“جنگ کا مسئلہ بظاہر ایک مسئلہ ہے، لیکن اسے “سمجھنا اور جیتنا ہی حقیقی مسئلہ ہے ، اس کے لئے تمہیں سیاست و تجارت (معیشت) جتنی مہارت سے لڑائی سمجھنی ہوگی”

جی۔ کے۔ چیسٹرتن

آزادی کی جنگ میں ہمارامسئلہ بلکل انوکھا اور منفرد ہے۔ ایک تو ہمیں یہ جانکاری ہی نہیں کہ دشمن کیا سوچ رہا ہے؟ اور اس پہ مستزاد یہ کہ ہم بیک وقت “آزادی بھی چاہتے ہیں اور ترقی بھی” ۔

جب ہم بلوچ نسل کشی کے دن کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ “بلوچ نسل کشی میں ہونے والے حادثات محض اتفاقی نہیں” تو بظاہر یہ ریاستی تشدد پر ایک اخلاقی اعتراض معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک گہری اور زیادہ بنیادی خواہش کارفرما ہوتی ہے: سڑکوں، پلوں اور شاہراہوں کی خواہش، یہ مطالبہ اپنی ظاہری صورت میں معصوم اور ترقی پسند دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ایسے ترقیاتی بیانیے کی بازگشت ہے جو خود قبضے کے ڈھانچے کا حصہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں “آزادی اورترقی” ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی نظر آتی ہیں۔

کسی بھی جنگ میں دشمن کی تعداد جاننا اہم سمجھا جاتا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ اہم جنگ کے فلسفے کو جاننا ہوتا ہے۔

اگر کالونیل ازم میں کوئی شے سب سے زیادہ خطرناک ہے تو وہ بندوق یا توپ نہیں، بلکہ وہ زنجیریں ہیں جو ہماری سرزمین پر سڑکوں کی صورت میں بچھائی جا رہی ہیں۔ یہ زنجیریں صرف زمین کو جکڑ نہیں رہیں بلکہ ہمارے اذہان کو بھی مقید کر رہی ہیں۔ عام طور پر کالونیل طاقت کو بندوق، توپ اور فوجی چھاؤنیوں کے ذریعے سمجھا جاتا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس کی اصل قوت انفراسٹرکچر میں بھی مضمر ہوتی ہے۔ سڑکیں، ریل کی پٹڑیاں، بندرگاہیں اور مواصلاتی راستے محض سہولت کے ذرائع نہیں ہوتے، بلکہ یہ سیاسی اختیار، ثقافتی جبر اور معاشی تسلط کے آلات ہوتے ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے سردار ھیر بگش مری جیسے سیاسی شعور رکھنے والے ذہن سمجھتے تھے۔ ان کی سڑکوں سے مخالفت جذباتی یا ترقی دشمن رویہ نہیں تھی، بلکہ ایک تاریخی اور فکری ادراک کا نتیجہ تھی۔ وہ جانتے تھے کہ سڑکوں کا جال زمین پر بچھنے سے پہلے ذہنوں میں بچھایا جاتا ہے، اور جب ذہن ایک مخصوص ترقیاتی منطق کو قبول کر لیتے ہیں تو قبضہ بغیر مزاحمت کے مستقل ہو جاتا ہے۔ اسی لیےھیر بگش مری پر یہ بات صادق آتی ہے کہ “عقل کبھی کبھی عاجزی میں چھپی ہوتی ہے”۔

لیکن آج یہ سوال پوری شدت سے سر اٹھارہی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کہاں کھڑی ہے؟ اس کے اندر کتنی صلاحیت اور فکری گہرائی موجود ہے کہ وہ اس مسئلے کو مزید آگے بڑھا سکے اور ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ اسے ایک مکمل اور مؤثر بیانیے میں ڈھال سکے؟ قیادت سمیت کیڈرز کے اندر کتنی طاقت، سنجیدگی اور شعور ہے کہ وہ ان موضوعات کو محض نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے خود سمجھیں اور دنیا کو بھی سمجھا سکیں؟

درحقیقت سڑکیں قابض کے جسم کی وہ رگیں ہیں جن میں اس کا خون دوڑتا ہے، اور ہماری فکری گہرائ یہ ہے کہ ہم عسکری محاذ پر چند سکوں کی خاطر ان سڑکوں کو راستہ دے رہے ہیں، جبکہ سیاسی محاذ پر قابض سے انہی کے بنانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ قابض کو آکسیجن بھی یہی سے ملتی ہے۔

جنگی لاجسٹک سپورٹ ہو یا معدنیات کی ترسیل، قابض کی معیشت کی بڑھوتری ہو یا عالمی طاقتوں کی خوشنودی، یہ سب عناصر ایک ہی انفراسٹرکچرل نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ شاہراہیں وہ خاموش نظام ہیں جو قبضے کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیتی ہیں۔ انہی کے ذریعے وسائل نکالے جاتے ہیں، فوجی نقل و حرکت ممکن بنتی ہے، اور مقامی آبادی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کی زمین کس تیزی سے خالی کر کے قبضے کو مستقل، منظم اور بظاہر غیر محسوس بنا دیا جا رہا ہے۔

قابض جہاں زمین کو سڑکوں کی صورت زنجیروں میں جکڑ رہا ہے، وہیں اسی زمینی نظم کے اندر تریاق جیسی معیشتوں کو بھی تیزی سے فروغ دے رہا ہے، جو قابض کی وار اکانومی کو تقویت دیتی ہیں۔ افغانستان کی تاریخ اس کی واضح مثال ہے، جہاں جنگ، منشیات اور عالمی سیاست ایک دوسرے میں ضم ہو گئیں۔ اس تاریخ کو بلوچ وطن میں دہرانا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ قابض کی ایک آزمودہ حکمتِ عملی ہے، اور اس پر ہماری حصہ داری ہماری سیاسی و فکری بلوغت پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔

یوں تو خوش فہمیوں کا سلسلہ اگرچہ دراز ہے، مگر اب ہمیں یہ بنیادی سوال خود سے پوچھنا ہوگا کہ دشمن کیا سوچ رہا ہے؟ ہمیں دشمن کو جذباتی انداز سے دیکھنے کے بجائے تجزیاتی انداز میں سوچنا، جانچنا، پرکھنا اور اس سے نمٹنا ہوگا۔ دشمن کے لیے بلوچ ابتدا ہی سے کوئی انسانی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ وہ ساحل، وسائل اور جغرافیے تک رسائی میں حائل محض ایک رکاوٹ ہے۔ اسی لیے وہ گرفتاری، جبری گمشدگی، قتل و غارت گری اور اجتماعی خوف کو بغیر کسی تذبذب کے بطور حکمتِ عملی استعمال کر رہا ہے، اور ساتھ ہی انہی شاہراہوں کے ذریعے لاکھوں مال بردار گاڑیاں معدنی وسائل کو نچوڑ رہا ہے۔

جبکہ ہماری خوش فہمی یہ ہے کہ ہم انہی شاہراہوں اور تریاق کے میدانوں میں اپنی آخری جنگ لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ جنگ کی نوعیت کو سمجھے بغیر کوئی آخری جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ جو جنگ کو محض بندوق یا میدانِ جنگ تک محدود سمجھتا ہے، وہ آخری جنگ تو کجا، پہلی جنگ بھی نہیں لڑ رہا، کیونکہ جدید جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ذہنوں، معیشتوں اور راستوں میں لڑی جاتی ہے۔ریکوڈک کی مثال سامنے کی مثال ہے ، ریکوڈک تک مشینری کا پہنچنا، لاجسٹک سپورٹ ، اور سب سے بڑھ کر دریاؤں کے ذریعے وہاں تک پانی کی رسائ

 ہمیں یاد رلھنا چاہیے کہ اگر جنگ کی ساخت اور فلسفے کو نہ سمجھا جائے تو محض قربانیاں کبھی اس خلا کو پُر نہیں کر سکتیں۔بقول سن تزو “جنگ میں قلعے پر حملہ کرنا آخری آپشن ہوتا ہے”

I tell you naught for your comfort,

Yea, naught for your desire,

Save that the sky grows darker yet

And the sea rises higher

G. K. Chesterton