“وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فکری طور پر بلوغت کا مظاہرہ نہیں کر پارہے ، تو سوال یہ جنم لیتا ہے کہ آخر یہ فکری بلوغت کس چڑیا کا نام ہے؟ اگر وہ لوگ جو اپنے جسموں پہ بارود باندھ کر اس دھرتی کے لیے جان قربان کرتے ہیں ، یا بندوق اٹھاکر لڑتے ہیں ، فکری طور پر نابالغ قرار پاتے ہیں ، تو پھر وہ افراد جو ہوٹلوں پہ بیٹھ کر چاۓ کی پیالی میں طوفان برپا کرتے ہیں ، کس درجے کے بالغ اور سیاسی طور پہ غیر جانبدار سمجھے جائیں گے ؟” یہ اہم سوالات ایک ایسے سنگت کے ہیں جس نے بندوق کو اپنا زیور بنایا ہے ۔ ایسے سوالات کا سامنا ہمیشہ ان کارکنوں کو رہا ہے جو کسی حد تک سیاسی و تنقیدی ذہن رکھتے ہیں ، دوسرے الفاظ میں سنگت نے بلوچ لکھاری محترم تالپور صاحب کی وہی بات دہرائ ہے ، جب تالپور صاحب تشہیر کے شوق میں اپنی اورسابقہ کمانڈر ہزار خان مری کی تصویر سوشل میڈیا پہ شئیر کی تھی تو ایک بلوچ دوست نے تبصرہ کیا : “تالپور صاحب کیا آپ ابھی تک ہزار خان مری کو آئیڈلائز کرتے ہیں ؟”اس پر تالپور صاحب نے جوش میں آکر جواب دیا۔ “ہزار خان مری پہ وہی شخص اعتراض کرے جو ان کی طرح کچھ عرصہ پہاڑوں پر گزار کر واپس آیا ہو” اب جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم فکری طور پہ بالغ نہیں ہیں تو ہمیں غور کرنا ہوگا کہ آیا یہ واقعی ایک تاریخی حقیقت ہے یا پھر جیسا کہ سنگت کے بقول محض چاۓ کی پیالی میں اٹھا ہوا ایک طوفان ہے ۔ کوئی بھی قوم جب حالت جنگ میں ہوتی ہے تو ایک واضح لکیر کھینچتی ہے ، کون قابض دشمن کے ساتھ ہے اور کون مزاحمت کے لیے فکری و عملی طور پہ برسر پیکار ہے ، اگر مزاحمت کار پہاڑوں پر لڑ رہا ہے تو اس کا یہ عمل سر آنکھوں پر ہے، کوئی بھی شخص اس عمل کا بلادلیل و حجت مخالفت براۓ مخالفت کرتا پھرے وہ بلاشبہ لکیر کی دوسری طرف قابض دشمن کے ساتھ کھڑا ہے لیکن اگر کوئی اسی لکیر کے اندر رہتے ہوۓ اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور چند سوالات اٹھانے کی ہمت کرلے ، سیاسی و فکری مکالمے کی گنجائش پیدا کرلے، تو فرق صرف قلم اور بندوق کا رہ جاتا ہے ، میدان بہرحال ایک ہی ہوتا ہے ، کیونکہ قلم بھی لہو مانگتا ہے ، سیاہی میں ڈوبے ہوۓ قلم کڑے وقت میں جلد خشک ہوجاتے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فکری بلوغت کی تردید پہ جو توجہ دی گئی ہے اسے ان کی اہمیت کے اعتراف کے زمرے میں لینا چاہیے ، البتہ اگر کوئی فرد ہاتھ میں بندوق ہونے کی بنیاد پر یہ احساس برتری پالے ،تو دراصل یہ احساس برتری ، خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ، چاہے وہ عمل کا شہسوار ہی کیوں نہ ہو ، لیکن فکری سطح پر اسے پسماندہ ہی تصور کیا جائیگا۔ جہاں تک سیاسی طور پہ غیر جانبداری کا تعلق ہے ، تو میں یہاں ہیڈلی بُل کے وہ الفاظ دہرانا چاہوں گا جو انہوں نے اپنی کتاب “انارکی کی سوسائٹی :عالمی سیاست میں نظم و ضبط کا مطالعہ” میں لکھی ہے کہ “ یہ کہنا سادہ لوحی یا بے وقوفی ہوگی کہ کسی بھی انسان کا سیاسی تجزیہ مکمل طور پہ غیر جانبدار ہے ۔ سیاسیاست کا کوئی بھی مطالعہ یا تجزیہ اخلاقی اور سیاسی بنیادوں کے بغیر ممکن نہیں ، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان بنیادوں پر تنقیدی نگاہ ڈالی جائے اور انہیں بحث کا لازمی حصہ بنایا جائے، میں بھی دوسرے سیاسی لوگوں کی طرح مکمل غیرجانبدار نہیں رہ سکتا ، نہ کسی انسان کے لیے یہ ممکن ہے ۔ لیکن غیر جانبداری کی کوشش ایک قیمتی علمی رویہ ہے جو لازمی طور پہ ہر طرح کے سیاسی اداروں اور تحریکوں پر سوال اٹھاتی ہے ، خواہ وہ اچھے سمجھے جائیں یا برے” ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ تو کسی کو اس بات پر کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے کہ وہ بندوق اٹھائے بغیر سوال کیوں کررہا ہے اور نہ اس لیے کہ وہ سیاسی طور پہ مکمل غیر جانبدار کیوں نہیں ہے؟ اس کا واحد حل صرف سیاسی مکالمہ ہے جو فی الحال ناپید ہے جب ہم کہتے ہیں کہ ہم فکری طور پہ بالغ نہیں ہیں تو یہی وہ سیاسی رویے ہیں جو “قومی اجتماعی رویوں” کی عکاسی نہیں کرتے اور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ فکری حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں فکری بلوغت کسی خیالی تصور کا نام نہیں بلکہ “قومی وحدت” کا دوسرا نام ہے دشمن نے ہمیں فکری طور پر اس حد تک کمزور ضرور کر دیا ہے کہ جرمن ماڈل کی طرز (قومی وحدت سے پہلے والا جرمن) پر بلوچستان کو مشرقی اور مغربی حصوں میں بانٹنے میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے۔ کیا یہ دونوں ریاستوں (پاکستان/ایران) کی “ڈیپ اسٹیٹ پالیسیز” نہیں؟ کیا دشمن ایک تیر سے دو شکار نہیں کررہا؟ ایک طرف ہم شدید فکری تقسیم کا شکار ہوتے جارہے ہیں، اور دوسری طرف جب چاہیں کسی بھی مزاحمت کار کو “انٹیلیجنس شیئرنگ” کی بنیاد پر دوست ممالک کے ایک دوسرے کے حوالے کر دیتے ہیں، یا مار دیتے ہیں۔ ان نکات پر سیاسی اذہان کو ضرور سوچنا چاہیے۔ کیونکہ ڈیپ اسٹیٹ پالیسیز وہ نہیں ہوتیں جو سامنے نظر آتی ہیں، اور نہ ہی انہیں عام سیاسی ذہن بآسانی گرفت میں لے سکتا ہے۔ تبھی انہیں “ڈیپ اسٹیٹ” کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں خالصتان کی تحریک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگر کوئی سیاسی ذہن یہ سمجھتا ہے کہ ایسی کوئی پالیسی موجود نہیں، تب بھی ہمیں “قومی وحدت” اور “بلوچ زمین” زیادہ عزیز ہونی چاہیے۔ اپنی زمین پہ اجنبی بننا نہ صرف وطن کا سودا ہے بلکہ نسلوں کا بھی سودا ہے ۔ یہی وہ سیاسی نکتے ہیں جن پر تاریخی تناظر میں مزید غوروفکر کی ضرورت ہے۔ جہاں تک قومی وحدت کی بات ہے، جرمنی کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ جارج لوکاش کے مطابق، جب تک جرمنی میں “قومی وحدت” کی فضا پیدا نہیں ہوئی تھی، وہ یورپ کا حصہ ہونے کے باوجود یورپ سے پیچھے تھا۔ اسی پس منظر میں مارکس کو کہنا پڑا “جرمنی نے ترقی کے دکھ ضرور جھیلے، لیکن اس کی خوشیوں اور جزوی کامیابیوں میں شریک نہ ہو سکا۔ چنانچہ ایک دن جرمنی خود کو یورپ کی زوال پذیری کے مرحلے پر پائے گا، اس سے پہلے کہ وہ یورپ کی آزادی کے مرحلے تک پہنچ سکے۔” لیکن جونہی قومی وحدت کی بیداری ہوئی تو بسمارک جیسے”سیاست دان اور سفارتکار” نے صدیوں سے بکھرے ہوئے جرمنی کو “آہن اور خون” کی پالیسی کے تحت متحد کر دیا۔ اس نے ڈنمارک، آسٹریا اور فرانس جیسے تین طاقتور ممالک سے جنگیں لڑ کر “متحدہ جرمنی” کی بنیاد رکھی۔قومی اتحاد کی یہ جدوجہد جرمنی کے پورے سیاسی اور فکری ارتقا پر غالب رہی اور بالآخر متحدہ جرمنی کا تصور حقیقت بن گیا جرمنی کے ایک لکھاری مارٹن سے ایک بار چائے کی میز پر گفتگو ہوئی۔ وہ بلوچ اور بلوچستان کے حوالے سے غالبا لکھائی پڑھائی پر مامور تھے۔ سنگت کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ، “بدقسمتی سے بلوچ قوم کبھی بھی ایک بلوچ قومی ریاست بنانے میں کامیاب نہیں ہو گی۔” یہ سن کر مجھے احساس ہوا کہ لکھائی پڑھائی پر مامور یہ شخص خود “متحدہ جرمنی” کی تاریخ سے نابلد ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے کتنے باخبر ہیں؟ اور کس بنیاد پر ہم اپنے ہی وطن میں اجنبی بننے پر تیار بیٹھے ہیں؟ اس پورے سیاسی منظرنامے میں بلوچ سیاسی و عسکری قیادت، بشمول ہم خود، کس قدر منتشر ہے؟ یہی ہماری فکری بالیدگی کا اصل امتحان ہے ہماری قومی شعور جتنا بڑھے گا، ہماری “قومی وحدت” کی تڑپ بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور “قومی وحدت” جتنی کم ہوگی، ہم اتنے ہی زیادہ فکری زوال کا شکار ہوں گے۔ قومی جہد “قومی وحدت” کے حوالے سے عسکری محاذ کے علاوہ سیاسی محاذ پہ بلخصوص سفارتکاری کے میدان میں کس قدر موثر ہے ؟ یہ بھی ہماری فکری بالیدگی کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔اپنی اس فکری گراوٹ پر قربانی یا عمل کی چادر ڈال کر اسے فکری بالیدگی قرار دینا، دراصل خود کو طفل تسلیوں سے بہلانے کے سوا کچھ نہیں۔















