نیطشے نے کہا تھا کہ انسان میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے دوستوں کو ناراض کرسکے ،بدقسمتی سے یہ صلاحیت یہاں کم وپیش نہ ہونے کے برابر ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہاں تنقید کا فقدان زیادہ اور دوستی کا دائرہ وسیع ہے ، بقول افلاطون تنہائ یا تو خدا برداشت کرسکتا ہے یا درندہ ” ‎کہتے ہیں کہ “دنیا کا سب سے آسان کام تنقید کرنا ہے” ، اسی وجہ سے اکثر نقاد کو بےعمل کہا جاتا ہے ، مگر کاش کہ ایسا ہوتا ، اگر واقعی تنقید کرنا آسان ہوتا تو ہم فکری طور پہ سطحیت و مصلحت کا اس قدر کبھی بھی شکار نہ ہوتے نہ ہی ہماری فکری رجحان میں اتنی گرواٹ آتی کہ ہم خود سے دو قدم آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے، اگر ایک آدھ قدم آگے کی طرف دیکھ بھی رہے ہیں تو وہ بھی فکری تنقید کی مرہون منت نہیں بلکہ قربانیوں کا ثمر ہے ‎بابا ھیر بگش مری کا یہ کہنا کہ “ہماری نیشنل ازم طفلی سطح پہ ہے” آج ہمیں خودسے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہئے کہ کیا ہم آج بھی طفلی سطح سے نکل کر فکری بلوغت کے راہ پہ گامزن ہوچکے ہیں ؟ یا پھر محض اپنے آپ کو طفل تسلیاں دے کر بہلارہے ہیں ‎درحقیقت بلوچ قومی تحریک میں اپنے آپ سے سوال کرنے کا رجحان یا باالفاظ دیگر “تنقیدی روایت” نہ ہونے کے برابر رہی ہے,شاید اس کے اسباب میں سے ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ ہماری اجتماعی سوچ میں تنقیدی روایت پروان ہی نہیں چڑھی یا پھر یہ اندیشہ کارفرما رہا کہ کہیں تنقید کے نام پہ قوم مایوسی میں مبتلا نہ ہوجاۓ ؟ اور تیسرا یہ خوف کہ تنقید سے دشمن کو تقویٰت نہ ملے اور وہ ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر تحریک کو مزید کمزور نہ کرے ۔ ‎لینن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “کیا کیا جاۓ” ( جس کا عنوان دراصل نکولائی چرنی شفسکی کے ناول سے لیا گیا تھا)،کے پہلے باب میں “تنقید کی آزادی” کے عنوان سے ایک مضمون باندھا ہے ۔ اس میں اس نے یہ واضح کیا کہ “تنقید کی آزادی کے نام” پہ تنظیم نظریاتی ملاوٹ کا شکار نہ ہو ، لینن کے نزدیک تنقید سے نظریاتی صف بندی مضبوط ہونی چاہیے نہ کہ کمزور ہو اُس دوران چونکہ فکری محاذ پر سوشلسٹ تحریک کے مختلف دھڑے ایک دوسرے پہ شدید تنقید کررہے تھے ،اس لیے لینن کو خدشہ لاحق تھا کہ” تنقید کی آزادی “ کے آڑ میں لبرل رجحانات کہیں سوشلسٹ فکر میں سوشل ازم کے لبادے میں سرایت نہ کر جائیں، ‎مگر بلوچ قومی تحریک کی صورت حال یکسر مختلف ہے ، یہاں آزادی پسند قوتیں ایک بنیادی نکتہ “بلوچ قومی آزادی” پہ متفق ہیں یہاں اس حوالے سے کوئ دو راۓ یا تصادم نہیں کہ مختلف ہاۓ فکر تنقید کی آزادی کے نام پہ آزادی کے تصورکو دھندلا کرسکیں ، یعنی یہاں کسی بھی دو راۓ کی گنجائش ہی نہیں کہ “تنقید کی آزادی کے نام” پہ یا “ نظریاتی کشمکش” کی آڑ میںُ اسے دھندلا کیا جاسکے ، کہ یہ جاننا مشکل ہوجاۓ کہ ہم کس آزادی کی بات کررہے ہیں۔ ‎دراصل کسی بھی تحریک میں فکری نمو اُن سوالات سے سے جنم لیتی ہے، جو تحریک یا قیادت پہ وقتا فوقتا اٹھتے ہیں ، ان سوالات کو دو تناظر میں دیکھی جاسکتی ہیں ، ایک وہ سوالات جو بیرون سے مسلط کیے جاہیں ، جو ریاستی بیانیےکو تقویت دینے کے غرض سے بار بار دہراۓ جاہیں ایسے سوالات محض سیاسی پروپیگنڈے کے زمرے میں آتے ہیں اور لینن کا خدشہ اسی نوعیت کے سوالات پر صادق آتا ہے کہ تنقید کی آزادی کے نام پہ غلط فہمیاں پیدا کرکے سیاسی پروپیگنڈا کیا جاۓ یقینا ایسے سوالات اندر سے اٹھنے کی بجاۓ باہر سے حملے تصور ہونگے جنہیں سوالات سے بڑھ کر سیاسی پروپیگنڈا تصور کیا جاۓ گا۔ ‎دوسرا رخ اس تناظر سے یکسر مختلف ہے ، وہ سولات جو تحریک کے اندورنی تضادات ، فکری کمزوریوں ، اور عملی تجربات سے جنم لیتے ہیں ، یہ وہ سوالات ہیں جو تحریک کو اپنی کمزوریوں سے آگاہ کرکے راستہ متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں ، یہی “حقیقی تنقید” ہے اس حوالے سے نواب ھیر بگش مری بلوچ تاریخ میں ایک بہترین مثال ہے جنہوں نے نہ صرف بلوچ قومی تحریک پہ نہ صرف فکری سوالات بھی اٹھائیں بلکہ بہت حوالوں سے لینن کے طرز پہ یہ کہتے بھی رہے کہ میں اپنی کمزوریوں کو آشکار نہیں کروں گا جس سے دشمن کو فائدہ ہو ، ان کے بعد ایسی فکری جرات اور احتیاط کا امتزاج تحریک میں کہیں نظر نہیں آتا ۔ ‎بلوچ قومی تحریک میں اس طرح کی دانش جہاں سوالات و احتیاط کا خوبصورت بندھن ہو شاید آنے والے دنوں ملے لیکن ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، عرصہ گزرا تنقید کے نام سے ایک سلسلہ” نود بندگ” کے قلمی نام سے شروع ہوا تھا، جسے تنقیدکم ایک عمومی راۓ بنانے کی کوشش زیادہ کہا جاسکتا ہے، اس وقت احتیاط کا پہلو کس قدر تھا وہ اب بدقسمتی سے تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور جہاں تک عمومی راۓ بنانے کی بات ہے گر اُس کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُس وقت جو خامیاں بلوچ قومی تحریک کا ایک طبقہ دوسرے طبقے میں دیکھ رہا تھا، وہ دراصل احساسِ کمتری یا محرومیوں کی مختلف صورتیں تھیں۔ یعنی جو چیزیں وہ بطور خوبی اپنی ذات میں دیکھنا چاہتے تھے، وہی چیزیں انہیں دوسروں کی ذات میں بطور خامی نظر آ رہی تھیں کہ کس طرح ایک “فرد” قومی تنظیموں اور قومی اداروں پر بھاری ہو رہا تھا؛ اور وہ فرد نہ صرف بلوچ قوم کا ہیرو بنتا جا رہا تھا بلکہ طلبہ تنظیموں سے لے کر سیاسی جماعتوں تک سب کو پاکٹ آرگنائزیشن میں بدل چکا تھا۔ ‎ظاہر ہے یہ کسی ایک فرد کی تنقید نہیں تھی کہ جسے نود بندگ کہا جاتا ہے ، بلکہ سوچا سمجھاا ایک بیانیہ بنانے کی تشکیل نو تھی جس میں بہت سے کردار و عوامل شامل تھے ، اس بیانیے کے خالق اور شریک آنے والے بنیادی دو سوالات کو مد نظر رکھ کر تاریخ اور قوم کے سامنے جوابدے ہیں اگر وہ اپنے آپ کو قوم اور تاریخ کے سامنے جوابدے سمجھتے ہیں ، وگرنہ آمرانہ سوچ کے حامل شخص کسی بھی پوزیشن پر مستند ہو وہ اپنے آپ کو کبھی تاریخ و قوم کا جوابدہ نہیں سمجھتا ، نیتوں پہ شک نہیں کیا جاسکتا لیکن اس حوالے سے سوالات اہم ضرور ہیں، کہ جن کے بارے میں دو دو گز لمبی مضامین لکھے گئے کہ یہاں تک کہ جنہیں قومی تحریک کے “وائٹ کالر مجرم “ کہا گیا، تحریکوں پہ “قابض” کہا گیا اور یہاں تک کہ تحریکوں کے لیے “مقبوضہ تحریک” کا اصطلاح استعمال ہوا، کہ یہ کردار جوڑ توڑ کے ماہر ہیں ،سازشی ذہن رکھتے ہیں ، وہ لیڈری کے شوق میں قومی تحریک کو نقصان دینے کے لیے کسی حد تک بھی جانے کو تیار ہیں ، یہ بیانیہ پڑھ کر اور آج کے حالات و ان کی اکٹھ کو دیکھ کر کیا یہ کہا جاسکتا ہے ؟ ‎“تھا وہ سب کچھ اک فسانہ” کے مصداق کہ وہ ساری باتیں فسانہ تھی یا آج جو ہم سب کچھ دیکھ رہے وہ فسانہ در فسانہ در فسانہ ہے؟ دوسرا سوال اس سوال سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ جو خامیاں گنوائ جارہی تھی ، خاص کر ایک خامی کا بار بار ذکر خیر کیا جارہا تھا “ہیروازم “ تو اس حوالے سے سوال بنتا ہے کہ “ہیروازم” میں “جدت اور شدت” پہلے سے زیادہ ہے یا کم ؟ اسی طرح طلباء تنظیموں سے لے کر سیاسی تنظیمیں پاکٹ آرگنائزیشن ہیں یا نہیں ؟ گر یہ سلسلہ اسی طرح چل رہا ہے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں ؟ کہ پہنچے ہیں ہم وہی پہ جہاں سے ہم چلے تھے۔ ‎اس منظر نامے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں تنقید کے نام پہ صرف” ٹامک ٹوھیاں ” ہوئ ہے ، نہ پہلے کوئ اپنے آپ کو قوم اور تاریخ کا جواب دہ سمجھتا تھا نہ آج کوئ تاریخ اور قوم کے سامنے اپنے آپ کو جوابدے سمجھتا ہے ، پہلے بھی یہی اصول تھا کہ “جواب نہیں دینا ہے” آج بھی یہی اصول ہے کہ “جواب نہیں دینا ہے” پھر فکری تبدیلی یا بڑتھوی کہاں سے آئیگی ؟ ‎“نیطشے نے کہا تھا کہ انسان میں دوستوں کو ناراض کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چائیے ، یہ صلاحیت یہاں کم وپیش نہ ہونے کے برابر ہے ، اسی لیے یہاں تنقید کا فقدان زیادہ اور دوستی کا دائرہ وسیع ہے ، یہاں ہر کوئ تنہائ سے ڈرتا ہے بقول افلاطون تنہائ یا تو خدا برداشت کرسکتا ہے یا درندہ “ ‎کپت جارے کہ جھدوں پہ سر شت ‎کینگ ءِ کارچ کئی دل ءَ درشت؟ ‎سید