بی این پی مینگل نے گوادر کے مسلے کولیکر 10جنوری کو اسلام آباد میں آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا جسے پاکستانی میڈیا نے ایسے کوریج دی جس طرح وہ ہمیشہ ماضی میں بے معنی و مطلب سے خالی موضوعات کو اچھلتی رہی ہے تاکہ اصل مسلے سے توجہ ہٹایا جاسکے یاکہیں کوئی روئی کا پہاڑ بنایا جاسکے ۔ ایسے حالات میں جب بلوچ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے’’ اے پی سی اے پی سی کا کھیل ‘‘ کھیلنا وقت و توانائی کا ذیاں ، خودفریبی کے ساتھ قومی جرم بھی ہے ۔یہاں کون نہیں جانتا کہ کمیٹیاں ،قراردادیں ، اے پی سیز وغیرہ صرف وقت کو ٹالنے کے حربے رہے ہیں جن کوپاکستان میں کام کرنا ہوتا ہے وہ ہرکام بغیر کسی عذرو قانونی پشت پناہی کے کرتے ہیں اور قانون بعد میں اپنی شرمندگی چھپانے کو ئی تاویل گڑھ کے اُن کی حمایت کرتی ہے۔ بی این پی کا مذکورہ اے پی سی اس لئے قومی جرم کے زمرے میں آتا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ وہ بیٹھ کے قراردادیں پاس کروارہی ہے اور جس کے سامنے فریادپہنچانے کی کوشش کررہی ہے اُن کے اور بلوچ کے مفادات براہ راست متضاد ہیں۔ یہ قوتیں بلوچ قومی المیہ اور اُس کے صفحہ ہستی سے مٹنے کی تشویش سے لاتعلق ہیں۔بلوچ کا وجود رہے نہ رہے یہ بلوچ کے سواکسی دوسرے کادردسر نہیں اُنھیں تو صرف اس بات سے سروکار ہے کہ وہ اور اُن کی نسلیں کس طرح بلوچ نسلوں کو بربادیوں کی کھائی میں دھکیل کرکراپنا مستقبل سنوا رسکیں۔گوکہ مضمون کے ابتداء میں ہم یہ اظہار کرچکے ہیں کہ بلوچ کی اقلیت میں تبدیل ہونے کے خطرے کے سامنے روٹ کے مغربی یا مشرقی ہونے کی کوئی اہمیت نہیں لیکن اس کے باوجود یاد دہانی کرائیں کہ 9 جنوری 2014 کو جے سی سی ( جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی ) کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جسمیں پاکستان کی طرف سے تجویز کردہ روٹ سیگیانگ ،خنجرآب،اسلام آباد،لاہور،ملتان،سکھر کراچی اور گوادر کی منظوری دے دی گئی اُس کے بعد تاحال اس کمیٹی کے پانچ میٹنگز اسلام آباد ،بیجنگ اور کراچی میں ہوئی ہیں سب میں اِسی روٹ کی توثیق ہوئی ہے اسمیں کسی تبدیلی کاکوئی سوال ہی نہیں اُٹھایا گیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اٹھائیس مئی دوہزار پندرہ کے اے پی سی میں وزیراعظم نے مغربی روٹ کے ترجیحی بنیادوں پر تکمیل کاجو وعدہ کیاتھا وہ غلط بیانی تھی۔فری اکنامک زونز ،ریلوے ٹریک کو ڈبل کرنے ، فائبر آپٹک ، توانائی کے منصوبوں تک سب پراُسی منصوبے کے تحت کام ہورہا ہے۔ اے پی سی میں شریک دیگر کو یہ بات بھی کٹکتی ہے آئین کی دفعہ153 اور156کی رو سے اس طرح کے معاملات کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل اور قومی اقتصادی کونسل جیسے اداروں میں ہونا ضروری ہے۔ آئین کے دفعہ نمبر154کی شق نمبر3 کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہر تین ماہ میں بلانا لازمی ہے لیکن آج تک اسلام آباد میں بیٹھے پنجاب کے مفادات کے رکھوالوں نے اسکی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔ اُن کے مفادات اور بلوچ کی بقا کا سوال ہے جس کی اخترمینگل کی جماعت نمائندگی کی بات کرتی ہے جسے سب لوٹنے کی نیت سے اہتمام سے اکٹھے ہوئے ہیں ۔کیا لوٹنے والے نے کبھی لُٹ جانے والی کی سُنی ہے یا دونوں ایک نظریہ کے تحت سوچ سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں! تو ان کے ساتھ اختر مینگل کی پارٹی بیٹھ کے کیا بات کرنے جارہی تھی۔بجزاس کے کہ اُنھیں یہ یقین دلانے کی ناکام کوشش کرے کہ اگر ایسا نہیں کیا تو بلوچ ناراض ہوں گے اور پاکستان ٹوٹ جائیگا۔یہ بات اسلام آباد کے ارباب اختیار 1948ء سے سُنتے آرہے ہیں اگر کل وہ اس اظہاریے کو خاطر میں نہیں لائے تو آج بھی وہ اِسے اُس وقت تک خاطر میں نہیں لائیں گے جب تک اُن کے سامنے رکاوٹ کھڑی کرنے کے بجائے سیاستداں مداریوں کی طرح تماشا کر کے تنخواہ بڑھانے کی سعی الاحاصل میں لگیں گے۔ بی این پی کاحالیہ اے پی سی اُن چھ نکات کاتسلسل ہے جو پارٹی قیادت نے2013 الیکشن میں حصہ لینے سے قبل شرط کے طورپر اسلام آباد کے سامنے رکھاتھاکہ اگر ہمارے شرائط مانے گئے توہم الیکشن میں جائیں گے اگر نہیں تو الیکشن میں جانے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا ۔مگر مرکز نے اُن کے نکات کو ماننا تو درکنار سننے کے بھی قابل نہیں سمجھا اور بی این پی مینگل مجبوراًذلت آمیز پسپائی اختیار کرکے مذکورہ شرائط سے پیچھے ہٹ گئی۔ آج اُسی مرکز کے سامنے جس نے بلوچ و بلوچستان بارے اس جماعت کے ایک مطالبے کو بھی قابل غور نہیں سمجھا پھر الگ گوادر کے مسلے پر کیونکر اُس کی قراردادوں کو اہمیت دے گا یقیناً نہیں!۔اس اے پی سی میں جتنے بھی قراردادیں منظور کی گئی ہیں اُن میں ایک بنیادی مطالبہ کہ یہاں کسی کو شناختی کارڈ ،لوکل سرٹیفکٹ وغیرہ نہ دیا جائے تاکہ وہ بلوچ کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا سبب نہ بنیں سمیت دیگر تمام مطالبات میں سے ایک پربھی عمل نہیں ہونے والا۔یہاں یہ بات زیر بحث نہیں کہ بلوچ بلوچستان بارے کسی بھی پاکستانی معاہدے کوسرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا دوسرا اگر یہاں آبادکاروں کو مقامی بنانے کوئی امر مانع نہ ہوا توباقی تمام مطالبات من وعن تسلیم کئے بھی گئے پھر بھی اُن کے ثمرات جزوقتی اور بلوچ قومی وجود کے خاتمے کیلئے دشمن کو سازگار موقع فراہم کرنے مراعات کے مترادف ہوں گے۔ ویسے بھی اصولی طور پر پاکستان سے حق خودارادیت مانگنے والی جماعت کیلئے ایسے مطالبات مضحکہ خیز ہیں کیونکہ حق خودارادیت کے حصول کے بعدان تمام مطالبات کے حل کا اختیارخود بخود اُن کے پاس آتا۔چنانچہ اس سوال کا جواب بھی وہ خود دے سکیں گے کہ وہ چشمہ کا مالک ہوکر کیوں باری لینے ہلکاں ہورہے ہیں۔یااصل حقیقت یہی ہے کہ وہ اپنے اصولی موقف سے ہٹ گئے ہیں اور حق خود ارادیت اپنے ابتدائی آئین میں بصورت شق موجود ہونے اس نعرے کے حمایتیوں کا ہمدردی حاصل کرنے اور تحریک آزادی کو کمزور کرنے ایک نمائشی نعرے کے طور پراستعمال کررہے ہیں اس لئے اصل مطالبے کے حصول سے زیادہ اُس کے اندر موجود اختیارات پر توجہ دیاجارہاہے۔ بلوچ وطن کوٹکڑوں میں تقسیم اور بلوچ وحدت کو توڑنے کا تجربہ یہی بتاتی ہے کہ اُس کے ایک طبقے کو مراعات سے نواز کر دوسرے کو زیر و نیست ونابود کیا گیا ہے ۔یہاں بھی بدقسمتی سے بی این پی کے لیڈر اپنے وطن کا قبضہ ختم کرنے کے بجائے اُسے ہمیشہ کیلئے زیر تسلط رہنے کی تدبیریں بتا رہے ہیں۔ کیا پاکستان سے جبری الحاق کے وقت اس سے کئی زیادہ خوشنما اور پُرکشش وعدے خان آحمد یار خان ،نواب حبیب اللہ خان نوشروانی ،جام غلام قادر اور نواب بھائی خان گچکی سے نہیں کئے گئے ؟ انہی وعدوں کی تکمیل میں سب کچھ جاتا رہایہاں تک کہ بلوچستان کے بلوچ کو کمزور کرنے کی غرض سے سندھ خاص کر کراچی وپنجاب کے بلوچ اکثریت پر مشتمل آبادیوں کوبھی ٹکڑوں ،دھڑوں ،فرقوں میں تقسیم کیاگیا تاکہ بلوچستان تو بلوچستان پاکستان کے کسی بھی حصے میں بلوچ ایک طاقت کے طورپر اُبھر کر اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کرنے کے سوچ کی طرف مائل نہ ہوسکیں یاایک دوسرے کیلئے موثرومدد کا سبب نہ بنیں۔ جن مطالبات کو لیکر مینگل صاحب نے اے پی سی بلائی ہے وہ مطالبات بلوچ قوم کے نہیں یا کم از کم بلوچ کے اُس طبقے کی نہیں جو بلوچستان میں پاکستانی ریاستی الیکشن وغیرہ سے کب کا لاتعلق ہوچکا ہے ۔2013کے الیکشن کے نتائج اس کی زندہ مثال ہیں جہاں ٹوٹل 57,666 میں سے 544ووٹ لیکربھی لوگ اسمبلی ممبر منتخب ہوئے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی پارلیمانی سیاست کے حامی اور بلوچ مختلف زاویوں سے سوچتے اور اُس پر عمل پیرا ہیں ۔تاہم اگر یہ جماعت بلوچ قوم کی نمائندگی کی بات کرتی ہے اور اُسے واقعی بلوچ کی اقلیت میں تبدیل ہوکر ریڈ انڈین بننے کا خدشہ ہے تو اُسے اس بات کا ادراک ہونا چائیے کہ مغربی روٹ کیلئے پریشان حضرات کا مسلہ یہ ہے کہ اُنھیں کم فائدہ ملے گا یا پنجاب سارا مال غنیمت لوٹے لگے گا جبکہ بلوچ دونوں صورتوں اپنے گھر سے بے گھر ہوکر ہمیشہ کیلئے ختم ہونے کے خطرے سے دوچارہے ۔ دوسرے لفظوں میں یو ں کہاجائے تو بہترہے کہ روٹ مغربی ہو کہ مشرقی دونوں بلوچ کی لاش کو روندکر اُس کی بقا کو فنا میں بدل کے گذرتے ہیں ۔ بی این پی مینگل بلوچ کے اقلیت میں تبدیل ہونے کے خدشے کے پیش بلوچستان میں مردم شماری کی مخالفت میں صفٖ بندی اور اس کے سامنے روکاوٹ کھڑی کرنے کا اعلان بھی کرچکی ہے لیکن ماضی میں اس جماعت کے اعلانات مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے،اب ایسا نہیں ہونے دیں گے،ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، بات اب صوبائی خود مختاری سے بہت آگے نکل چکی ہے اور پھر اُن سے خود بخود پیچھے ہٹنے کی روایت تاریخ میں مشہور اُس نالائق بزدل نوجوان کا یا د دلاتی ہے جو جنگ کی تیاریوں کودیکھتے باپ دادا کا شمشیر نکال کے تیاری کرنے لگا اُس کی تیاریوں کو دیکھ کر بوڑھی ماں رونے لگی تو بیٹے نے تسلی دی کہ ماں غم نہ کر میں جنگ میں نہیں مروں گا بلکہ دشمن کا صفایا کرکے واپس آؤں گا تو ماں نے جواب دیا بیٹا میں اس لئے نہیں رو رہی کہ توجنگ میں جاکے مارا جائیگا بلکہ اس لئے رورہی ہوں کہ توجنگ کوجائے گا ہی نہیں اور اپنی بے معنی آمادگیوں سے مفت میں مجھے قوم کے سامنے طعنوں کی زد میں لاؤگے۔ ایسے حالات میں جب بلوچ اور دیگر کے مفادات میں زمین و آسمان کا فرق ہے بی این پی مینگل سمیت وہ تمام جماعتیں اس بات کا ادراک رکھیں کہ اُن کا سب کچھ داؤ پر لگا ہے اس بار نہیں ہونے دیں گے اوربرداشت نہیں کریں گے جیسے زنگ آلود نعروں اور ایک قدم چل چار قدم پیچھے ہٹنے سے خود کو شائد بہلایا جاسکے آنے والے ’’ہاجوج ماجوج ‘‘ کے خطرے کا ٹالنا ناممکن ہے جو بلوچ قوم کو ملیامیٹ کرے گی ۔ جس کیلئے میگاپروجیکٹ اور مردم شماری جیسے دسوویں منصوبوں پر تیزی سے عملی طور پرکام ہورہا جبکہ دوسری طرف بلوچ مزاحمت کاروں کے علاوہ باقی سب زبانی جمع خرچ سے اپنے وقت کاذیاں کرکے اپنے اجتماعی بربادی میں شریکِ کار ہیں ۔کیا یہ وقت سوچنے کانہیں کہ کیوں نہ اصل بات کومتقاضی لہجے میں اُس کے لوازمات کیساتھ کیا جائے ؟ (ختم شُد )