بلوچ قوم ایک قدیم اور عظیم قوم ہے، جس نے ہمیشہ اپنی سرزمین، شناخت اور ثقافت کے تحفظ کے لیے قربانیاں دی ہیں مگر اس عظیم قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے زخم بھی ہیں جو آج تک ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اندرونی تقسیم اور قبائلی جھگڑوں نے کس طرح ہماری اجتماعی طاقت کو کمزور کیا صدیوں پہلے میر چاکر رند اور گھرام لاشاری کی لڑائی نے دہائیوں تک بلوچوں کو خون میں نہلایا۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، بستیاں اجڑ گئیں اور طاقت دشمن کے ہاتھ میں چلی گئی اس لڑائی کا نتیجہ کیا نکلا؟ نہ رند مضبوط ہوئے نہ لاشاری، نقصان صرف اور صرف بلوچ قوم کا ہوا شہید بلوچ تھے، لاش بلوچ کے گھر سے اٹھے، اور فائدہ بیرونی قوتوں کو پہنچا یہی کہانی بعد میں بھی دہرائی گئی کھوسہ اور بگٹی کی جھڑپیں ہوں یا دیگر بڑے قبائل کے تصادم، نقصان ہمیشہ بلوچ قوم کا ہوا۔ دشمن نے ہمیشہ یہی حکمتِ عملی اپنائی کہ بلوچ کو آپس میں لڑاؤ تاکہ وہ اپنی اصل جدوجہد، یعنی آزادی، سے غافل ہو جائے آج بھی یہی سازش نئے ناموں کے ساتھ جاری ہے سندھ کے مختلف علاقوں میں نو شجاعت سمیت کئی قبائل کو آپس میں ٹکرایا جا رہا ہے مقصد وہی پرانا ہے: بلوچ نوجوان کو تعلیم اور شعور کے راستے سے ہٹا کر قبائلی دشمنیوں میں الجھا دیا جائے تاریخ ہمیں بار بار ایک ہی سبق دے رہی ہے کہ جب بلوچ آپس میں لڑے، نقصان بلوچ قوم کا ہوا اور دشمن نے فائدہ اٹھایا…. لیکن آج کا بلوچ نوجوان باشعور ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی اصل طاقت اتحاد، تعلیم اور آزادی کی جدوجہد ہے سندھ یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں پڑھنے والے بلوچ طلباء پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنی توانائی کو قبائلی دشمنیوں کے بجائے اپنی زبان، اپنی شناخت اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے استعمال کریں۔ سندھ یونیورسٹی میں بلوچی ڈیپارٹمنٹ کا قیام محض ایک تعلیمی مطالبہ نہیں بلکہ قومی بقا کی علامت ہے…. تاہم، ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہمارا مسئلہ صرف ایک تعلیمی محکمہ نہیں، بلکہ غلامی ہے جب تک بلوچستان آزاد نہیں ہوگا، بلوچ قوم اپنی زبان، اپنے وسائل اور اپنی زمین پر مکمل اختیار حاصل نہیں کر سکتی اسی لیے یہ وقت ہے کہ ہر بلوچ، چاہے وہ سندھ میں ہو یا بلوچستان میں، چاہے یورپ، خلیج یا امریکہ میں ہو، اپنی قومی ذمہ داری کو سمجھے آزاد بلوچستان ہی ہماری بقا کا واحد حل ہے…… آج عالمی سطح پر فری بلوچستان موومنٹ (FBM) بلوچ قوم کی نمائندگی کر رہی ہے ہیربیار مری بلوچ جیسے رہنما دنیا کے ایوانوں میں بلوچ قوم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں یہ ہم سب پر فرض ہے کہ ان کا ہاتھ مضبوط کریں۔ یہ صرف ان کی جدوجہد نہیں بلکہ ہم سب کی جنگ ہے…… بلوچ طلباء، خواہ وہ کیمپس میں ہوں یا دیارِ غیر میں، اپنی تحریروں، تقریروں اور علمی سرگرمیوں کے ذریعے دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ بلوچ قوم کس طرح ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور وسائل پر قبضے کا شکار ہے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ بلوچ مسئلہ صرف ایک قوم کی آزادی کا نہیں بلکہ انسانیت کے اصولوں کا مسئلہ ہے…. ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا میر چاکر اور گھرام کی لڑائی نے ہمیں تقسیم کیا، کھوسہ اور بگٹی کے تصادم نے ہمیں کمزور کیا آج بھی قبائلی جھگڑوں میں ہمارا نقصان ہی ہے اب مزید یہ تاریخ دہرانے کی گنجائش نہیں بلوچ قوم کا ہر فرد، ہر نوجوان اور ہر طالب علم اپنی صفوں کو متحد کرے اور آزادی کی جدوجہد کو آگے بڑھائے…… زنجیروں کو توڑ کے آگے بڑھیں گے ہم بلوچ ہیں، اپنی دھرتی پہ زندہ رہیں گے ہم…… یہ پیغام صرف سندھ کے بلوچوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے ہر بلوچ کے لیے ہے اگر ہم اپنی بقا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے شہیدوں کے خون کا قرض ادا کرنا ہوگا اور اس کا واحد راستہ ہے. آزاد بلوچستان کی جدوجہد……..