تحریر :حفیظ حسن آبادی
ھمگام آرٹیکلز
بلوچ یکجہتی کمیٹی روایتی کمیٹیوں سے بڑھ کر ایک تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے جیسے کچھ لوگ کسی عہدے پر بیٹھ کر اُسکی شان بڑھاتے ہیں اور کچھ لوگ کسی عہدے پر بیٹھ کر اسے بے توقیر کرتے ہیں یہاں بھی بی بی ماہ رنگ اور اس کے غم شریک ہمجولیوں نے اس کمیٹی کی شان بڑھائی ہے اور کچھ لوگ بڑے سردار، نواب و “قومی لیڈر” ہونے کا دعوٰی دار ہو کر ان رتبوں کو حقیر و بے توقیر دکھائی دئیے ہیں .
ہر فرد، کمیونٹی یا ملک و قوم پر جب مشکل گھڑی آتی ہے تو وہ اپنے ساتھ مشکلات کیساتھ چھلنی بھی لاتا ہے جو مرد و نامرد، باضمیر و بے ضمیر اور جنگی و بحرانی منافع خوروں کو ہجوم سے نکال کر الگ رکھ دیتا ہے مرد اور باضمیروں کو سرفرازی عطا کر کے تاریخ کے سنہری پنوں کی زینت بناتا ہے جبکہ نامرد، بے ضمیر اور بحرانی منافع خوروں کو مسترد کر کے تاریخ کے کچرا دان کے حوالے کرتا ہے.
اس وقت بلوچ قوم بھی عین اسی دہرائے پر کھڑی ہے جہاں اُس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں اس کے وجود کیساتھ اسکی پہچان، ہزار سالہ تاریخ، زبان، کلچر سب داؤ پر لگے ہیں اور وہ نسل کُشی کے ظالمانہ عمل سے گزر کر روز کٹ مر رہا ہے. اس کے سچے خیر خواہ باضمیر و غیرت مند اپنا جان مال سب کچھ داؤ پر لگا کر ہر میدان میں اس کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ اسی قوم کے بے ضمیر انھیں ناکام کرنے مخالف صفوں میں سازشیں کرنے سرگرم عمل ہیں اور جنگی و بحرانی منافع خور پاکستانی پارلیمان پرستوں کی شکل میں قوم پرستی کے نام پر زرپرستی میں مصروف ہیں. بلوچ معاشرے میں یہ وہ منافق طبقہ ہے جس کے بارے میں نامور ماہر سماجیات، سیاسی تجزیہ نگار فلاسفر نوم چومسکی نے کہا تھا کہ “لوگوں کو غیر فعال اور فرمانبردار رکھنے کا زبردست طریقہ یہ ہے کہ قابل قبول رائے کے دائرہ کار کو سختی سے محدود کیا جائے، لیکن اس سپیکٹرم کے اندر بہت جاندار بحث کی اجازت دی جائے۔ اس سے لوگوں کو یہ احساس ملتا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ہے، اس سے ہر وقت نظام کے قیاس آرائیوں کو بحث کے دائرے میں رکھی گئی حدود سے تقویت ملتی ہے”۔ یہ لوگ ہمیشہ اُس وقت بلوچ لاپتہ افراد اور بلوچ مسلے پر اسمبلیوں میں زوردار تقریریں کرتے ہیں جب کسی نہ کسی المیے کی وجہ سے قوم میں ریاست کے خلاف سخت غصے کا اظہار ہونا شروع ہوتا ہے تو اس سے پہلے کہ یہ غصہ صحیح سمت چل پڑے یہ درمیان میں کھود کر اپنی ادھر اُدھر کی باتوں اور بیانات سے عوام کا رخ اپنی طرف موڑ کر ظالم ریاست کیلئے ناموافق ماحول کو پھر سے آہستہ آہستہ سازگار بناتے ہیں. دوسرے لفظوں میں یہ نام نہاد قوم پرست جماعتوں کے رہبر ریاستی پریشر کوکر کی وہ سیٹیاں ہیں جو کوکر میں بھاپ اور پریشر کم کرنے کیلئے بوقت ضرورت گھوم کر سیٹیاں بجا کر اُسے پھٹنے سے محفوظ رکھتی ہیں.
جس چیز کو یہ لوگ بلوچ کیلئے بات کرنا یا بلوچ گمشدگاں کے مسئلے کو اُٹھانا کہتے ہیں دراصل یہ وہی عمل ہے جس سے یہ بحث کی آزادی کی تصدیق کرانا اور بلوچ کو اس غلط فہمی میں رکھنے کی تدبیر ہے کہ آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جو آپ یہاں باہر کہنا چاہتے ہیں ہم وہ اسمبلی میں جا کر کہیں گے.
ان کا یہ رویہ بلوچ کیلئے زہر ملائم (Slow poison) ہے. یہی جھوٹی اُمید بلوچوں کو کبھی منظم جدوجہد کرنے نہیں دیتی اور وہ آسرے آسرے میں قسطوں میں کمزور ہوتے یکے بعد دیگرے مرتے جا رہے ہیں .
یزداں بھلا کرے ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک ایک درد شریک ماں، بہن، بزرگ و نوجوان کو جنہوں نے عملی طور پر مثال بن کر یہ دکھایا کہ اصل میں مطالبہ کرنا، اپنا مدعا رکھنا اور اُس کام کو اپنی حیات کا لازمی جز تصور کرنے کے بعد کیسی استقامت دکھانی کی ضرورت ہوتی ہے. ایک ہوتا ہے بہ امر مجبوری و فقط خانہ پوری کیلئے کوئی مطالبہ کر کے چلے جانا دوسرا ہوتا ہے مطالبہ سامنے رکھ کر نتیجے تک پیچھے نہیں ہٹنا. اب جب حقیقی طور پر کسی لالچ کے بغیر بلوچ نسل کُشی کے مسلے کو سامنے رکھا گیا ہے تو ایک طرف ریاست کی بیقراری غیر انسانی، غیر قانونی و غیر اخلاقی اقدامات کا تشدد کی شکل میں مشاہدہ ہوا تو دوسری طرف وہ ساحل و وسائل کے دفاع کے دعویدار شرمندہ آنکھوں سے بلوچ ماؤں بہنوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر چوٹیوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے دیکھ کر اپنی غیرت کا ماتم کرتے دکھائی دیئے. تربت سے اسلام آباد پہنچتے پہنچتے عام مظلوم بلوچ و پشتون خود بخود ظلم و ناانصافیوں کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں نکلے اور ہر ایک اپنے آپ میں ہیرو بنا اور ریاست کے بنائے ہوئے بڑے بڑے سردار، نواب، سیاست دانوں کے بُت ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گئے. وہ سب مظلوموں کے سامنے اپنی اصل شکل میں عیاں ہو گئے جن کے بارے میں ایسے نعرے دئے گئے تھے کہ “تیری جان میری جان فلانی جان فلانی جان” انکی بے حسی موقع پرستی اور منافقانہ طرز عمل سے پتہ چلا کہ یہ کسی کی جان نہیں بلکہ خود بے جان بجُوکا ہیں.
حرف آخر : بلوچ قوم کیساتھ دیگر مظلوم اقوام کی حمایت اور اس سے اُمیدیں وابستہ کرنا بلوچ یکجہتی کمیٹی کی وہ کامیابی ہے جس کیلئے برسوں درکار ہوتے ہیں مگر اس قلیل مدت میں ایسی والہانہ استقبال، عقیدت و احترام یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ درست سمت قدم بڑھا رہے ہیں اور ریاستی اداروں کی سراسیمگی اس بات کی تصدیق ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی والے ٹھیک انہی سوالوں کا جواب مانگ رہے ہیں جن کا جواب اُنکے پاس نہیں اور وہ یہ بھی درک کر چکے ہیں کہ اگر ملک کے اندر اور باہر یہی جہد باہم مربوط و منسلک ہو گئی تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو جوابدہ ہونے سے نہیں بچا سکتا. اور وہ یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ اگر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تمام بلوچ، پشتون اور دیگر مظلوم قوموں سے اس مسئلے کے حل تک پاکستانی ووٹ و الیکشن سے بائیکاٹ کا کہا تو پاکستان کی تاریخ میں ایسی ریاست مخالف ریفرنڈم کا نتیجہ آئے گا کہ کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کیونکہ ماہ رنگ بلوچ اب ایک کمزور لڑکی نہیں بلکہ ایک پُر عزم رہبر کے طور پر اپنا مقام بناچکی ہے لوگ اُس پر بھروسہ کرتے ہیں اور جب لوگ کسی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں تو وہ اسکی اپیل پر کچھ بھی کر سکتے ہیں اور خاص کر ایسے رہبر کیساتھ چلنے میں فخر محسوس کرتے ہیں جو ہمیشہ پہلی قطار میں قدم بڑھاتا ملے.
(ختم شُد)















