پاکستان بندوق کی نوک طاقت’ جبر’لالچ اور مختلف حربوں سے بلوچستان میں اپنا قبضہ کو برقرار رکھتے ہوئے بلوچ قوم کو طاقت کے زور پر قابض اور وسائل کو بے دردی سے لوٹ کر پنچاب کو خوشحال کرنے کے لیے سالوں کی نفرت کو محبت میں بدلنے کا خواب دیکھ رہا ہے . اور اس بھیانک کھیل “بلوچ نسل کشی ” میں بلوچستان کے نام نہاد قوم پرستی کے دعواے دار پارلیمانی پارٹیاں شامل جرم اور تاریخ میں قاتل بلوچ کے نام سے اپنا نام لکھوا رہے ہیں. لیکن بلوچ قوم کی پاکستان سے نفرت اب کئی نسلوں تک جائے گی اور بلوچ کا ہر آنے والا نسل اس پنچابی ریاست سے نفرت کرتا رہیگا یہی شُھدا بلوچستان کی ارمانوں کا تکمیل ہے ‘ بحر بلوچ سے لے کر آج دنیا کے جس کونے میں ایک بلوچ بستا ہے وہ پاکستان سے نفرت اور اپنے قوم کا قاتل تصور کرتا ہے. شاید وہ بلوچ جس نے بلوچستان کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے لیکن وہ جہان جس ملک میں ایک پاکستانی کو دیکھتا ہے تو اس سے اتنی ہی نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے جتنا کوہلو ڈیرہ بگٹی جھلاون یا مکران کا ایک بلوچ ان سے پاکستانیوں سے نفرت کرتا ہے’ اور یہی نفرت کو نسلوں تک پہنچانا ہے, اور بلوچستان /پاکستان کا یہی رشتہ ہے ‘ یہ حقیقت ہے کہ بلوچ کم وسائل اور جنگی سازوسامان میں اپنے سے بڑے ایک طاقت سے نبرد آزما ہے لیکن پاکستان کو بھی معلوم ہے کہ وہ ایک قوم سے جنگ کررہا ہے صرف انہی دو سالوں کے دوران جہد آزادی کے پاداش میں ہزاروں بلوچ شہید اور 9 ہزار بلوچ نام نہاد نشنل ایکشن پلان کے نام پر گرفتار ہوچکے ہیں لیکن ریاست نہ اس جنگ کو ختم کرسکا نہ بلوچوں کے دلوں کو فتح کرسکا. طاقت کے بے دریغ استعمال سے پیسہ کی لالچ تک وہ سب بلوچ کو قابو کرنے کے لیے استعمال کررہا ہے. لیکن یہ مٹھی بھر بلوچ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ کم آبادی والے بلوچ بستیوں میں ہزاروں کی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے باوجود وہ ایک بے سرو سامان بلوچ کے آنکھوں میں اپنی موت دیکھ کر اُسے ٹارچر سیلوں میں ڈال دیتا ہے . سالوں اذیت دے کر اسکی لاش کو مسخ کرکے ویرانوں میں پھینک دیتا ہے کہ باقی لوگ عبرت لے کر ڈر جائیں لیکن ہر قدم پر ناکامی اور نا مردای دشمن کے مقدر میں لکھا ہے آج اگر آپ گوادر سے خضدار تک کسی بلوچ سے پوچھیں کہ یہ روڈ آپ کے لیے ہے ؟ تو وہ دائیں بائیں دیکھ کر دھمیہ لہجہ میں کہے گا یہ بلوچوں کی نسل کشی کا لکیر ہے جو پنچاب نے کھینچا ہے. اور گوادر کے باسیوں کو بھی معلوم ہے کہ گوادر کے میگا استحصال پروجیکٹ کامیاب ہوجائیں تو انکا حال لیاری کے بلوچوں سے بھی بدتر ہوگا. گوادر میں پانی کو نایاب کرکے یہ کوشش کیا گیا کہ آبادی وہان سے ہجرت کرے لیکن گوادر کے لوگ اپنے آبائی سرزمین سے دستبردار ہونا نہیں چاہتے اور اسی بحر بلوچ سے کوئی حمل پیدا ہوگا یہی ڈر اور خوف ریاست کے دل او دماغ میں ہے کہ گوادر کو اگر پنچاب کے لیے جنت بنانا ہے تو گوادریوں سے حالی کرنا ہوگا. انکے جاہل دانشور طبقہ تاریخ کو مسخ کرکے یہی لکھ رہے ہیں کہ گوادر بلوچستان کا حصہ نہیں تھا یہ پاکستان نے عمان سے خریدا ہے لیکن وہ اپنے دل میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ گوادر بلوچستان کا شہ رگ ہے اور اس سرزمین میں موجود آخری بلوچ تک اسکو گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے مزاحمت کا سامنا ہوگا. بلوچ قوم یہ جانتا ہے کہ یہ جنگ اسکی بقا کی جنگ ہے اور اگر یہ جنگ بلوچ ہار گیا تو وہ اپنی ہی سرزمین میں پنچابی لنڈ سروں کی چیرک اور دھوتی کے نیچے گُم ہوکر رہیں گے. اس لیے بلوچ نے ہر حال اور قمیت میں جنگ جاری رہنے کا ٹھان لیا ہے جہان ایک طاقتور دشمن کے سامنے چند مردہ ضمیر سرنڈر کرکے ہمیشہ کے لیے نیست او گمنام ہوتے ہیں وہان ہزاروں بلوچ فرزند سرنڈر ہونے کے بجائے موت کو ہنستے ہوئے قبول کرکے ہمیشہ دلوں پر راج کرتے ہیں اور یہی جذبہ ایک قوم کی امید اور دشمن کے لیے بھیانک ڈر ہے لیکن جن ماؤں نے اپنے لحت جگروں کو جنگ کے میدانوں میں قربان کیا اور کررہے ہیں آج وہ دشمن کو اپنے سرزمین میں دیکھ کر انکا دل خون کا آنسو روتا ہے اور وہ بہت تکلیف سے گزر رہے ہیں اتنی تکلیف انکو اپنے سالونک فرزندوں کی مسخ شدہ لاشوں پر نہیں ہوا ہوگا جو لیڈر شپ کی دوری اور غلطیوں پر ہورہا ہوگا کہ بلوچستان کو فتح کرنے کے لیے جب دشمن سب یک جاہ ہوکر ہمیں للکار رہے ہیں تو ہمارے کیوں آپس میں دور کھڑے ہوکر ایک ایک میں اپنا پتھر پھیک رہے ہیں۔ 27 مارچ 1948 سے آج تک پاکستان کا جو فوجی یا سول آمر آیا ہے بلوچستان کے بارے میں انکا پالیسی اور لب او لہجہ یہی رہا ہے کہ اب بلوچستان میں امن اور ملک دشمنوں کو شکست ہوا ہے لیکن جس مکاری سے انہوں بلوچ تحریک کو کچلنے کی کوشش کی ہے وہ ناکام رہے ہیں حقیقت میں بلوچ اور پاکستان کا رشتہ نفرت کا رشتہ ہے بلوچ فطری طور پر پاکستان سے اور پاکستان بلوچ سے نفرت کرتا ہے حاصل مالک اختر جتنے وفاداری کا ثبوت دیں بلوچ کے صادق اور جعفر جتنے دلاری کریں انکا حثیت پنچابی کے سامنے وہی ہے جتنا ہیرا منڈی کے ایک طوائف کا کسی چوہدری کے سامنے کپڑے اتارے وقت ہے لیکن جب ضمیر مر جائے تو کچھ محسوس نہیں ہوتا ہے, بلوچ بقا اور سرزمین کی دفاع کے لیے جنہوں نے ذمہداریاں اٹھے ہیں وہی ذمہ داریاں انکو عام سے خاص بنتا ہے تو پھر وہی خاص جب غیر سنجیدگی جھوٹ فریب سُستی سے کام کرینگے تو لوگوں کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں اور صرف مر کر فنا ہونا پھر بے سود ہوگا یہی مشکل حالات میں سنبھل کر چلنا اور حالات کو اپنے حق میں لانا کامیابی ہے بلوچ قیادت دانشور کارکن یہ دیکھ لیں جہاں نظریات طریقہ کار یا کسی غلط عمل یا شوق لیڈری کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا عمل دوریاں پیدا ہوئے ہیں ان پر جامع انداز میں علمی بحث کو آگے بڑھائیں اور جہان انا ضد اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر خلیج پیدا ہوا ہے تو بغیر کسی تاخیر کے آگے بڑھیں۔ اور یہی وقت و حالاتِ کا تقاضہ اور قومی زمہداری ہے. ایک طرف طاقتور مکار دشمن اور دوسری طرف بے سرو سامانی کے حالات میں بلوچ کھڑے ہیں تو اس صورتحال میں بلوچ کو اس 16 سال میں اپنے جنگ کو سامنے رکھتے ہوئے کامیابیوں اور ناکامیابی دیکھنے ہیں اور آگئے بڑھانے کے لیے صف بندی کرنے ہونگے. سنگت خیر بیار اور انکے دوستوں نے وقت و حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بلوچستان لبریشن چارٹر پیش کیا لیکن بدقسمتی سے وہان قومی ذمہ داریوں سے بھاگ تھے ہوئے اکثریت نے انا کو ترجیح دی اور آج تک یہ جواز پیش نہ کرسکے کہ چارٹر کو کس بنیاد پر مسترد کیا گیا لیکن آج بھی وقت کی ضرورت ہے کہ انا کو قربان کرکے پھر پیش قدمی کیا جائے.















