شہید شادی خان، بہادر بلوچ کا فرزند، بمبور کے پہاڑوں سے ابھرا؛ وہ پہاڑ جو ہمیشہ مزاحمت کا گہوارہ اور شجاعت کے مزار رہے ہیں۔ وہ ایک ایسے نسل کا وارث تھا جس کی رگوں میں جزبہِ شہادت دوڑتی تھی؛ اُس کے والد اور بھائی اسی راہ میں جان دے گئے تھے اور شادی خان نے بھی اسی خونین مگر مقدس میراث کو آگے بڑھایا۔
وہ صرف ہتھیار تھامنے والا سرمچار نہیں تھا بلکہ ایک اچگا معلم اور روشن فکر انقلابی بھی تھا۔ پہاڑوں کے درمیان جہاں نہ کوئی سکول تھا اور نہ کوئی استاد، شادی خان نے اپنی محنت اور عزم سے پڑھنا لکھنا سیکھا تاکہ ثابت کرے کہ مزاحمت صرف بارود اور گولی سے نہیں جیتی جاتی بلکہ قلم اور لفظ بھی آزادی کے مورچوں کا حصہ ہیں۔
شادی خان ایک ایسا جوان تھا جس کی مسکراہٹ اور سکون ساتھیوں کے دلوں کو حوصلہ بخشتی تھی۔ سب سے کٹھن لمحوں میں بھی وہ امید کو زندہ رکھتا تھا۔ جیسا کہ ایک دن بمبور کی ہنگامہ خیز فضا میں جب ایک رفیق کی شہادت نے سب کو غمگین کر دیا، تو وہ پہلا شخص تھا جو اٹھا، ساتھیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور کہا: “غم دشمن کا ہتھیار ہے؛ ہمیں اور مضبوط کھڑا ہونا ہے۔”
اُس کا حوصلہ صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں بھی نمایاں تھا۔ ایک دن جب ہم دشمن کے راستے پر ناکا بندی کرنے گئے تھے، طے ہوا کہ میں اور شادی خان پہرہ دیں گے اور باقی ساتھی آگے جا کر حملہ کریں گے۔ دل کچھ بوجھل تھا کہ مجھے دشمن پر سیدھا وار کرنے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن شادی خان نے پُرعزم نگاہ اور مسکراتے ہوئے کہا: “بھائی! ہمیں بھی اپنا حصہ لینا ہے۔” پھر اُس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جرات سے کہا: “آؤ، ہم بھی چند گولیاں چلائیں تاکہ تاریخ جانے ہم پیچھے نہیں ہٹے۔” ہم دونوں سڑک کی طرف دوڑے، دشمن پر فائرنگ کی اور ہنستے ہنستے واپس ساتھیوں کے پاس آ گئے۔ یہ لمحہ شادی خان کے نڈر اور امیدافزا جذبے کی زندہ تصویر ہے۔
آخرکار 26 نومبر 2022 کو، کاھان کے پہاڑوں میں شادی خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک اہم معرکے میں شہید ہوا۔ مگر اپنے آخری گھڑیوں میں بھی اُس کے چہرے سے سکون اور مسکراہٹ غائب نہ ہوئی۔ وہ خون میں نہا گیا لیکن اپنے والد اور بھائیوں کے طرح آزادی کے افق جاویداں میں جا ملا۔
شادی خان کی شہادت کوئی انجام نہیں بلکہ اُس راہ کا تسلسل ہے جو آج بلوچ نسلوں کے کاندھوں پر ہے۔ اُس نے اپنے زندگی اور شہادت سے ثابت کیا کہ بلوچ مزاحمت صرف عسکری مورچوں میں محدود نہیں، بلکہ دلوں میں، قلموں میں اور عوام کے شکست نہ کھانے والے ایمان میں بھی جاری ہے۔
شادی خان شہید ہو گیا، مگر اُس کی یاد آج بھی بمبور کے پہاڑوں میں گونجتی ہے، ساتھیوں کے نگاہوں میں چمکتی ہے اور بلوچ قوم کی تاریخ میں مسکراہٹ، محبت اور استقامت کی علامت بن کر ہمیشہ زندہ رہے گی۔















