بلوچستان ایک ملک ہے، اور ایک ملک کو دنیا کے تمام ایک سو ترانوے ممالک کے ساتھ سفارتی ، تجارتی، سیاسی، اخلاقی اور سلامتی ودفاع سے متعقل تعلقات قائم کرنے کی آزادی ہے۔

اگر پاکستان پورے خطے میں بلوچستان کے وسائل اور جغرافیہ کو غلطی اور غیرقانونی طور منسوب کرکے عالمی امن و امان اور سلامتی کو گمراہ کرسکتی ہے تو پھر بلوچ کیوں عالمی برادری بشمول، اسرائیل، بھارت تعلقات کو استوار کرکے امن و امان، ترقی، و خوشحال مستقبل پر بات نہیں کرسکتے؟

ہم پاکستان اور ایران کو کہنا چاہتے ہیں کہ ستر سال کی لوٹ مار اور بلوچستان کے عوام کے خلاف دہشت گردی بہت ہوچکی ہے اب بلوچ قوم اپنی قومی طاقت اور سفارتکاری سے عالمی دنیا کو باور کرانے کا تہیہ کرچکے ہیں ، پاکستان اور ایران بلوچوں کو بیرونی ایجنٹ کہہ کر حقائق کو چھپا نہیں سکتے۔

بلوچ کسی کا ایجنت، پراکسی نہٰں بلکہ ایک ملک ہے اور ہمارے دنیا کے ساتھ تعلقات سفارتی زمرے میں آتے ہیں جس پر ہمیں فخر ہے۔ میں کچھ ناداں بلوچوں اور سیاسی طفلانہ سوچ رکھنے والے دوستوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بلوچستان کی تحریک اب عالمی پالیسی سرکلز میں زیر بحث ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے قبضہ کی بنیادیں ہل رہی ہیں اور بلوچستان عالمی دنیا کے سنجیدہ تنک ٹینک اور میڈیا میں زیر بحث ہے جو پاکستان اور ایران کو گوارا نہیں کیونکہ بلوچستان کےبغیر پاکستان اور ایران دو لینڈ لاک ممالک کے طور پر اپنی وقعت کھونے کے قریب ہیں۔

بلوچستان کے سنجیدہ اور باشعور عوام اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ بلوچ راجی راہشون سنگت حیربیار مری کی سربراہی میں فری بلوچستان مومومنٹ کے بلوچ سیاسی کارکن میر یار بلوچ کی طرف سے سفارتی کاوشوں کا کھل کر حمایت کرے کیونکہ ایف بی ایم رہنما سنگت حیربیار مری کی دن رات انتھک محنت، تجربہ، مخلوص اور ایماندارنہ جہد اور بلوچ قومی شہدا اور جہد کاروں کی شبانہ روز محنت اور قربانیوں سے بلوچستان خطے کی ضرورت بن چکی ہے پاکستان اپنی ساکھ کھوچکی ہے اور جتنا بلوچستان عالمی ذرائع ابلاغ میں ڈسکس ہوگی اتنی ایران و پاکستان کی بے چینی میں اضافہ ہوتا رہیگا اور بلوچ قوم کی تحریک کو بیرونی پراکسی ظاہر کرے بلوچوں کی نسل کشی کو جواز فراہم کرتے رہیں گے لیکن یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ جب انگریز ہندوستان پر قابض تھے تو ہندوستان کے انقلابی آزادی پسند رہنما بھگ سنگ، نیتاجی سبھاش چندر باس، مہاتما گاندھی اور تمام محب وطن ہندوستانی برطانوی افواج کے لئے دہشت گرد تھے لیکن انگریز کی ہندوستان سے انخلا کے بعد ہندوستان کے وہ ہیروز کو آج برطانیہ بھی عزت و احترام سے یاد کرتا ہے اور بھارت کے ایک سو چالیس کروڑ ہندوستانی اپنے عظیم ہروز پر فخر کرتے ہیں۔ بلوچستان کی تحریک آزاد اور اس تحریک سے جڑے سیاسی اور مزاحمتی بلوچ دوست بلوچستان کے حقیقی وارث ہیں اور ہمیں تہران اور اسلام آباد کے قابض افواج کی سرٹیفیکٹس کی ضرورت نہیں ہے۔

آج کل امریکہ تنک ٹینک میمری مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جسے اسرائیل کے دووزیر اعظم کا کاونٹر ٹیررزم کے ڈیپارٹمنٹ میں سپیشل اڈوائزر رہے اسرائیلی ملٹر انٹیلی جنس سے جڑے یگال کارمان سربراہ ہیں بلوچستان میں جاری ظلم و جبر اور انسانی حقوق کو اجاگر کررہے ہٰیں ۔ میمری کی اکیڈمک اور ریسرچ کام کو لیکر پاکستانی کو کافی تکلیف پہنچ رہی ہے اب انہوں نے ایک اور چور تہران کو بھی اینٹی بلوچ عزائم کی تکمیل کے لئے شامل کرلیا ہے۔ بلوچستان کے دشمنوں کی طرف سے بلوچ تحریک آزادی اور ایف بی ایم کے لیڈرشپ کے خلاف زہریلا پروپگنڈہ اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ ایف بی ایم آزاد بلوچستان کی جہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، بلوچ بیانیہ کو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے اور یہ بلوچ کی یہ سفارتی کامیابی پاکستان اور ایران کی دہشت گردی، قبضہ گیریت کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہورہی ہے ۔ بلوچ نوجوانوں اور لکھاریوں کو پاکستان اور ایران کی پروپگنڈوں سے متاثر ہونے کی بجائے کھل کر اپنے رشتوں کو عالمی برادری کے ساتھ استوار کرے اور ایک ملک کی حیثیت سے دنیا میں بلوچ قومی تحریک کی نمائندگی کرے۔