ایک سنگت کا “تنقید کی آزادی اور بلوچ قومی تحریک” کے پہلے حصے پہ تبصرہ :
“مہر دار کی تحریر میں جو نکات سامنے آۓ ہیں وہ نہ صرف فکری طور پہ وزن رکھتے ہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں پر ایک آہینہ بھی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں “تنقیدی روایت” کا فقدان رہا ہے اور آج بھی اکثر سوالات دباۓ جاتے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس رویے کو صرف تحریک یا قیادت تک محدود نہ کریں بلکہ اسے اپنی وسیع تر سماجی اور تاریخی نفسیات کے ساتھ دیکھیں ۔ بلوچ سماج صدیوں سے قبائلی ڈھانچوں اور رشتہ داریوں میں جکڑا ہوا ہے۔ ایسے سماج میں تنقید اکثر “بغاوت” سمجھی جاتی ہے اور اختلاف کو دشمنی کے برابر قرار دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ تحریکوں میں منتقل ہوئ ۔اس لئے یہ کہنا شاید زیادہ درست ہوگا کہ تحریک میں تنقید کا فقدان دراصل بلوچ معاشرتی ساخت کی ہی ایک جھلک ہے۔
جہاں تک “ہیروازم” کاتعلق ہے تو یہ سچ ہے کہ ہیروز نے تحریک کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا،لیکن ساتھ ہی وہی ہیروز بعض اوقات تنظیموں اور اداروں پہ حاوی بھی ہوۓ ۔ مگر کیا یہ صرف کمزوری ہے؟ یا ایک تاریخی مجبوری بھی رہی کہ منتشر اور دباؤ کا شکار قوم کو ایک چہرے اور علامت کی ضرورت تھی ؟ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہیروز کو مکمل رد کرسکتے ہیں یا پھر ہمیں “ہیرو کلچر” اور “اجتماعی ادارہ جاتی عمل” کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا ؟
نیطشے اور افلاطون کی بات اپنی جگہ سچ ہے کہ تنقید کے لئے جرات تنہائ چاہیے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ہر تنہائ صرف فلسفیانہ نہیں ہوتی ، بعض اوقات یہ تنہائ سیاسی طور پہ مہنگی پڑتی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں اختلاف رکھنے والے اکثر افراد یا تو حاشیے پر ڈال دیے گئے یا پھر خاموشی اختیار کرگئے ۔
لہذا اصل سوال یہ نہیں کہ تنقید کیوں نہیں ہے ؟ بلکہ یہ ہے کہ ہم کس طرح ایسی تنقیدی روایت پیدا کریں جو نہ تحریک کو توڑ دے اور نہ ہی اختلاف کو دشمنی میں بدل دے۔ اگر ہم یہ توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو شاید وہ “فکری بلوغت “ جس کی طرف بابامری نے اشارہ کیا تھا ہماری اجتماعی حقیقت بن سکے۔” ——— یہ جاندار تبصرہ ایک سنگت کے توسط سے موصول ہوا،اس میں کوئ شک نہیں کہ بلوچ سماج صدیوں سے قبائلی ڈھانچوں اور رشتہ داریوں میں جکڑا ہوا ہے ، سنگت کے مطابق، تحریک میں دراصل ” تنقید کا فقدان بلوچ معاشرتی ساخت کی ایک جھلک ہے “ جسے تحریک یا قیادت تک محدود کرنے کی بجاۓ وسیع تر سماجی اور تاریخی نفسیات کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ دراصل قبائلیت جہاں ایک طرف بلوچ قومی تحریک کے لیے بطور ہتھیار استعمال ہوئ ہے ، وہیں دوسری طرف پہ ایک “انٹرنل کالونیل ازم” کا منفرد نمونہ بھی ہے ،اس کے نتیجے میں “تقسیم در تقسیم،اندورنی طور پہ شناخت کا بحران،اور طاقت و شہرت کاخمار” بنیادی نقائص کے طور پہ سامنے آتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ھیر بگش مری قبائلیت کو ایک ہی وقت میں “ضروی ہتھیار اور بدی” کہتے تھے ،
یہی قبائل جب بطور ہتھیار قومی تحریک کا سہارا بنتے ہیں تو اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ذیلی قبائل آپسی رنجش میں طاقت کے حصول کے لیے ریاستی کارندے بننے میں دیر نہیں لگاتے ۔ اسی طرح ضد و انا کی بنیاد پہ بعض لوگ صرف اپنوں کو نیچا دکھانے کے لیے بغیر کسی ذاتی لالچ کے ریاست کی گود میں بیٹھ جاتے ہیں سنگت کی یہ بات درست ہے کہ یہی نقائص سماج سے تحریک میں منتقل ہوۓ ۔ جہاں “تقسیم در تقسیم ، اندورنی شناخت کا بحران اور طاقت و شہرت کا خمار” کی چھاپ صاف دکھائ دیتی ہے۔
لیکن میرا مدعا اس کے ساتھ ساتھ کچھ مختلف بھی ہے میں اس بات پہر یقین رکھتا ہوں کہ واقعی ہماری سوچ ، ہماری تحریک و قیادت کی سوچ سماج کا ہی آئینہ دار ہے ، لیکن اس میں قبائلی رویوں و رشتہ داریوں کی جکڑ بندی کے ساتھ ساتھ غلامی کا عنصر بھی بہت حد تک نمایاں ہے ، جو قبائلئ و غیر قبائلی لوگوں میں یکساں طور پہ اثر انداز ہوا، ہم نے اپنے آقاؤں سے بھی بہت کچھ لاشعوری طور پہ سیکھا ہے جو بدقسمتی سے غلاموں کا ہمیشہ سے شیوا رہا ہے۔
آقا کے ہاں بھی یہی چلن پایا جاتا ہے کہ تاریخ کے سامنے خود کو جوابدہ نہیں سمجھا جاتا ، عوام کو سیاسی گملوں کے زیر اثر رکھ کر ان کے سامنے جوابدہی کی بجاۓ صرف اپنے لیے ثمر حاصل کیے جاتے ہیں، سیاسی گملوں کو اس لیے پانی دیا جاتا ہے تاکہ عوام کی بجاۓ صرف اپنی “طاقت”کو پروان چڑھایا جاسکے ، وہاں سوال کرنے والوں کو یا تنقیدی سوچ رکھنے والوں کو اور سیاسی اذہان کو بلکل اسی طرح حاشیے پر ڈال دیا جاتا ہے جیسے یہاں کیا گیا ہے۔
جہاں تک ہیروازم کا تعلق ہےسنگت کے مطابق “یہ ہماری تاریخی مجبوری بھی رہی کہ منتشر اور دباؤ میں کا شکار قوم کو چہرے اور علامت کی ضرورت تھی “ یہ بات تاریخی طور پہ درست ہے مگر میرا مدعا کچھ اور بھی تھا کہ جب عمومی راۓ قائم کی جارہی تھی، لیب ٹاپس کےسامنے بیٹھ کر دو دو گز کے مضامین لکھے جارہے تھے اس وقت اس “مجبوری” کو پیش نظر کیوں نہیں رکھا گیا ؟
بانک کریمہ کے بارے میں لکھا گیا کہ انکی سب بڑی خوبی یہ تھی کہ استاد واحد قمبر کی بھتیجی اور ایک شہید کی رشتہ دار ہیں، آج دو مختلف چہرے سیاسی قیادت کی صورت سامنے ہیں پھر ان کے بارے میں “نود بندگ صاحب” اور اس بیانیے کے کردار کیا راۓ رکھتے ہیں ؟
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تاریخ میں قوموں کو ہیروز کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ میں کہوں گا ہیروز سے بھی بڑھ کر قیادت کی ضروت ہوتی ہے تاکہ وہ قوم کو یکجان و یک قالب کرسکیں لیکن یہاں صورتحال مختلف ہے ، قوم کے لیے ہیرو کا فطری طور پہ ابھرنا اور ہیرو بنانےیا ہیرو کلچر (ہیروازم) کو فروغ دینے میں زمین و آسمان کا فرق ہے گیلیلیو نے کہا تھا کہ “مسئلہ یہ نہیں کہ کسی قوم کے پاس ہیرو نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی قوم کے لیے دن کا ایک ہیرو تراشا جائے”۔
بلاشبہ ہم ہیرو “تراشنے” میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوۓ ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ادارے بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیںُ؟ ہجوم کی سیاست اور اداروں کی سیاست میں فرق ہوتا ہے ، ہجوم نعروں کی حد تک ٹھیک ہے ، کہ “قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں” لیکن جیسے ہی قدم آگے بڑھتے ہیں تو پیچھے کوئ باقی نہیں رہتا ، ہجوم تواپنی جگہ حتی کہ پہلے صف میں کھڑے مقررین اور آخری صف میں کھڑے مصنفین کے چہرے بھی نظر نہیں آتے جو ہجوم کو دیکھ کر پھولے نہیں سماتے تھے آج وہ کہاں ہیں ؟ جو مائیک سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور وہ جو نجومیوں کی طرح آزادی کا روزنہ کی بنیاد پہ تاریخ پہ تاریخ دے رہے تھے۔
سنگت کی یہ بات بھی بلکل درست ہے کہ “ہر تنہائ فلسفیانہ نہیں ہوتی” یہاںُ ہائڈگر افلاطون سے ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ خدا اور درندہ کے علاوہ فلسفی بھی تنہا رہ سکتا ہے لیکن واقعی یہ تنہائ سیاسی کم فلسفیانہ زیادہ ہوتی ہے جسے صرف کوئ فلسفی ہی برداشت کرسکتا ہے کیونکہ فلسفی کی تنہائ ہی اس کی اصل طاقت ہے۔
اگر فلسفی واہ واہ سمیٹ کر سماج کا قیدی بن جاۓ اور وہی کچھ کہے جو لوگ سننا چاہتے ہیں پھر اس میں اور سماج کے باقی قیدیوں میں کوئ فرق نہیں رہتا ، مجھے یہاں جارج آرویل کی وہ بات یاد آتی ہے کہ جنگ زدہ معاشرے میں “آذادی” کا مطلب یہ ہے کہ آپ وہی کچھ کہیں جو لوگ سننا نہیں چاہتے۔
سنگت کی دوسری بات سیاسی تنہائ سے متعلق ہے ، جو کہ کسی بھی سماج میں بہت مہنگی پڑتی ہے ،تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے سیاسی شعور کی یہ قیمت تنہائ کی صورت ادا کی ، تاریخ میں بہت سے لوگوں کو اسٹیج تیار ملا ،اور وہ تیار اسٹیج پہ اپنی من مانیاں کرتے رہے جبکہ اس کے برعکس کچھ تنہا کھڑے ہوکر سیاسی شعور کی قیمت چکا کر تنہائ کے باعث تاریخ میں امر بھی ہوۓ ، ہمیں سوچنا ہوگا سیاسی اصول زیادہ اہم ہیں یا تیار شدہ استیج پہ من مانیاں۔
اب آتے ہیں اصل سوال پر ، سنگت کے مطابق کہ “اصل سوال یہ نہیں تنقید کیوں نہیں بلکہ یہ ہے ہم کس طرح تنقیدی روایت پیدا کریں جو نہ تحریک کو توڑ دے نہ ہی اختلاف کو دشمنی میں بدل دے؟”
میرے خیال میں سماج کا ایک اپنا ارتقائی سفر ہوتا ہے۔ ہمارا سماج ابھی تک اس نہج تک نہیں پہنچا جہاں ہمیں پہنچنا چاہیے تھا، یعنی وہاں جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔ ہم فکری طور پر ابھی تک دائروں میں گھوم رہے ہیں۔ اگر اس کا نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو یہ “انٹرنل کالونیل ازم” کا عطاء کردہ اندورنی طور پہ “باہمی شناخت کی جُنگ” بھی ہے ، جہاں طاقت کا حصول ، شہرت کا خمار، اور اتحاد کا فقدان ہمارا سماج کا آئینہ ہی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیت ہے کہ بیرونی کالونیل ازم کو مضبوط کرنے میں ہمیشہ اندورنی کالونیل ازم کارآمد رہا ہے ، اس لیے ہم فکری طور پہ وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں سے چلتے ہیں۔ ناقد کو بے عمل قرار دے کر عمل عمل کا ورد کرنے والے اس سوال کا جواب ضرور دیں کہ ہم عمل کے باوجود بھی سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر پارہے ؟ ہم کب سے فکری طور پہ دائروں میں قید ہیں آخر وہ کونسی قربانی ہے جو ان دائروں کو توڑ سکے ؟ اور ہم فکری طور پہ چاہے ایک دو قدم ہی سہی آگے بڑھ سکیں۔















