تحریر: بیورغ بلوچ
ہر شب ایک نیا ہنگامہ اور ہر روز ایک نئی آزمائش ہے،ایک شخص نرگسیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر پوری قوم کے لیے ایک آزمائش بن چکا ہے، آزمائش کا یہ سلسلہ کس حد تک طویل ہوتا اور یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے فی الحال کسی کو کچھ خبر نہیں البتہ ان ہنگامہ خیزیوں میں اتنا ضرور ہوا کہ اصل مسائل کی طرف توجہ کسی کے وہم وخیال میں بھی نہیں رہی ہے کہ موجودہ بلوچ قومی تحریک کس بحران کا شکار ہے۔ سیاست کے اندر عدم استحکام ، ہیجان، دشنام طرازیاں معمول کی بات سمجھی جارہی ہیں حالانکہ یہ رویہ مستقبل قریب میں بلوچ قومی تحریک کے پائیدار عمل کے لئے زہر قاتل ہے۔ دوسری جانب ایک ایسا ہجوم جو کسی محاورے کے مطابق ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگے جا رہا ہے ، منزل کہا ں اور جانا کہاں ہے راہبر کو خود معلوم نہیں کہ نری جذباتیت کبھی منزل تک پہنچانے کا سبب نہیں ہوا کرتی بلکہ مضبوط حکمت عملی اور عالمی دنیا کے سامنے منظم روڈ میپ سے ہی سیاسی سفارت کاری کی جاسکتی ہے ۔
یہ بات طے ہے کہ حالیہ بلوچ قومی تحریک کے اندر ادارہ جاتی سلسلے کو روکنے کی سازشیں جناب ڈاکٹر اللہ نظر نے شروع کیں کیونکہ ان کا مقصد صرف مکمل آزاد سیاسی اداروں پر بندوق کے زور پر اپنی جمعداری قائم کرنا تھا جو ایک حد تک کامیاب بھی ہوا۔
میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں اس انسان کی شخصیت ایک معمہ ہے جو آج تک کسی پر کھل نہیں سکی البتہ اس معمے نے اور بہت سارے پارساؤں کی قبائیں چاک کر دیں۔ پہلے اہل سیاست نے سنگت حیربیار کے خلاف اپنے پیٹ ننگے کیے اب اہلِ مزاحمت بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہا۔ ان حضرات نے سنگت حیربیار کی مخالفت میں اپنی اصلیت آشکار کی، معلوم ہوا دلیل ،تہذیب، اختلاف رائے، تحمل و برداشت اور شائستگی سے سب الحمد للہ تہی دست ہیں۔ پہلے اہل سیاست ایک دوسرے پر گند اچھالتے اور خبث باطن ظاہر کرتے تھے اب یہی کام اہلِ مزاحمت نے بھی شروع کر دیا۔ اہلِ مزاحمت اس کام میں دو ہاتھ آگے نکلے کیونکہ یہ لوگ جناب ڈاکٹر اللہ نظر کی سربراہی میں ہر کام بحسن و خوبی اور احسان کے ساتھ سر انجام دینے کے قائل ہیں۔
آج بلوچ سیاست پر جن منفی اثرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اس امر کی سب سے بڑی ذمہ داریاں جناب ڈاکٹر اللہ نظر اور چئیرمین بشیر زیب پر عائد ہوتی ہیں کیونکہ ان شخصیات نے اداروں کے تقدس کو صرف اس لئے پامال کیا کہ ان کی اپنی حاکمیت سلامت رہے اور یہ نام نہاد حاکمیت ان کی نرگسیت میں مبتلا حرکتیں ہی تھیں۔
میرے خیال میں جناب ڈاکٹر اللہ نظر میں واحد خوبی جس کا ہر جگہ حوالہ دیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر ذہن سازی کی جاتی ہے کہ وہ لیڈر ہیں وہ کرپٹ نہیں۔ میری نظر میں، اللہ مجھے عقل سلیم سے نوازے مالی کرپشن سے زیادہ خطرناک اخلاقی کرپشن ہے اور یہ شخص اس میدا ن میں طاق ہے۔ جس ڈھٹائی اور تسلسل سے اس شخص نے مختلف تنظیموں کا سہارا لیکر سنگت خیربیار کے خلاف جھوٹ بولے اور آج بھی بول رہا ہے اگر جھوٹ کی کوئی حد ہوتی تو یہ شخص اس کا سب سے پہلا شکار ہوتا اگر صادق و امین ہونے کے پیمانے درست ہوتے تو آج یہ شخص کاذب اور وعدہ خلاف قرار پاتا،افسوس مگر یہ ہے کہ ہمارے ترازو خواہشات اور مصلحتو ں کے اسیر ہوگئے۔ مہران مری کے مالی کرپشن کہ جس کے ثبوت کھل کر واضح ہیں اُن پر پردہ ڈال کر بی ایل اے کو دو لخت کرنے کی ذمہ داریاں اسی ٹولے کے سر ہے۔
انسان غیب کا علم نہیں جانتا اس لیے مجبور ہے کہ ماضی کے تجربات اور واقعات کی بنیاد پر مستقبل کے بارے میں کوئی رائے قائم کرے اسی بنیاد پر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ڈاکٹر اللہ نظر اور بشیر زیب سے مجھے کسی خیر کی توقع نہیں جذبات، ہیجان، انتقام، نرگسیت اور خود پسندی یہ سب صفات انسان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ختم کر دیتے ہیں اگر حسن ظن سے کام لیا جائے تو بھی ان دونوں جناب میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رہی اس ٹولے کی سیاست کا محور صرف بغضِ حیربیار میں اپنا وقت صرف کرکے نوجوان نسل کو کھو کھلے نعروں اور جذباتیت کی بنیاد پر استعمال کرکے اپنی حاکمیت کا دیوہیکل مجسمہ تیار کرلیں ۔
اب ایسی صورت میں ان جناب سے خیر کی توقع عبث ہے ہاں کسی کو محاورے پر عمل کرنے کا شوق ہو اور وہ محاوراتی سچائی کو آنکھوں سے دیکھنا چاہے تو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے۔















