیونکہ ایران کی طرف سے جنگی خطرات بڑھ چکے ہیں غیر مستحکم علاقائی حالات، خطرناک پیش رفت جیسے غیرمعمولی حالات پیدا ہوچکے ہیں۔ محرکات۔۔ ایران اپنی مخصوص مزھبی فرائض impulse کے تحت مجبور ہے کہ عرب ممالک میں اپنی شیعہ انقلاب کو ایکسپورٹ کرے۔ جس کی وجہ سے سارے عرب ممالک بشمول پُرامن و ترقی یافتہ خلیجی ممالک ایران کی اس بے جا مزہبی فرقہ واریت پر مبنی مداخلت کی وجہ سے غیرمستحکم صورتحال سے دوچار ہونے جارہے ہیں۔ ایران کی یہ بے جا مداخلت جنگی جارحیت پر مبنی ہے۔ اب یہ بات صاف ظاہر ہےایک غیرمستحکم خلیج امریکہ اور یورپ کے مفاد میں ہرگز نہیں کیونکہ خلیجی ممالک میں لاکھوں مغربی شہری بہترین روزگار سے منسلک ہیں اربوں ڈالر کے حساب سے یورپی سرمایہ کاری خلیجی ممالک میں لگ چکی ہے۔ خلیجی ممالک اور مغرب و امریکہ کے درمیان بہترین پرامن بقا باہمی اور تجارتی تعلقات قائم ہوچکے ہیں۔ گوکہ خلیجی ممالک کی نظام حکومت قبائلی اور سرداری نظام پر مشتمل ہے لیکن یہاں کی عوام اپنے حکمرانوں سے بہت ہی خوش ہیں اور خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انگریزوں کے جانے کے بعد خلیجی قبائلی حکمرانوں نے اپنے ملکوں کوایک چھوٹی مدت میں ایسا ترقی یافتہ بنایا ہیں جیسا کوئی زمہ وار شخص اپنے گھر کو بہترین تزعین اور آرائش سے مزین کرے اور اپنے بچوں کی مستقبل روشن کو تابناک بنادے ۔ اب ایسے میں وہ کونسا بے وقوف ہوگا جو اپنے خوشحال گھر کو ایک مزھبی جنونی کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھے گا۔ اس تمام صورتحال سے یہی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک ایران شیطانی کردار کو روکنے کیلئے کسی حد تک جاسکتے ہیں۔ چاہے اقتصادی پابندیاں ہو یا برائے راست جنگ ، دونوں صورتوں میں خصارہ ایران ہی کا زیادہ ہوگا۔ اگر جنگ ہوئی تو سارا اخراجات اور نقصان ایران ہی سے وصول ہوگا، کیونکہ اقصادی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی تیل کے سارے گاہگ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے پاس جاچکے ہیں۔ جس سے اس سرپلس تیل کی آمدنی سے جنگ کے تمام اخراجات پورا ہونگے۔سعودی عرب کا موقف ہے کہ وہ کوشش کرینگے کہ یہ جنگ نہ ہو لیکن بال اب ایران کے کورٹ میں ہے، یاد رہے کچھ دن پہلے عرب نیوز جوکہ کہا جاتاہے کہ سعودی ولی عہد کی ملکیت میں ہے اپنے آڈیٹوریل میں لکھا ہے کہ ایران کو انکی دھشت گردی روکنے کیلیے اس پر حملہ ضرور ہونا چاہیے۔ اگر ایران کے خلاف جنگ ہوئی تو بلوچ قومی تحریک اس Equations میں کہاں ہوگا؟ ہماری موجودہ قومی جہد کی سیاسی وعسکری تشکیل کو اگر دیکھاجائے تو ہم آنکھیں پھاڑ کر اپنے سامنے دنیا کو بدلتے دیکھ رہے ہیں اور ہمارے سائنسی جہد کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ یہ جنگ ہمارے سرپر آ کھڑی ہے جس سے بلوچ قوم کا آدھا حصہ برئے راست متاثر ہو رہا ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ پراکسی جنگوں کی دنیا میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ ایران کے خلاف امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل مجوزہ جنگ بلوچ قوم کی مستقبل کیلئے ایک نادر موقع ہےلیکن ہمارے آزادی کی تحریک ایک نامعقول مصلحت کے تحت نظریاتی اور جغرافیائی تقسیم کا شکار ہے جس کی وجہ سے قومی قوت ایک مرکز پر مرتکز نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہاں عالمی قوتوں کے ہاں ایک سوال ضرور سراٹھائے گا کہ بلوچ آزادی کی بات تو کرتے ہیں لیکن انکی اجتماعی سیاست قیادت کہاں ہیں؟ کہ جو ایسے موقعوں پر اپنے قومی مفاد کے خاطر ہم خیال عالمی قوتوں کے ساتھ بات چیت کرسکے !