آج تقریباً ایک سال بعد جب میں نے کچھ لکھنا چاہا پہلے تو ہاتھ کانپ رہے تھے الفاظ ساتھ دینے سے انکاری تھے مگر بہت کوشش کے بعد کچھ لکھنا شروع کیا۔ ویسے تو بلوچ قومی تحریک نے بہت سارے ستم ظریفیاں برداشت کی ہیں مگر 1939 سے 2025 تک برطانوی سامراج اور اس کے بعد کے سامراجی کاسہ لیسوں یعنی ایران پاکستان اور بشمول دیگر فریقین نے تقسیم کر حکومت کرو کی پالیسی اپناہی ساتھ ہی ساتھ اپنے اندرونی ڈیڑھ فٹ کے مسجدوں کے شوقینوں نے بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی ہر کسی نے ظاہری طور پہ تو جتایا کہ میں بلوچ قوم کا سب سے بڑا غمخوار ہوں لیکن کسی ایک نے بھی عملی غمخواری کو عملی جامع نہیں پہنایا آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف پہاڑوں پر بیٹھا سرمچار ہے جو اپنا سب کچھ داوٌ پر لگا چکا ہے دوسری طرف چند منافع خور ہیں جو بضد ہیں کہ ہم کسی صورت ایک نہیں ہونگے ہر ایک کو بلوچ یکجاہی میں اپنی دکان ڈوبتی نظر آرہی ہے جب ان دانشوروں سے سوال کیاجاۓ تو جواب ملتا ہے جی دوبارہ تحریک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی انتشار پھیلےگا فلاں وقت میں کیوں تقسیم ہوئی اب کیوں ایک ہونا چاہتے ہیں لیکن کسی ایک میں بھی لیڈر شپی کا ایک انچ صلاحیت موجود نہیں ہے کیونکہ لیڈر قوموں کو یکجاہ کرتا ہے نا کہ حیلے اور بہانوں سے تنظیمی دڑوں کو ایک دوسرے سے الگ ۔ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیاجاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ لیڈروں نے قوموں کی یکجاہی کے لئے خود کو فنا کیا مگر ہمارے یہاں ڈیڑھ فٹ کی مسجدوں کے مالک بن بیٹھے ہیں اب تک لاکھوں بلوچ اپنی عظیم مادروطن پر جان قربان کرچکے ہیں ہزاروں دشمنوں کے زندانوں اور پھانسی گاٹھوں کے نظر ہوچکے ہیں مگر ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھاۓ کہ اتنی بڑی قربانی تم چند کے انا پرستیوں کی نظر ہورہی ہے اور آج جب بلوچ سرمچار اس حد تک منظم ہیں کہ اگر یکجاہی ہو تو دشمن کو الٹے پاؤں دوڑائیں اب تو بس سب کچھ بھولنے کی ضرورت ہے اور قومی مفاد میں یکجاہی کی ضرورت ہے اور اس کے لۓ ہر سرمچار پر فرض ہے کہ اب ان سب کو سمجھے منزل کو اتنی نزدیکی سے دور نا جانے دیں بلکہ یکجاہ ہوکر سرخرو ہوں اپنی قومی آزادی حاصل کریں اور شکست خوردہ دشمن کو شکستِ فاش دیں۔ بلوچ قومی اوتاق۔ بلوچ قومی اداره بی ایل اے۔ تحریر: بلوچ قومی سپاہی ھیبتان بلوچ۔ تاریخ 2025 جولاہی 29۔ وقت2:02۔ :















