بلوچ قومی کردار اور نمایاں صفت تحریر: زربار بلوچ ہمگام: اردو کالم دنیا میں تمام جدوجہد اپنے وقت وحالات کے مطابق نشیب وفراز سے گزرکراپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے ،کوئی بھی جدوجہد مشکلات،مصائب،دشواری،کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ،جدوجہد اور مشکلات ،مصائب،چیلنج ،بحران ایک دوسرے کے مترادف الفاظ ہیں جدوجہد اگر جسم ہے تو چیلنج ،مشکلات ،مصائب اسکی پرچھائیں اور سایہ ہیں ،قومی جدوجہد ایک ریاست کی تشکیل کے لیے ہوتا ہے جو قوم کی ہزاروں سال کے ورثہ کی بحالی ،قومی کلچر،تہذیب،تمدن ،اور قومی نمایاں صفت کی تجدیداور بحالی کی ایک کیفیت کا نام ہے ،ریاست کی بحالی کے جدوجہدی میعاد مدت اوردوران میں دومختلف ذہنی رویے اور خوصیات جہدکاروں میں پیدا ہوتے ہیں جو انکی شخصیت کو بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں ،ایک کی نمایاں خصوصیات قابض کے پرتو ہوتے ہیں جبکہ دوسرے کا اپنی ہزاروں سال کی تاریخ ،کلچر،تہذیب اور تمدن کا عکس ہوتے ہیں ایک قابض کا اتباع کرنے والا ہوتا ہے جبکہ دوسرا اپنے اسلاف کے سنت پر عمل کرنے والا ہوتا ہے ،جبکہ غلامی اور قبضہ کے دوران قابض کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ محکوم اقوام کو انکی قومی نمایاں صفت سے بیگانہ کرکے قابض کے مسلط کردہ صفت کو انکی زندگی کا معمول بنالیں اسکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ محکوم سے اسکی قومی زرخیز اور آزاد خودمختار ماضی چھین کر انکو غلاظت بھری قابض کی غلامی اور محکومی کے حال سے آراستہ کرکے حال کو انکے لیے موافق بنالیں ،جب قابض کسی قوم یا جہدکار کے قومی نمایاں خوصیات اور صفت کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتو ان کے لیے اس جہدکار کے ،رویہ ،انداز فکر،نقطہ نگاہ کو تبدیل کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے ، پھر اس جہدکار کو کوئی چھوٹا سا مشکلات مصائب اور تنگی یاکہ لالچ توڑنے میں کافی ہوتا ہے جب قابض ایک قوم اور ایک جہدکو مکمل ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسکی پہلی ترجیح ہوتی ہے کہ اسکی کلچر ،ماضی ،ہیروز اور قومی خوصیات اور صفات سے اسکو ٖبے پروا اور غافل کرکے قابض کی مصنوعی اور بناوٹی کلچر ، تاریخ،ہیروز اور خصوصیات کے ساتھ ان کی آمیزش کریں  کیونکہ اگر دیکھا جائے دنیا میں ہر قوم کی قومی خصوصیات دوسری اقوام سے الگ ہوتی ہیں وہ قومی خصوصیات اور قومی صفات انکو دوسری اقوام سے الگ یا نمایاں بھی کرتے ہیں اور انکی پہچان بھی صحیع یاغلط کے طور پر کرواتے ہیں جاپانی لوگوں کی قومی خصوصیات اور صفات میں پابندی وقت ،قدامت پسند ،ادب ، عزت واحترام،وہم پرستی روحانی اعتقاد،شامل ہیں Japanese Culture and Behavior: Selected Readingsمیں جاپانی قومی چال چلن کے بارے میں لکھا ہے کہ جاپانی لفظ سمنائی sumanai ہے جسکو احساس جرم کے لیے استعمال کرتے ہیں جب کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو ان کی قومی خصوصیات اور صفات میں جرم اور ندامت سمجھتے ہیں اس لیے جب بھی کسی فوجی کو جب قانون کی خلاف ورزی پر معطل کیا جاتا ہے تو وہ ندامت سے جاکر خودکشی کرتا ہے کیونکہ یہ انکی قومی صفات میں شامل ہے لیکن پاکستان اور باقی جگہوں میں تو معطل شدہ فوجی بھی فخر محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہر قوم اور لوگوں کی قومی خصوصیات الگ ہوتے ہیں اسی طرح کورین قومی خصوصیات اور صفات باقی ماندہ ممالک سے الگ ہیں حالانکہ وہ خود ہزاروں سال تک دوسرے قابض قوتوں کے زیر اثر رہے لیکن ان لوگوں نے اپنے الگ نیشنل کریکٹر اور قومی ریاست کے تشکیل کی Narratives of Nation Building in Korea: A Genealogy of Patriotism،میں Sheila Miyoshi Jager لکھتے ہیں کہ Awakened Korean بیدار کورین علم و ادبیت کے پرچار سے ان کو ان کی اخلاقی آزادی ملی ،بیدار کورین کے فلسفہ کے تحت ان لوگوں نے اپنی قومی شناخت کی از سرنو تعمیرکی اور اس طرح سے اپنی ریاست کی تشکیل کو ممکن بنایا ان کی قومی خصلت،خاصیت،اور خدوخال اور امتیازی وصف باقی ماندہ مشرق بعید اور ایشیا کے اقوام سے مختلف ہیں جیسا کہ زیادہ جزباتی ہونا ،قوم پرستی وطن پرستی ،انکو ذاتی زندگی میں کامیاب بنانے کے لیے والدین کا دباوُ ،جلدباز ی ،بڑوں کا ادب کرنا ،انکے قومی خاصیت ہیں ۔ ہان چینی نسل اور عربوں کے بعد دنیا کی تیسری بڑی قوم بنگالی ہے جس کے کلچر اور قومی خدوخال باقیوں سے الگ تھلگ ہیں وہاں گلوکاری عام ہے کہ ہر گلی میں ایک گلوکار ہوتا ہے اور وہاں اسکالر بھی عام ہیں کہ ہر دوسرے دروازے میں ایک اسکالر ہوتا ہے ،اس لیے بنگالی زیادہ تر لبرل ہیں اسی طرح پنجابی کلچر ،قومی خصلت میں دھوکہ ،فریب،قابض قوتوں کے سامنے قالین اور فرش بچھانا ،وعدہ کرکے دغا کرنا معاہدہ کرکے مکرجانا ،مختارا ماہی جیسی عورتوں کو ننگا کرکے بدلہ لینا ،قران کا قسم لیکر نواب نوروز خان ، لال مسجد کے مولوی عزیز اور باقیوں سے معاہدہ کرکے پھر انکو گرفتار کرنا ،پیسہ لیکر طالبان کو امریکہ کے حوالے کرنا اور پھر ان طالبان کو پراکسی کے طور استعمال کرنا ،پیسہ کے لیے کام کرنا چاپلوسی ،جی حضوری کرنا پنجابی قومی خصوصیات اور خصلت ہیں جبکہ بلوچ قومی امتیازی وصف اورخاصیت ہے کہ بلوچ وعدے عہد و پیمان زبان کرکے اس پر قائم رہتے ہیں ،مہمان نوازی،پناہ دینا،ننگ وغیرت کی خاطر سر دینا،دوستی میں وفا کرنا اور دُشمنی میں بھی بلوچی حد رکھنا ،اغیار کی غلامی کے خلاف لڑنا ،بلوچ قومی امتیازی وصف اور خاصیت کا پنجابی سے بہت بڑی فرق ہے جو چیز بلوچ اخلاقیات کے اصول میں عیب اور انتہائی غلط سمجھا جاتا ہے وہ پنجابی قومی خصلت میں اعزاز سمجھا جاتا ہے جس طرح غیروں کی چاپلوسی کرنا ،ننگ کا سودا کرنا ،دُشمنی میں مرد دُشمن کی غیر موجودگی میں عورتوں پر دُشمنی نکالنا ،دھوکہ کرنا شامل ہیں بلوچ لیجنڈ نواب اکبر خان بگٹی ایک سندھی عورت کی خاطر پاکستانی فوج سے ٹکر لیتا ہے اور اس عورت کے ساتھ بلوچ سرزمین میں زیادتی کو بلوچ قومی غیرت کو للکارنے کے مترادف عمل سمجھ کر طاقتور فوج سے جنگ کرتا ہے بلوچ تاریخ میں رند لاشار کی تیس سالہ جنگ عورت کی خاطر لڑی جاتی ہے جبکہ پاکستانی پنجابی کے پنچاہت مرد کا بدلہ مختارا ماہی جیسی کمزور اور لاچار عورت کو برہنہ کرکے پوری بازار میں گما کر لیتے ہیں اور عافیہ صدیقی سمیت سینکڑوں عورتوں کا سودا کرتے ہیں ،اغیار اور قابض کے لیے قالین اور فرش بچھا کر انکی جی حضوری کرنا پنجابی خصلت رہا ہے سنٹرل ایشیا کے چور یا ترک اور مغل ہوں جن ،جن قوموں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو پنجابیوں نے قالین بچھا کرانکی جی حضوری اور خدمت میں کوئی عار محسوس نہیں کی ۔ جبکہ بلوچ اسلاف نے یونانی سکندر اعظم ،عرب،مغل،ترک،انگریز اور پنجابی سمیت سارے اغیار کی قبضہ کے خلاف جنگ لڑا اور قابض کی کھبی بھی جی حضوری نہیں کی ،اگر دیکھا جائے تو بلوچ کوڈ آف ایتک ، اصول اخلاق ،شباہت اور خاصہ پنجابی اور پاکستانی خصلت کی الٹ اور متضاد ہے ،پنجابی ایک ریاست کے مالک ہوتے ہوئے چاپلوسانہ فطرت کی وجہ سے ہر وقت کے سپرپاور کے سامنے اپنی پیشانی اور ماتھا رگڑ کران کی فرمانبرداری کرتا آرہا ہے ،برطانیہ سے لیکر امریکہ اور اب چین تک پنجابی باجگزاری کا سلسلہ جاری ہے۔لیکن بلوچ سورما اور ہیروں نے اپنے وقت کے طاقتوں کے سامنے برابری اور بلوچی وقار اور عظمت کو قائم دائم کرتے ہوئے معاملات طے کرتے رہے ،نصیر خان نوری کاافغان کے ساتھ دوستی اور بلوچی وقار کو قائم رکھنے کے دوران جنگ تک کرنے کی کوشش ، چاکراعظم ،حمل جیند،عبداللہ خان قہار سمیت سب نے بلوچی عظمت کو قائم رکھا ،حالیہ قومی تحریک کے دوران جو لوگ روس کی افغانستان میں موجودگی کے دوران نواب خیربخش مری کے ساتھ افغانستان میں موجود تھے انکو معلوم ہوگا کہ ایک محکوم اور ریاست کے بغیر انکی سرزمین میں ایک پناہ گزین کے طور پر رہتے ہوئے بھی نواب خیر بخش مری نے روس اور افغان دونوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آئے انھوں نے بھی بلوچی نجابت ،شان وشوکت ،اثر انگیزی کو قائم دائم رکھا حالانکہ روس کے سامنے اس وقت کی بڑی ریاستیں بھی اپنی اثر انگیزی کو قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے نواب اکبر خان بگٹی نے پاکستانیوں اور دنیا کے سامنے بھی محکومی کے دوران بلوچ قومی عظمت کو قائم رکھا اس لیے تو مولانا طارق جمیل سمیت پاکستان اور دنیا کے بہت سے لوگ اس کی جاہ و جلال اور شخصیت پرستی کی مثالیں دیتے ہیں اب بھی موجودہ جدوجہد کے دوران اگر افغانوں ،ہندوستانی اورامریکن سے معاملات ہوں تو حیربیار مری ہی کو ثانی نصیر خان نوری اور چاکر اعظم کہا جاسکتا ہے کہ اس نے بھی محکومی کے دوران بلوچ قومی شان وشوکت اور اثر انگیزی کو قائم دائم کیا ہوا ہے ،ہندوستان خطے کا سپرپاور ہے جو کسی پر بھی حکم چلا سکتا ہے لیکن اس کے سامنے اپنے قومی عظمت کوصرف اور صرف حیربیار مری نے قائم کیا ہوا ہے ،مجھے خود ایک انڈین نے بتایا کہ مودی نے جب بلوچستان کا نام لیکر بلوچوں کا میعار معلوم کیا اور اس بیان کو بھی اس نے پاکستان کے ساتھ ڈپلومیسی کے طور پر استعمال بھی کیا تو اس دوران بلوچ سیاست میں بہت سے لوگ پنجابی فطرت کا عکس پیش کررہے تھے لیکن حیربیار مری بیان کی سیاسی ڈپلومیسی کو بھی پہچان چکا تھا اور اس نے اپنی بلوچی وقار اورعظمت کو بھی قائم کیا ہوا تھا ،حیربیار مری کسی قوم اور ملک کے سامنے پنجابی اور پاکستانی خصلت کا عکس بن کر پیش نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ بلوچ قومی کوڈ آف اخلاقیات ،بلوچ نمایاں صفت کا پرتو اور عکس بن کر قومی ترجمانی کرتا ہے ،اگر غور سے دیکھا جائے تو پنجابی اور گجر نے قبضہ کے دوران بلوچ قوم کو اس کی تاریخ ،ہیروز،اور شناخت سے بیگانہ کرتے ہوئے ایرانی اور پاکستانی نصابی کتابوں کے زریعے چاکر اعظم ،نصیر خان نوری،دادشاہ،حمل جیند،بیورغ ،کے بجائے ،غوری،غزنوی،اقبال ،جناح،فردوسی ،نادرشاہ ،مصدق ،کی تاریخ پڑھا کر ان کو انکی ہیروز اور زرخیز تاریخ سے بیگانہ کرکے انکو پنجابی اور غیروں سے واقف اور شناسائی کروائے اور غلامی کے اثنا میں بلوچ قومی کردار کے بجائے پنجابی غلیظ خصلتیں کچھ بلوچ آہستہ آہستہ اپناتے گئے ،بلوچ ہونے کے باوجود بھی بہت سے لوگ پاکستانی اور ایرانی خصلت کا نقش ثانی اور عکس بن چکے ہیں ،حقیقت میں ایک جہدکار اپنی قوم سرزمین اور قومی کردار کا عملی نمونہ ہوتا ہے وہ قابض کی نقش قدم پر چلنے کے بجائے اسٹیٹسکوکو چیلنج کرکے قابض کی غلیظ خصلت کے بجائے اپنی قومی خصوصیت،خدوخال اور شباہت کا پرتو ہوتا ہے ،بلوچ قومی تحریک جو کہ بلوچ قوم کی ،سرزمین،تاریخ،ہیروز،بلوچ الگ نفسیاتی ساخت،بلوچ کلچر کا پیداوار ہے اور قابض ایران اور پاکستانی ریاست کے قومی کلچر ،قومی مفادات اور نفسیاتی ساخت کا الٹ اور تضاد ہے کیونکہ قابض پاکستان ،ایران و بلوچ قوم اور اسکی تاریخ ،معاشی مفادات اور نفسیاتی ساخت ایک دوسرے کے برعکس اور مقابل ہیں ،قوموں کی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو بلوچ یا تو پاکستانی یا کہ ایرانی ہو سکتا ہے یا کہ بلوچ ،پاکستانی قوم اور بلوچ قوم دونوں نہیں ہوسکتا ہے اس لیے تو پاکستان نصابی کتابوں میں بلوچ قومی ہیروز نصیر خان نوری ،چاکر خان ،حمل کلمتی عبداللہ خان قہار کی کفر کی حد تک ممانعت ہے کیونکہ وہ بلوچ قوم کو بلوچ سے نکال کر پاکستانی قوم بنانا چاہتی ہے بلوچ قوم کو نصابی کتابوں کے زریعے بے حسی اور مصنوعی بے ہوشی کا انجکشن لگا کر پاکستانی قوم بنانا چاہتی ہے ،ہاں حاصل خان بزنجو ،جام کمال ،شفیق مینگل،جیسے بے حس لوگ بلوچیت سے نکل کر پنجابی بنا فخر سمجھتے ہو، لیکن کوئی بھی غیرت مند بلوچ اپنی قابل فخر قومی تاریخ اور عظمت و ناز سے بھرے بلوچ قومی ہیروز کو چھوڑ کر زلت اور رسوائی کے سمبل پاکستانی بننا پسند نہیں کریں گے ،جاپان نے کوشش کی کہ چینی قوم جاپانی بن کر جاپان کی شناخت کا حصہ بنے سرب نے کوشش کی کہ کوسو و ،بوسنیا وغیرہ کے لوگ انکے حصہ بنے ،پاکستان نے کوشش کی کہ بنگالی پاکستانی بنے ،لیکن زندہ قومیں اپنی پہچان اپنی شناخت اپنی الگ نام ونشان کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے ہیں ،جو قومیں غلامی کے دوران اپنی الگ پہچان ،شناخت اور قومی کردار کو چھوڑ کر قابض کی خصلتیں اپناتے وہ قومیں ریڈ انڈین اور ابور جنیز کی طرح غائب اور معدوم ہوجاتے ہیں اور جو قومیں اپنی تاریخ ،کلچر،قومی ہیروز،الگ نفسیاتی ساخت اور قومی کردار کا عملی عکس اور نمونہ ہوکر قابض کے خلاف سختی مشکلات ،مصائب اور تنگی مصیبت کے حالات میں ڈٹ جاتے ہیں وہ قومیں خود غائب اور معدوم ہونے کے بجائے آزاد ہوکر مصنوعی ریاستوں کو مٹا دیتے ہیں جس طرح کے دنیا میں پاکستان سے کئی گناہ بڑی مصنوعی ریاستیں جن میں ,تولوسا ،برگنڈی،اراگون ،لتوا،روس، سلطنت عثمانیہ یوگوسلاویہ ،خود کو اپنی اصل حالات میں قائم نہ رکھ سکے اور بڑی بڑی غیر فطری و مصنوعی ریاستیں نیست ونابود اور برباد ہوگئے لیکن وہ قومیں جو بلوچ قوم کی طرح ان غیر فطری اور مصنوعی ریاستوں کے قبضہ میں تھے اور جن محکوم ریاستوں نے اپنی انفرادی قومی خاصیت اور امتیازی وصف پر سمجھوتہ نہیں کیا آج وہ قومیں آزاد اور خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ بھی ہیں جن کے ممالک خود سپرپاور یا علاقائی طاقتیں بن چکی ہیں جس میں امریکہ،چین،جرمنی،ہندوستان،کوریا،روس وغیرہ کیونکہ اگر مصنوعی ریاستوں میں محکوم اپنی پہچان ،شناخت،کلچر،تاریخ اور قومی کردار کو قائم کریں تو مصنوعی ریاستیں دیر تک ان کو محکوم نہیں بناسکتے ہیں بلوچ تحریک اور تحریک سے جڑے لوگ کس حد تک پنجابی اورپاکستانی جوڑ توڑی ،جھوٹ ،دھوکہ دہی اور پارلیمانی طرز سیاست کی کچھ دو کچھ لو کی بنیادی سیاست سے متاثر ہیں ،قومی سیاست اور پارلیمانی جوڑ توڑی سیاست میں فرق ہے قومی سیاست اور جدوجہد سے ایک ریاست کی تشکیل کو ممکن بنایا جاتا ہے جبکہ جوڑ توڑی اور پنجابی خصلت اور دھوکہ دہی کی سیاست سے الیکشن جیتا جاسکتا ہے لیکن کسی مقبوضہ ریاست کو آزاد نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست کی تشکیل کے لیے مستقل مزاجی ،قومی پالیسی،صحیع منصوبہ بندی و حکمت عملی اور قومی اپروچ و قومی خاصیت ،امتیازی وصف کا ہونا ضروری ہے کہ جو ایک جہدکار یا ایک قومی لیڈر کو باقی قبضہ گیر ریاست اور قوم سے عملی حوالے سے مختلف کرتا ہو وہ لیڈر قابض کے بجائے اپنی قوم ،تاریخ،ثقافت ،اوراسلاف کا پرتو اور عکس ہو تب جاکر سخت حالات مشکلات مصائب اور مصیبت کے بعد وہ لیڈراپنی قوم کو ایک روشن مستقبل دے سکے گا قومی جدوجہد کا سفر پارلیمانی سیاست کی طرز کا کوتاراہی سفر نہیں بلکہ یہ صبر آزما،طول پکڑنے والی اور کھٹن ،مشکلات اور طرح طرح کے آزمائشوں سے بھری اکتانے والا طویل سفر ہے جس میں لیڈرشپ کی دوراندیشی ،مستقل مزاجی،اور اپنی قومی عظمت ،وقار،منصب بلندی ، عالی ظرفی،قومی شان،بڑائی اور رتبہ عالی کے لیے لیڈرشپ کو اپنی قوم ،ثقافت ، قومی کردار کا عملی نمونہ ہونا چاہئے جہاں ہندوستان کو اپنی آزادی حاصل کرنے کے لیے دو سوسال لگے وہاں ،کینیا ،تنزانیہ،وغیرہ کو صدی لگے سو سال اور پچاس سال تک کی طویل قومی جدوجہد کے لیے پارلیمانی جوڑ توڑی اور دونمبری اور موقع پرستی جیسے فارمولہ لاگو نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس کے لیے جارج واشنگٹن ،جیولیس نیریرے ،جموکنیتا،ڈیوڈ بن گورین اور حیربیار مری کی طرح اپنی قومی مفادات کو کسی بھی ریاست ،ملک اور قوم کی خاطر قربان کرنے کے بجائے قابض کے ساتھ ساتھ باقی جگہوں میں بھی ڈٹ جانا ہوتا ہے اور اپنی قوم کو دوسرے قوموں کے سامنے حقیر اور فقیر کے بجائے اپنی قومی عظمت ،وقار،منصب بلندی ، عالی ظرفی،قومی شان ، بڑائی اور رتبہ عالی کو بڑھانا چاہئے ،چاہے دُشمن پاکستان اور ایران ہوں یا بلوچ حمایتی افغانستان ،ہندوستان ،اسرائیل اور امریکہ یا کوئی بھی ملک کے سامنے حیربیارمری نے بلوچ قومی سربلندی اور وقار و شان رتبہ عالی کو بلند کیا ہے اور وہ ،نواب اکبر خان بگٹی اور حمل کلمتی کے بعد غالبا واحد بلوچ لیڈر ہیں کہ جو بلوچ قومی کردار ،خدوخال،خاصیت اور نمایاں صفت کا عکس اور پرتو ہے ،پاکستان کے تمام فوجی اور سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ حیربیار مری تک سبیل اور رساہی پاکستان کے لیے ناممکن ہے اورقابض کے لیے بلاواستہ یا بالواستہ حیربیارمری کی پالسییوں کو تبدیل کرنا مشکل ہے اس لیے وہ ہر جگہ اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرتا ہے جبکہ حیربیار مری نے باقی ممالک کے ساتھ بھی مالک اور نوکر حاکم اور محکوم کے بجائے برابری کی بنیاد پر پیش آکر اپنے ساتھ ساتھ اپنی قوم کی شان وقار اونچا کیا جہاں قومی مفادات کو نقصان ہوا تو اس نے اپنے قومی مفادات کا سمجوتہ نہیں کیا اور باقی قوموں اور ممالک کے سامنے ظاہر کیا کہ بلوچ پنجابی اور پاکستانیوں کی طرح ایک حقیر اور فقیر نہیں بلکہ ایک غیرت مند خود دار اور باوقار قوم ہے کیونکہ لیڈر قوم کے نماہندے ہوتے ہیں اگر وہ پنجابی اور پاکستانی سیاست دانوں کی طرح ہو تو وہ اپنی قوم اور ملک کو بھکاری بنادیتے ہیں اگر وہ لیڈر اسرائیلی ،جرمن،فرنچ،جاپانی،اور کورین قوم سے ہوں تو وہ اپنی قوم کی شان و عظمت کو بلند کرتے ہیں کیونکہ وہ لیڈر اپنے قوم اور تاریخ ،کلچر کے پرتو ہوتے ہیں۔ اسی طرح بلوچ لیڈر حیربیار مری نے بلوچ قومی عظمت اور وقار کو بلند رکھا ہے اور ایسے ہی لیڈر قوم کو غلامی کی تاریک اور سیاہ دور سے نکال کر روشن ،چمک دار اور اُجالا صبح دیتے ہیں۔