ہمگام نیوز: بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا کہ بلوچ نوجوان شاعری اور کتابوں سے نہیں، ریاستی جبر سے ریڈیکلائز ہو رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک جاری بیان میں کیاہے ۔
یہ بیان بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے اس بیان کے ردعمل میں دیا گیا ہے جس میں سرفرازبگٹی کا کہنا کہ بلوچی شاعری نوجوانوں کو اکسا رہی ہے اسی لئے ادبی اکیڈمیوں کو حکومتی دائرے میں لانا ہوگا۔
بی وائی سی رہنما سمی دین بلوچ نے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے اس بیان کو دہراتے ہوئے طنزاًکہا کہ بلوچی شاعری نوجوانوں کو اکسا رہی ہے، اس لیے بلوچی زبان پر کام کرنے والی اکیڈمیوں کو حکومت کے سخت کنٹرول میں رکھا جائے۔
کتابیں ضبط کی جائیں، کیونکہ کتابیں نوجوانوں کو سوچنا سکھاتی ہیں اور سوچنے والا نوجوان خطرناک ہوتا ہے۔
لائبریریاں بند کر دی جائیں، کیونکہ اگر بلوچ نوجوان پڑھنے لگے تو وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنا سیکھ جائے گا۔
کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بلوچ طالب علموں کو غائب کر دیا جائے، کیونکہ تعلیم یافتہ نوجوان ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔آوازیں دبائی جائے، زبان بند کی جائے، کیونکہ بلوچ بولنے لگے ہیں۔
روزگار کے دروازے بند کر دیے جائیں، گھروں تک محصور رکھا جائے، سفر پر پابندیاں لگائی جائیں، تاکہ بلوچ ایک نارمل زندگی کے تصور سے بھی محروم ہو جائے۔
انٹرنیٹ بند کر دیا جائے، کیونکہ بلوچ اس کے ذریعے ریاستی جبر کو دیکھ اور سمجھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ کو سالہا سال جبری طور لاپتہ کرکے پھر اس معاملے کو جھٹلانا ہے، ورنہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والا ملک دنیا کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا۔
سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ بس یہی پالیسی ہونی چاہئے: بند کرنا ہے، پابندی لگانی ہے، غائب کرنا ہے، مارنا ہے، لیکن کبھی بھی ان پالیسیوں پر غور نہیں کرنا ہے جسکی وجہ سے ایک پوری قوم کا اعتماد ریاست سے ختم ہوچکا ہے،کبھی بھی اس قتل و غارت کو نہیں روکنا جس نے بلوچستان کو لہولہان کر رکھا ہے، جہاں رمضان کے بابرکت مہینے میں پنجگور جیسے چھوٹے شہر میں بیس دن کے اندر بائیس نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے انکی لاشیں پھینکنا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچ نوجوان ریاست مخالف بلوچی شاعری یا کتابوں کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ وہ ریاستی جبر، بلوچستان میں برسوں سے جاری پابندیاں، قدغنیں، خونریزی، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اور سوال کرنے والوں کو غائب کر کے جیلوں میں ڈالنے کی پالیسیوں کو دیکھ کر ریڈیکلائز ہورہا ہے، اگر کچھ بدلنا ہے تو بلوچستان کے حالات بدلیں۔ لٹریچر اور کتابوں پر پابندیاں پہلے سے بھی موجود ہیں۔















