ہمگام کالم : جان کی امان پاہوں تو عرض کروں کہ جب بھی پاکستانی فوج اور پنجابی حکمران بلوچستان کی محرومی، تباہی و بربادی اور پسماندگی و ناخواندگی کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ تو اُنکے مطمع نگاہ و ہدف تنقید صرف اور صرف تین بڑے سردار ہوتے ہیں۔
خواہ وہ جنرل ایوب و جنرل یحی ہوں، ذوالفقار علی بھٹو و ضیاالحق ہوں، یا پھر نواز شریف و پرویز مشرف ہو۔ سب کی توپوں کی رُخ ہمیشہ شہید نواب اکبر خان بگٹی ، نواب خیربخش مری اور سردار عطا اللہ مینگل کے طرف ہوتے رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی وجود سے لیکر بلوچستان پر آج کی قبضے تک پاکستانی حکمرانوں کو ہمیشہ انہی تین نواب و سرداروں کی مقابلہ و مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔اِس لیئے اب جب بھی بلوچستان کی پسماندگی اور زبوں حالی کی ذکر آئیگی تو پاکستانی فوج، پاکستانی میڈیا اور پنجابی پارلیمنٹیرین کی نظروں کے سامنے یہی تین سردار یا اُنکے جان نشینوں کی تصویریں اپ ڈیٹ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
کیونکہ باقی 72 فرمانبردار سرداروں کے بارے میں خود پاکستانی فوج اور پنجابی اشرافیہ معترف ہیں کہ وہ پاکستان کے وفادار اور وفاق کی علامت ہیں۔
میرے خیال میں بلوچستان کے ہر بیدار و باشعور شخص بھی اب اچھی طرح سے باخبر ہے کہ پاکستانی صحافی، دانشور، مزہبی مُلا اور پالیسی ساز قوتیں کس لیئے سردار، نواب اور قبائلی نظام پر ہرزہ سرائی کرتے پھرتے ہیں۔
پنجاب کے دانشور پنجاب کے دیہی علاقوں میں قائم پنچایتی نظام اور اُسکے نتیجے میں پیش آنے والے شرمناک واقعات پر صرف نظر رکھ کر ہمیشہ بلوچ قبائلی نظام میں نقائص و خرابی کی متلاشی ہوتے ہیں۔
اُنکو بلوچستان میں خواتین کی حقوق اور آزادی_اظہار کی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ لیکن پنجاب کی گلی کوچوں میں چار سالہ و چھ سالہ بچیوں کی زیادتی زدہ لاشیں دکھائی نہیں دیتی۔ مختاراں مائی پر سات سانڈ چھڑانے کی پنچایتی فیصلے نظر نہیں آتے۔۔۔
لیکن دشمن سے کیا گلہ جب دشمن کا آلہ_کار ہر دور میں آستین کی سانپ بن کر اُس وقت ڈھنگ مارنا شروع کر دیتا ہے جب بلوچ قوم ہم زُبان و ہمقدم ہوکر دشمن کے خلاف آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں ۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ جب بلوچستان کو جبری الحاق کے ذریعے پاکستان نامی نومولود ملک کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
تو آغا عبدالکریم خان کی شکل میں ایک خان بغاوت کرکے اپنی ریاست کی بحالی کی جنگ لڑتا ہے۔
ایوب خان کے خلاف ایک اسّی سالہ بوڑھا نواب نوروز خان علم_بغاوت بلند کرکے پہاڑوں کا رُخ کرتا ہے۔ 62 اور 74 میں سردار عطااللہ مینگل و نواب خیربخش مری جنگ کی قیادت کرتے ہیں۔
پھر پچیس، چھبیس سال کے وقفے کے بعد ایک نئی جنگ کی آغاز کوہلو کاہان سے شروع ہوکر ڈیرہ بگٹی و بولان کو اپنی لپیٹ میں لیکر مکران تک پھیل جاتی ہے۔ جسکی قیادت بھی نواب مری اور نواب بگٹی کرتے ہیں۔ اِسی جنگ میں نواب مری کے صاحبزادے شہید میر بالاچ خان مری اور ڈاڈائے بلوچ شہید نواب اکبر خان بگٹی اپنی جانوں کی نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ جبکہ نوابزادہ حیربیار مری اور نواب براہمدغ بگٹی علم آزادی کو تھامے ہوئے آج تک دشمن کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
یہ رہی نواب سرداروں کی مختصر سی قربانیوں رہنمایانہ جد و جہد کی مختصر سی داستان۔ اگر آپ تاریخ کے پرانے اوراق اُلٹتے رہینگے تو آپ کو خان نصیر نوری اوّل و دوم کی شاندار حکمرانی دکھائی دیگی۔ آپ کو طاقتور انگریزوں کے خلاف خان شہید محراب خان کی جرآت و بہادری کی بے مثال داستان ملیگی آپ نواب مری کے باپ دادا کو حملہ آوروں سے الجھتے دیکھیں گے۔ آپ کو مغربی بلوچستان میں سردار دوست محمد خان کی بلا شرکت غیرے حکمرانی کی سُنہری دور دکھائی دیگی۔
ہر چند کے قبائلی جنگ و جدل اور ایک قبائل کا دوسرے قبائل پر فوقیت و برتری کی فرسودہ سوچ نے بلوچ قوم کو ایک ہمہ گیر و متحد قوم کی روپ دھارنے نہ دیا۔ لیکن اگر تاریخ کا منصفانہ و غیرجانبدارانہ مطالعہ کیا جائے تو ہر بلوچ قبائل میں ہمیشہ کچھ منافق ، فسادی اور بدنیت قسم کے لوگ شامل رہے ہیں۔ جو غیروں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہوئے قبائل کو آپس میں دست و گریباں کرنے اور قومی قوت کو کمزور و منتشر کرنے کے مؤجب بنے رہے۔ جو آج دن تک ہزارخان رحمکانی ، سرفراز و شفیق کی شکل میں موجود ہیں۔
اِنکے علاوہ بلوچ معاشرے میں غیر قبائلی یا درمیانہ طبقے کے وہ لوگ بھی ہے جو صدیوں سے موجود ہیں۔ جنکو بلوچ قبائلی معاشرے میں کمتر و کم قامت کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ جن میں مویشی پالنے( گلہ بانی کرنے والے ) زمینوں میں ہل چلانے، بڑے گھروں میں کام کاج سرانجام دینے والے اور چھوٹی قطعہ اراضی رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ کچھ آہن کار و سونار بھی پائے جاتے ہیں۔ جنہیں عرف عام میں ڈومب یا لوڈی اُستا کہا جاتا ہے۔۔۔
تو ایسے لوگوں کی بھی ہمیشہ یہی خواہش رہتی ہے کہ وہ کیسے اپنی کم حیثیت و کم مائیگی کی خاتمہ کرکے اونچا مقام و اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہو سکیں۔ یہی آس و خواہش اِنکو سازشیں جوڑنے اور منافقت پھیلانے پر مجبور کرتی ہے۔
درمیانے طبقے اور نچلے طبقے کے لوگوں کیلئے جھوٹ و منافقت، سازش و چال بازی کو عیب نہیں بلکہ دانائی و ہنرمندی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔۔
متوسط طبقے کے لیڈر و سیاست دان ہمیشہ نچھلے طبقے کے لوگوں کی احساس_ محرومی و بدحالی کو اعلی طبقے کی سر تھونپ کر اُنکی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے خود کو اُنکی نجات داہندہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے متوسط طبقے کے لوگوں نے بھی غریب کی غربت اور مجبوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسے ہر دور میں خوب کیش کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ
ایوب خان کے زمانے میں بلوچستان کے کس علاقے میں کس کس نےمتوسط طبقے کی کردار ادا کرکے قومی شیرازے کو نقصان پہنچایا۔ مگر بھٹو کے دور سے لیکر آج تک جتنے بھی کردار سامنے آئے ہیں۔ اِنکو اب قوم اچھی طرح سے پہچان چکی ہے۔
یہ وہ ناسور ہیں جو اِس قوم کو کبھی ایک نہیں ہونے دیتے ۔ موجودہ تحریکآزادی کی بنیاد ڈالنے والے نواب سرداروں کو اگر پتہ ہوتا کہ ایک دن ایسا بھی آئیگا کہ اتنی بڑی قربانی و نقصانات کے باوجود ایک بار پھر یہ سازشی لوگ قوم کو تقسیم کرنے اور اپنی زاتی و گروہی مفادات حاصل کرنے کیلئے تحریک کے پیٹھ پر چھرا گھونپ دینگے۔ تو شاید وہ حسبسابق اِس جنگ کو اپنے قبائل تک محدود رکھتے۔ اور کم از کم اِن بے اعتبار و سازشی لوگوں کو ساتھ نہیں لیتے لیکن چونکہ۔ اُنکی سوچ وسیع اور دل کشادہ تھے۔ اِس لیئے انہوں نے سابقہ جنگوں کی ناکامی اور دشمن کی طاقت کو مد_نظر رکھکر جنگ کو کسی ایک دو قبائل یا چند علاقوں کے بجائے پورے بلوچستان میں پھیلانے کی حکمت عملی اپنا لی۔
کیوں نہ اچھا ہوتا اگر صرف بی ایل اے کے نام پر ایک مسلح تنظیم ہوتی۔ اور ہر علاقے میں اُسکے شاخیں ( برانچز) موجود ہوتے۔ تاکہ ایک ہی آئی کمان اور کونسل اراکین کے ذریعے جنگ کو سخت اصولوں اور ڈسپلین کے مطابق چلانے میں آسانی ہوتا۔
مگر یہ راز اب کھل کر سامنے آیا کہ کچھ لوگوں کی نیتوں میں کوٹ تھی۔ جو ہر آئے دن میں واضح ہوتی جا رہی ہے۔
چونکہ نواب مری اُنکے صاحبزادوں اور پرانے ساتھیوں نے واحد قمبر پر بھروسہ کرکے اسلحے کی بڑی کھیپ اُنکے حوالے کردیا۔ سینئر مری جنگجو کمانڈر سرمچاروں کو جنگی تربیت دینے کیلئے مکران پہنچے۔ جنگ قومی جنگ کی شکل میں بلوچستان کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ لیکن اُس وقت جنگ پر اللہ نظر، بشیر ذیب اور گلزار جیسے منافع خوروں کی سائے نہیں پڑا تھا۔ جب موصوف حضرات کھود پڑے تو شہید قمبر قاضی جیسے قابل کمانڈر بھی مارے گئے۔ چور لٹیروں کی بھرتی شروع ہوگئی ۔
اسلحہ چوری کے آڈیو سامنے آنے لگے۔ چُنگیاں لگا کر ڈیزل پٹرول والوں سے ٹیکس بھتے کی وصولی ہونے لگی۔ وزیروں ٹھیکیداروں سے منتلی لینے لگے، اور پھر سیاسی، زاتی، خاندانی و علاقائی انتقام و دشمنیوں کا دور دورا ہوا۔ جب بہت زیادہ امیری و وژنری کی لت پڑ گئی تو منشیات کی کرایہ داری و سپلائی حلال ہوگئی ،
بس ایک خدشہ باقی تھی کہ کہیں پروکسی و دلالی کی الزام نہ لگے۔ لیکن مال و دولت کی ہوس نے ایران کی دلالی پر بھی مجبور کر دیا۔
یہ رہی نئے متوسط طبقے کی چھوٹی سی داستان۔
اب آپ فیصلہ کریں کہ بلوچ قومی تحریک کو کس نے نقصان اور کس نے فائدہ پہنچایا ہے۔۔۔
ایسے حالات میں اگر لوگ چھپ رہیں تو بڑے وفادار اور قوم دوست اور اگر سوال اُٹھاہیں تو مجرم ، غدار، ایجنٹ اور قوم دشمن ۔۔۔۔ قوم سے میرا سوال ہے کہ کیا آپ اپنے بچوں اور بھائیوں کو چوری ڈکیتی ، منشیات لوٹنے یا منشیات سپلائی کرنے اور کرائے کی جنگ میں مارا جانا پسند فرماہینگے یا ہر بُرائی و گندگی سے پاک صاف قوم و وطن کی خاطر لڑ کر شہید دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟















