لندن (ہمگام نیوز) گزشتہ ایک مہنیے کے اندر بلوچ خواتین کے خلاف بڑھتے ریاستی جبر اور پے در پے بلوچ خواتین کو گھروں سے اغوا کرکے غائب کرنے کے خلاف مانچسٹر میں فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے ایک احتجاج کیا گیا۔
اس احتجاجی مظاہرے میں سوشلسٹ ورکر پارٹی کے گیف براؤن اور تبدیلی کے بیرکدار مارکوس ویسٹ سمیت راجی بلوچ اور نوبت مری نے خطاب کیا یاد رہے کہ بلوچستان کے اندر تحریک آزادی کی جد و جہد کو کچلنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستانی و ایرانی قابض ریاستیں بلوچ قوم کو اجتماعی سزا کی مذموم ہتھکنڈوں کی بنیاد پر جد و جہد سے دست بردار کرانے کی کوششیں کررہی ہیں اور حالیہ دنوں بلوچ خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی کریک ڈاؤن اسی مذموم ہتھکنڈے کا ہی شاخسانہ ہے۔
ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے اندر گزشتہ سال ماہو نامی چودہ سالہ کمسن بلوچ بچی کو ملٹری کیمپ بلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جسکے خلاف بلوچ قوم نے احتجاج کرتے ہوئے مکی مسجد دزاپ میں مظاہرہ کیا اور ایرانی قابض فورسز کی براہ راست فائرنگ سے سو سے زائد بلوچ فرزند شہید ہوگئے اور اس سے زیادہ زخمی بھی ہوئے تھے جسے جمعہ خونین کے نام یاد کیا جاتا ہے۔
ویسے ہی پاکستانی مقبوضہ بلوچستان کے اندر تحریک آجوئی کی بڑھتی ہوئی پذیرائی سے خوفزدہ ہوکر قابض فوج نے ماہل نامی بلوچ خاتون کو اغوا کیا تھا اور اسکے بعد ماہ جبین نامی خاتون کو اغوا کیا گیا جو آج تک لاپتہ ہے اسکے بعد اغواہ کئیے گئے چار خواتین میں سے ہانی بلوچ آٹھ ماہ کا حاملہ ہے، اور انکے بارے میں ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔















