بلوچ سیاست پرپاکستانی فریبکارانہ و منافقانہ سیاست نے اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں اگر بلوچ ایک نئی ریاست بنانے جارہی ہے تو اُسے سے سب سے پہلے ایسے منفی رویوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا سبیل ڈھونڈنا ہوگا نہیں تو اس ناہموار بنیاد پر بنی تعمیر بھی کج ہی رہے گی اور آزادی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پائیں گے جس کے لئے قوم آج بے پناہ قربانیاں دے رہی ہے۔
ایسے کئی منفی رویوں سے ایک سردار ونوابوں کی قیادت پر اعتراض یا اپنی ناکامیوں میں اُن کی قیادت کو عذر کے طور پیش کرناہے ۔ٹھیک یہی کچھ پاکستان کررہی ہے جب اُسے ضرورت پڑتی ہے توانہی سردار و نوابوں کو اقتدار سونپ کر تمام سرکاری اداروں کو اُن کی گھرکی لونڈی بناتا ہے لیکن دوسری طرف انہی کو بلوچستان میں ترقی مخالف کا خطاب دے کر اپنی تمام بے اعتنائیوں ،بے انصافیوں و مظالم کا ملبہ اُنہی کے سر تھونپ دیتاہے ۔اس سے ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ یہ سردار و نواب ریاست کے جرائم میں شریک جرم نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے یہ تمام جرائم ریاست ان سرداروں کیساتھ ملکر کرتی ہے۔ ریاست یہ سب کچھ جان کر ایک مخصوص منصوبے کے تحت کرتی ہے۔ بلاشبہ اُس کے علم میں ہے کہ یہ سردار و نواب ریاست و بلوچ قوم کے درمیان نفرتوں کا سبب ہیں لیکن پھربھی وہ ہر دور میں اُنکی پشت پناہی کرتی ہے اُنھیں قانوں گرفت میں نہیں لاتا۔ قانوں ،ادارے ،تمام قوتیں مرکز کے پاس ہیں اور یہ لوگ دن دیہاڑے بڑے سے بڑا جرم کرتے ہیں مگر قانون اُنھیں دیکھ نہیں پاتی۔
یہاں بھی جب مڈل کلاس قیادت کو ضرورت ہوتاہے تووہ آزادی پسند و درست سمت پر چلنے والے سردار و نواب کو نہ صرف قبول کرتاہے بلکہ اُنکی قیادت میں فخر سے اکٹھے ہوتے ہیں مگر جونہی مقصد پورا ہوتا ہے تواچانک سردار و نواب ڈکٹیٹر اور خود سر بنتے ہیں ۔ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی سیاست میں شروع سے ہر چار پانچ سال بعد کسی سردار و نواب کو قائد بنایا جاتا ہے پھر کچھ وقت گذرنے کے بعد سب کو یاد آتا ہے کہ بھئی یہ تو سردار و نواب ہے جو بلوچ کااستحصالی طبقہ ہے جبکہ یہ بات کامل یقین کیساتھ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی مڈل کلا س لیڈر یہ بات کہہ نہیں سکتا کہ اس نے کبھی کسی نواب یاسردار کا انگلی پکڑکر چلنا نہیں سیکھا ہے۔اور نہ ہی کوئی یہ گارنٹی دے سکتا ہے کہ جو کسی کو سردار اور نواب کہکر اُسے خود سر کہتا ہے کل اُس کے ساتھ قدم ملا کے نہیں چلے گا اور وہ بھی اس صورت میں کہ سردار و نواب اپنے رویے کو کبھی نہیں بدلے گا بلکہ مڈل کلاس خود اپنے معیار کا تعین کرکے اپنے دوقدم پیچھے ہٹنے کا جواز پیش کرے گا۔
دراصل اس رویے کی حقیقت ایک منافقت کے سوا کچھ نہیں جس طرح پاکستان بدنامیوں کو سردار و نوابوں کے سر تھونپ کر اُنھیں رسواؤں کے بدلے اقتدار و مراعات دیتا ہے یہاں بھی مڈل کلا س جب تھک جاتا ہے یا کہیں سمجھوتا کا خیال آتا ہے یا اُس پر لیڈری کا بھوت سوار ہوتاہے اور راہیں جدا کرنے کے بہانے ڈھونڈتاہے تب اُس پر اُس وقت قیادت یا پارٹی میں مجموعی طورپروہ تمام خرابیاں آشکار ہوتی ہیں جو اس سے پہلے اُس کی آنکھوں سے اوجھل تھیں۔
بنیادی مسلہ : ہمارے لئے یہ سوال ہمیشہ اہم رہا ہے کہ آیا مسلہ واقعی یہی ہے یا مسلہ کچھ اور ہے اورآج جد وجہد میں اس سوال کی اہمیت ہے کہ نہیں ؟
جس طرح اُوپر عرض کیا جاچکا کہ مسلہ سرداری نوابی زہنیت کی نہیں بلکہ مسلہ کچھ اور ہوتا ہے جس کا دفاع اپنی راہیں جدا کرنے کی طرف مائل شخص کھل کر نہیں کر سکتا لہذا پہلے سے آزامائے ہوئے بھونڈے الزام میں راہ نجات ڈھونڈتا ہے ۔اب یہ تجربہ بی ایس او کی وقتاً فوقتاً تقسیم در تقسیم اور مڈل کلاس کی تمام جماعتوں کی بنتے ٹوٹتے درجنوں بار ہوا ہے ہر بار نفاق کا دوشی سردار و نواب کوٹھہرا کر خود کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر کچھ عرصے بعد کسی بہانے انہی سرداروں سے پھر اتحاد کیا گیاہے یا کسی سردار ونواب کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے اُسے مکمل قیادت سونپی گئی ہے۔
کل تک براہمدغ خان بگٹی اور حیربیار مری بھی آزادی پسندوں کے مڈل کلاس قیادت کیلئے مکمل طور پر قابل قبول تھے اب اچانک مڈل کلاس کو خیال آیا کہ یہ ہمارے کلاس کے نہیں اور یہ سیاست میں قبائلیت کے پرچارک موجودہ تقاضوں پر پورا نہیں اُترتے لہذا یہ تحریک کیلئے نقصاندہ ہیں۔اور تو اور نواب خیر بخش مری سے بھی اس بابت ٹھکر لینے اور نوے کی دہائی میں راہیں جدا کرنے کے غبارے چھوڑے گئے ۔
جہاں تک اس راہ میں غلطیوں اور اَپر کلاس کے موقع پرستی کا سوال ہے تو یہاں سے اگر ایک سردار عطااللہ مینگل اپنے نعرہ آزادی سے مکر کر پاکستام کی گود میں بیٹھا ہے تو مڈل کلاس قیادت کا پورا پورا کارواں بھٹک کر پاکستانی پارلیمنٹ کے طواف میں دین و ایمان گنوا بیٹھا ہے۔ جہاں تک ایمانداری اور استقامت کا سوال ہے وہ انفرادی ہے اُسے طبقوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا ۔پوری دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں ہر طبقے میں وطن فروش و سرفروش دونوں موجود رہے ہیں اس سے نہ جدوجہد کو ترک کیا جاسکتا ہے اورنہ اس سے رواں راہ میں بہتری تلاش کرنے کی کوششیں ترک کی جاسکتی ہیں۔
قومی تحریک آزادی کے تقاضے : کچھ کم علم لوگ بلوچ تحریک آزادی میں انقلاب کی بات کرتے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے درست نہیں کیونکہ انقلاب کسی نظام یا ملک کے اندر بنیادی یا مکمل تبدیلی کو کہا جاتا ہے جبکہ بلوچ قوم پاکستان کے اندر کسی تبدیلی کیلئے جدوجہد نہیں کررہا بلکہ اُس کامقصد غلامی سے نجات ہے ۔دوسرے لفظوں میں یہ قومی تحریک آزادی کی جدوجہد ہے تواس نوعیت کی جدوجہد میں سردار ونواب سے لیکر چپڑاسی و چرواہے تک یکسان کردار ادا کرسکتے ہیں اسمیں عالم ،ناخواندہ ،سرمایہ دار ،غریب،دین دار ،بے دین سب اپنااپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ عمومی طور پراس مرحلے میں جو چیز کسی کو کسی پر افضل کرتی ہے وہ اُس کاعمل اور اُس تحریک کے ساتھ بے لوث وابستگی ہے ۔نہ کسی طبقے کو دوسرے طبقے پر برتری حاصل ہے اور نہ ہی کوئی طبقہ دوسرے سے حقیر ہے۔ لہذا وطن سب کی ہے اور اُس کا سب پر یکسان حق ہے ۔
یہاں جو چیز سب سے زیادہ حیران کن ہے کہ ان لوگوں نے سب سے پہلے حیربیار مری کو آڑے ہاتھوں لیا اور بعد میں سب پہلے اُسی کے خرمن میں ڈھاکہ ڈالا جو اس تحریک میں شروع سے کھل کر سرداری کے خلاف بولتا آرہاہے ۔آپکا پیش کردہ چارٹر آف لبریشن میں ون مین ون ووٹ کا بنیادی شرط اور بابا مری کے رحلت کے وقت اس خواہش کا اظہار کرنا کہ بابا مری کو قبیلے کا آخری نواب مان کراس سلسلے کو یہی پہ ختم کیا جاناچائیے آپ کے مذکورہ موقف کی تائید کیلئے کافی ہے۔
اگر یہ لوگ واقعی سرداریت سے ایسے متنفر ہوتے جس طرح اس کا اظہار کرتے ہیں تو وہ ایسے لیڈر پرکسی بھی صورت حملہ نہیں کرتے جو اپنے طبقے سے بغاوت کرکے عام بلوچ کی وکالت کرنے نکلا ہو۔
گویا اُن کے عذر ضعیف اور اُن کے الزامات بے بنیاد تھے جواُنھوں نے اس بات سے خاص فاہدہ اُٹھانے کی کوشش کی کہ چونکہ حیربیار مری کے دیگر سربراہاں کے ساتھ کئی باتوں پر اتفاق رائے نہیں لہذا اس وقت اُنھیں کچھ نہ کہا جائے بلکہ ایک لحاظ سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ آپ ہمارے لئے قابل قبول ہیں اور جوچیز ہمیں اور آپ کو متحد کرتی ہے وہ حیربیارمری کی مخالفت ہے ۔حیربیار مری پر ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ساز باز اور ڈکٹیٹر کا الزام لگا یااور ساتھ میں وقفے وقفے سے اتحاد کرنے کا خواہش بھی ظاہر کیا گیا۔جس پر ہم جیسے سیاست کے طالبعلم فقط دو سوالات کرتے رہے پہلہ اگر کوئی شخص جو تحریک آزادی سے وابستہ ہے اور وہ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کیلئے کام کرتا ہے اور آپ کے پاس ثبوت ہے تو آپکو اُنھیں چھپانے یااُن کے افشاں کرنے کو التوامیں ڈالنے کا کوئی حق نہیں لہذا وہ قوم کے سامنے پیش کیجئے دوسرا اگر آپ جانتے ہیں کہ کوئی کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے مفادات کا محافظ ہے تو آپ ایسے شخص سے کیوں اتحاد کی بات کرتے ہیں ؟ ان دونوں سوالات کے جوابات تاحال نہیں آئے ہیں ۔ بعد میں جب براہمدغ خان بگٹی اور نواب مہران مری کی طرف سے اُنھیں خاطر خواہ جواب نہیں ملا اب پتہ چلا کہ وہ بھی نواب اور خود سر ہیں ۔
حرف آخر : ایک بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہے جس پرہم اُوپر اظہار خیال کرچکے ہیں کہ یہ جنگ طبقات یا پاکستان کے اندر داخلی تبدیل کیلئے نہیں لڑی جارہی اور نہ یہ پاکستانی پارلیمانی سیاست ہے کہ جس میں اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو زیادہ سے زیادہ سیٹ و اقتدار سے محروم ہوگا یہاں صورتحال بہت گھمبیر ہے یہاں معمولی سی غلطی کئی نوجوانوں کی زندگی لے سکتا ہے کئی گھر وں اوردیہاتوں کو نذر آتش کرواسکتا ہے کئی بچوں کو یتیم بنا سکتا ہے دوسرے لفظوں میں اگرہم نے مجموعی طور پر زمہ دارانہ رویہ نہیں اپنایا تو رواں تحریک آزادی کو جاری رکھنا ناممکن ہوگا۔
ہمیں ایک دوسرے کیلئے فضا ء خوشگوار بنانا چائیے ناکہ ایسا ماحول بنائیں کہ سب گھٹن سے سانس لینے میں دشواری محسوس کریں ۔ٹھوس اور دلائل پر مبنی موقف کو ضرور سامنے رکھیں مگر کہیں بھاگنے اور کسی کا کام بگاڑنے جھوٹے اختلافات کو ہوا دے کر روئی کاپہاڑ نہ بنائیں ۔ایسا صرف اُس وقت ممکن ہے کہ ہم ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں ایسے عناصر کی پشت پناہی نہ کریں جو تنظیموں میں مجموعی ڈسپلن توڑنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوں۔دوسروں کیلئے کھڈا کھودنے سے پہلے کم از کم یہ سوچیں کہ ہم بھی انسان ہیں اور اِسی زمین پر گھومتے ہیں کئی ہماراعمل مکافات عمل بن کرپشیمانی کا سبب نہ بن جائے۔















