بلوچستان کی جنگِ آزادی گزشتہ 78 برسوں سے جاری ہے، مگر اس طویل اور کٹھن جدوجہد میں سب سے عظیم کردار اُن بہادر ماؤں کا ہے جنہوں نے اپنی کوکھ کے لال اس دھرتی کی آزادی کے نام پر قربان کیے۔ وہ مائیں، جو بیٹے کی معمولی تکلیف پر رات بھر جاگتی رہتی ہیں، انہی ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو وطن کے لیے ہنستے ہوئے شہادت کے سفر پر روانہ کیا۔

بلوچ مائیں اس سرزمین کی اصل پہچان ہیں۔ کوئی ماں اپنے اکلوتے بیٹے کو دشمن کے خلاف بھیجتی ہے، کوئی اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر صبر کے پہاڑ بن جاتی ہے، تو کوئی بیٹے کی راہ تکتے تکتے اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ ان کے دل پر کتنا بوجھ گزرتا ہوگا، مگر لبوں پر صبر اور دعاؤں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

لُمہ یاسمین جیسی مائیں اس دھرتی کی فخر ہیں۔ جب اُس نے اپنے بیٹے ریحان کے کندھے پر بلوچستان کا جھنڈا رکھا تو اُس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:

“جا بیٹا! خدا تمہارے ساتھ ہے، دشمنوں کو نیست و نابود کر دینا۔”

یہی وہ جذبہ ہے جو نسل در نسل آزادی کی اس لڑائی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ یہ مائیں جانتی ہیں کہ پہاڑوں میں جدوجہد کرنے والے بیٹوں کو بھوک، پیاس، سردی، گرمی اور ہزاروں مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر پھر بھی وہ بیٹوں کو نصیحت کرتی ہیں:

“شہادت کو فخر سے قبول کرنا، مگر پیچھے مڑ کر کبھی نہ دیکھنا۔”

ان ماؤں کی قربانیاں محض اپنے بیٹوں تک محدود نہیں۔ ان کی دعائیں اور صبر ہر سرمچار کے لیے ڈھال بن جاتے ہیں۔ ان کے دل سے نکلنے والی دعائیں آزادی کے سپاہیوں کے لیے ہمت اور دشمن کے لیے زوال بن جاتی ہیں۔

یقیناً، ان ماؤں کی قربانیاں کبھی ضائع نہیں ہوں گی۔ تاریخ ہمیشہ گواہی دے گی کہ بلوچستان کی آزادی کی جنگ کو ماؤں کی آنکھوں کے آنسوؤں، ان کے صبر اور ان کے عظیم حوصلے نے زندہ رکھا۔ بلوچ قوم اور یہ سرزمین ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔