پارود کے بلند بالا پہاڑی کا منظر فروری کے سرد موسم میں ایک الگ ہی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے جہاں دور بہتی ندی کی آواز اس رات کے لولی کی طرح ہوتی ہیں جو ماں نے سلاتے وقت سناہی ہوتی شانتل پر پھلائے اس خوبصورت آزادی کا احساس دلا رئی تھی
پہاڑوں کا یہ منظر اس آخری چٹان تک نظروں کو گھیرے ہوئے ہوتا ہیں جہان آخر میں نیلا آسمان بادلوں کو باھون میں لیے ان پہاڑوں کے دامن میں کسی معصوم بچے کا ماں کی گود میں سر رکھنے کی مانند نظر آتا ہیں
یہ تمام منظر یہاں موجود سب سے اونچی چوٹی سے دکھائی دے رہا تھا جہاں ایک موچہ بنا ہوا تھا جس میں ایک نوجوان جو بہ مشکل بیس باہیس سال کا بندوق ہاتھ میں پکڑے اپنی ٹھوڑی ہاتھوں پر رکھے اس منظر کو خود میں اتار رہا تھا شاید کہیں دوری سے فاصلہ طے کرتے ہوئے ان ہواؤں کا حوصلہ دیکھ رہا تھا جو اب بھی آگے بڑھ نے کا ہمت رکھتے تھے ان لہروں میں کچھ وہ بھی تھے جو ابھی بھی دور دراز سفر تہے کرنے والے دوسرے لہروں کے ساتھ پہاڑی کے گمنام تہے سے نکل کر ان کا ہمسفر بن رئے تھے. اس منظر کو بہ خوبی محسوس کر رہا تھا. جو خود کچھ ہی عرصہ پہلے ایک ایسے ہی کاروں کا ساتھی بنا تھا جو کہی فاصلہ طے کرکے آیا تھا. اس نوجوان کا نام شہر میں تو حق نواز تھا مگر شہر سے نکل کر جب وہ ان پہاڑوں میں پونچا تب اس نے شہر کے ساتھ اس نام اس پہچان کو بھی چھوڑ دیا تھا
حق نواز اس منظر میں کھوکر ان لمحوں کو یاد کر رہا تھا جب وہ اس سرد موسم میں گھر کے گرم کونے میں کمبل اوڑے گرم چائے کی چسکیاں بھر رہا تھا. اس نکڑ پے بیٹے دوستوں کے محفل کو یاد کر رہا تھا وہان سکول سے نکلتے خوشی میں مچلتے دوستوں کے متعلق سوچ رہا تھا.اسے ہر لمحہ یاد آرہا تھا وہ دوست جن کے ساتھ اس نے بچپن گزارا تھا. وہ کھیل کا میدان جہاں ہر صبح کی شام ہوا کرتی تھی. وہ ماں کی پیاری آواز جس سے صبح کی آغاز ہوا کرتی تھی
لمحہ بہ لمحہ اس کے زہن پے خیالات کا سفر جاری ہوا. وہ ان خیالوں میں مگن بھی اپنے یہاں موجودگی و زمہداری کو زرہ بھر بھی نہیں بھولا تھا. تب ہی تو حق نواز کو کسی کے آنے کی آہٹ نے خود کے طرف متوجہ کردیا یہ اسکا ساتھی تھا جو کچھ لمحے پہلے اس کے ساتھ آیا تھا جو اب ارد گرد کے چکر لگا کر واپس آرہا تھا. حق نواز جب شہر میں تھا تو یہ ایک سیاسی پارٹی کا کارکن تھا جو کچھ وقت بعد سیاست سے آگے بڑھ کر مسلح جدوجہد کا حصہ بنا. مسلح جہد میں آکر اسے معلوم ہوا کے اسے جس کی تلاش تھی وہ راستا یہی ہیں حق نواز بندوق کے نوک پر دشمن سے بات کرنے والوں میں سے تھا. اسی وجہ سے وہ کم عمری میں ہی اپنی ہم عمر کے لڑکوں سے دور رہنے لگا تھا اسے اس کھل گود مستی مزاق بناوٹی باتیں و بناوٹی دوست لگنے لگے جن کے ساتھ نہ مقصد نہ لگن تھا اس لیے اب حق نواز کے دیوان کے دوست بدل گئے تھے اب اس کےمجلس میں وہ تھے جن کے نظروں میں کوئی مقصد کوئی راہ کوہی جنون تھا انہی کے ساتھ اس سفر کا آغاز ہوا دیوان میں سے ہی کچھ بیک گئے کچھ رک گئے مگر حق نواز دیوانہ وار بڑتا رہا. اس نے اپنے جینے کا لکش پا لیا تھا اب یہان سے مجال کے کوہی اسے ہٹا سکے
تب ہی تو جب اس کا نام سرکاری سپاہیوں کے یہاں پونچا اور اس کے فوری گرفتاری کا حکم دیا گیا تو موقع کی نظاقت کو سمجھ تے ہوئے باقی دوستوں کے صلح مشورہ سے شہر چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کیا. جہان بولان کے برز بالا چٹان دشوار راستے مشکل ڈھلان اس کے منتظر تھے. اب اسے زندگی کے مشکل مرحلہ کا سامنا کرنا تھا. جو شہری زندگی کے بعد بہت ہی کم لوگ کر پاتے ہیں. بہت مشکل یہاں اب آگے آخر تک جینا مگر فیصلہ پختہ ایمان مقصد سے جنون کی حد تک محبت نے یہان موجود سپاہیوں کے طرزِ زندگی خود کے ہر کام کو سرانجام دینا یہان کھانا بنانا پانی بھرنا لکھڑی لانا رات میں سفر کرنا کس بیداری سے سونا مورچے میں کس طرح چوکنا رہنا ہر طرف نظر رکھنا دشمن کے حملے میں سے بچ کر نکل نا کس طرح حملے کا جواب دینا دوستوں کے ساتھ گل ملنا ان سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا اب اسے یہان رہنے میں کوہی دیکت نہیں ہو رہا تھا ہاں بس بقول سنگت حئی؛نثار؛ جب مورچے میں بیٹ تے ہیں تو یو لگتا ہے گھر دیکھا ہی دے رہا ہو. بس گھر کی یاد حق نواز کو بھی ستاتا تھا کافی عرصہ بولان میں رہنے کے بعد جب وہ گھر گیا تو کچھ ہی دنو میں اسے اپس بلا لیا گیا اب کے بار بولان کے بجائے اس نا سفر پارود کے جانب ہوا جہاں گوریلوں کے لیے بے سورا پہاڑ کا نام رکھا ہوا تھا جو گوریلا جنگی علاقوں سے کافی مختلف تھے
گھر سے لوٹ کر پارود کے دامن میں واقع کیمپ پونچا اب اسے یہاں کچھ دکت نہیں تھا سے ان سب کا عادت ہو گیا تھا وہ یہاں رہنے کا ہنر سیک چکا تھا. اب وہ خود سے نکل کر ایک جہد کار ایک سپاہی بن گیا تھا جس نے یہاں موجود باقی انقلابیوں کو ہی اپنا سب کچھ مان چکا تھا تب ہی تو کوہی مزاق کوہی شیطانی کوہی بات اس کے دل کو ٹھیس نہیں پونچا پاتا وہ شاید خود کے زات سے نکل چکا تھا. اس لیے ہر ایک کے لیے اسکا اپنا پن دیکھتا تھا. چھوٹا ہونے کے ناتے اکثر اسے ستایا جاتا مگر یہ تھا کے ہر کسی کو برداشت کرنے کا ہنر پا لیا تھا.
اسی برداشت صحن مخلصی ایمانداری محنت نے اسے اتنا قابل سمجھدار سنجیدہ کر دیا تھا کہ اب وہ شہر جا کر تنظیمی کام سرانجام دے کر واپس آ جایا کرتا تھا.اب اس نے اسی کام کو بہ خوبی نبانے لگا تھا نزدیکی شہروں میں جاکر اپنا ہدف مکمل کر کے واپس آیا کرتا تھا وہ مورچا سمبالے اپنے دوست سے شہری کاموں کے متعلق بات کر رہا تھا کہ واکی ٹاکی پر انہیں اطلاع ملا آپ دونو واپس آجائے اب اگلے مورچے کے دوست سمبال لینگے حق نواز اپنے ساتھی ہمراہ کے ساتھ کیمپ کی جانب جاتے ٹیڑے ترچےراستے سے چڑتے ہوئے باتیں کر رہا تھا جب اس کے نظر میں اسی پہاڑی کے سرے سے دو افراد دیکھ نے لگے جو اس اگلے مورچے کی جانب مسلسل تیزی سے بڑھ رہے تھے حق نواز نے اپنے ہمراہ ساتھی ہو اشارہ کیا جس پر دونو رکھ کر دیکھنے لگے اول تو انہیں لگا کے کوہی علاقہی لوگ ہونگے جو اکثر لکھڑیا چننے آجایا کرتے ہیں مگر حق نواز کے اسرار پر اگلے مورچہ میں خبر واکی ٹاکی سے پونچا دیا کے کچھ لوگ نظر آرئے ہیں تب ہی حق نواز نے آواز دی کے مسلح لوگ ہیں جس پر آگئے سے بات کرنے والے نے حدایت کی کے آپ دونو نچھے کے راستے سے ہوکر انکے پیچھے سے آتے رہو ہم یہان سے آرئے ہیں
حق نواز اس کا ساتھی پہاڑی سے نیچے آتے نہر سے ہوکر اوپر کی جانب بڑنے لگے اب یہ دونو ایک چوٹی پر پونچھے جو ان دو مشکوک آدمیوں سے دور نیچھے سطح پر تھا یہان مورچہ زن ہوکر حق نواز و اس کے ساتھی ان ن دو آدمیوں کو آواز دے کر پکارا کے کون ہو اپنا پہچان کراو.پہلے تو انہیں لگا کے کوہی علاقہی لوگ ہونگے یا کسی دوسرے تنظیم کے ساتھی ہونگے جو اس طرح پہاڑی سے آرئے ہیں مگر جیسے ہی ان کا آواز اس دونو آدمیوں کے کان پڑا تو جو اب تک آگے بڑھ رہے تھے اس گلے مورچہ کی جانب اب یک دم رک کر یہاں وہاں دیکھ نے لگے اتنے میں پھر سے یہان سے آواز دیا کے کون ہو یہان کیا کر رہے ہو. جو ہی انہوں نے حق نواز و اس کے ساتھی کو دیکھا قریب پتھروں میں خود کو چپا کر بیٹھ گئے اب معاملہ کچھ بگڑ سا لگا جب تک اگلے مورچے کے سپاہی پونچ جاتے س میں وقت لگتا اور وہاں سے آنے والے مکمل ان کھات لکائے مشکوک افراد کے ہتے چڑ جاتا ان سے پہلے ہی حق نواز نے اپنے ساتھی ہمراہ سے کہا کے آپ اسی جگہ ٹہرے میں دائیں جانب کچھ انچاہی پر سے انہیں دیکھتا ہو. اس کے ساتھی نے یہ کہے کر انکار کر دیا کے توڑی دیر ٹہر کر حالات کا جائزہ لیتے ہیں. مگر حق نواز ٹہر نا نہیں چا رہا تھا وہ شاید کسی بھی طرح جلد اس خطرے سے دوستوں کو آگاہ کرنا چا رہا تھا حق نواز کے کافی اسرار پر اسکے دوست نے اتنا کہا کے جہان بھی بیٹو میرے نظروں سے اوجھل مت ہونا اب تک صورت حال کا کچھ معلوم نہیں پھر مشکل نہ ہو
حق نواز چلتے ہوئے کہا اچھا ساتھ رہونگا اگلے مورچہ سے واکی ٹاکی پے مسج آیا کے ہم سامنے بڑے پھتر پر ہیں کیا اب بتا سکتے ہو کے وہ دو آدمی کہاں ہیں. حق نواز کا ساتھی واکی ٹاکی پر جواب دے رہا تھا کے دائیں جانب سے ایک ساتھ گولیاں چلنے کی آواز آئی جب تک یہ سمج پاتا کے کس جانب سے چلی تب تک اس کے خود کے سامنے گولی برسنے لگی وہ جلدی سے خود کو پھسلا کر توڑی ہی نیچھے چلا تھا کے حق نواز کے پوکار نے اسے چونکا دیا اسے محسوس ہوا کے اس کے ساتھی کو کچھ تو ہوا یہ جب اس جگہ پر پونچا جہان حق نواز نے جانے کا کہا تھا وہا سے کافی دوری پر سے واپس لنگڑاتے ہوئے آتے دیکھاہی دیا حق نواز یہاں سے جب پونچا تھا تو وہ دو آدمی اسے نظر نہیں آئے تھے تب ہی وہ یہان سے آگئے چٹان جو ان دو آدمیوں سے بھی اوپر تھا کو مورچہ بنانے دوڑ لگایا تھا تب حق نواز نے بندوق میں گولی بھر کر ان پر نظر رکھا ہوا تھا کہ دائیں جانب سے انکا تیسرا ساتھی کا نظر حق نواز پر پڑا جس نے پہلا فائر کر دیا تھا جو حق نواز کے ناف اور پیر میں لگی تھی.
اب اگلے مورچہ میں بھی خبر کردی کے حق نواز کو گولی لگی ہیں تب کیمپ کے باقی ساتھی جنگ کو آتے دیکھ کر پہاڑوں کی چوٹیوں کا رخ کرنے لگے کماندر نے حکمت عملی تیار کرلی بندوقیں بھرنے لگی راکٹ لیے مورچہ سمبال نے لگے حق نواز نے سب کو بتا دیا کے جنگ سر پے آ پونچا اگر اس لمحے حق نواز یہ قدم نہ اٹھا تا تو یہ لوگ بہ آسانی اگلے مورچہ میں پونچ جاتے جہان پونچ نے کا مطلب تھا کیمپ بلکل ان کے ہاتھ آجاتا جہان موجود گوریلوں کے لیے بچ نکلنے کا کوہی راستہ نہیں تھا. یہ اس لمحے کا فیصلہ تھا جو حق نواز نے کس سوچ سمج کے ساتھ کیا تھا اب وہ سب کو بیدار کیئے زمین پر خون میں لت پت لیٹا ہوا تھا ان کے پاس کوہی چادر نہیں تھا انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس خون کو کیسے روکا جائے سیواہی واکی ٹاکی کے رومال کے انکو کچھ سمج نہیں آیا مگر چھوٹا ہونے کے وجہ سے رومال دونو زخمیوں تک نہیں آ سکا اب بس تھا تو یہ انتظار کے اگلے مورچہ کے دوست کیسے بھی پونچ کر خون روکنے کا بندوبست کرے. مگر اب شاید یہ ممکن نہ تھا کیونکہ انکے اور کیمپ کے درمیانی پہاڑی پر دشمن موجود تھا جو تین سے بڑ کر سو کے قریب پونچ گئے تھے اب اس جانب آنے کا کوہی راستہ نہیں تھا. مگر حق نواز کا دوست اسے مسلسل تسلی دے رہا تھا کہ ساتھی کمک کے لیے آرئے ہیں بس توڑا حوصلہ رکھنا. مگر یہان دوست کیا حوصلہ دیتا حق نواز تو خود ایسے متعین لیٹا ہوا تھا جیسے ابھی اپنا کام سر انجام دے کر سونے کو لیٹا ہو. اس نے اپنے ہمراہ سے پوچا کے ہمارے دوست بھی فائرنگ کر رئے ہیں یا یہ لوگ ہیں.وہ سننا چاہتا تھا کہ کیا سب کو بیدار کر دیا؟
پھر وہ نظر آسمان پے لگائے پیشانی پر ہاتھ رکھے کہیں کھو جاتا شاید وہ متمعین ہو چکا تھا کہ دوست اس کے کمک کو آرئے ہیں اس نے اپنا کام کر دیا سب کو بیدار کیا اب سنگت خود سمبال لینگے.کافی دیر اسے اس طرح خاموش دیکھ اسکا ساتھی ڈر جاتا کہ کیوں کچھ نہیں بول رہا وہ اسے آواز لگا کر پوکار تا کبھی حق نواز ایک آواز پر تو کبھی دو تین آواز پر پیشانی سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اطمنان سے.. جی سنگت.. اور اسکا دوست خاموش ہوجاتا.پھر سے حق نواز کے آنکھوں کا مرکز وہی نیلا آسمان ہوتا نہ جانے کیسے وہ اس درد کو سہے رہا تھا میں نے ایسے بھی دلاور دیکھے تھے جو دشمن کے گیرے سے نکل کر بھی اتنا خوفزدہ ہوتے کے اپنے ساتھ ہمراہ کا بھی ایمان خراب کرتے مگر حق نواز تھا کہ ایک اوف تک نہ نکلا زبان سے خون سے لت پت زخموں سے چور مکمل خاموش بلکل ان پہاڑوں کی طرح جنہوں نے ہر دور میں یزیدیت کو سہے کر بھی آج تک خاموش ہیں جن کے دامن میں کہی شہدا نے اپنے قدموں کی آئٹ چھوڑی ہیں جن میں کتنے عاشقوں کے داستانیں دفن ہیں اتنا درد اس پہاڑوں نے صدیوں سے سہا ہیں آج ان کے کوک سے جنم لینے والا حق نواز اس درد کو بھی ان پہاڑوں کی طرح پیئے جا رہا تھا. آج اس فیصلے کا امتحان تھا جس کی شروعات شہر کی تاریکی میں چلنے والی گولی اور بازار میں للکارتے ہوئے ہم لیکے رہینگے آزادی لفظ سے ہوا تھا
وہ آج بھی دور سے آتی ٹھنڈی ہواؤں کو محسوس کر رہا تھا جو بہت دور تک جانے کا حوصلہ رکھتے تھے















