آج کے تناظر میں بلوچ بے شک اپنے جنگی امر میں ایک نئی اور بہترین صبح کی طرف گامزن ہے، پر کیا یہ نئی صبح وہ ہضم کرنے کو تیار بھی ہے کہ نہیں؟ یا بس لفظی گولا باری اور ایکس پر کیمپن سے آگئے اس میں خود میں تحلیل ہونے کو تیار بھی ہیں؟ سوچنے کے مقامات پر آ کر کچھ لمحے ساکن ہو جاتے ہیں۔ آیا ہم سیاست سے کچھ حاصل بھی کر رہے ہیں کہ نہیں؟ کیونکہ کچھ وقت گزرے واقعات میں سے بعض پر نظر ڈالتے ہیں جو آئینہ دار ہیں کہ ہم اب بھی سیاسی لحاظ سے بس ایک جذباتی کشمکش میں جی رہے ہیں۔ اب یہاں پر بہت سے دوست ان الفاظ سے متفق ہوں اور بعض رد کریں گے۔ماہ رنگ گرفتار ہوتی ہے تو سیاسی کیڈر ایک دم سے گر جاتا ہے کہ لیڈر شپ نہیں تو اب آگے کی پالیسی کیا ہو گی؟ کیا آپ پھر ایک اور ماہ رنگ کے پیدا ہونے کا انتظار کریں گے یا سیاسی شعور بس اسی جگہ آ کر جذبات کی نظر ہو چکا کہ ماہ رنگ تو نہیں، اب اور کون آئے گا؟ بیشتر سیاسی حضرات ساکن ہو چکے، زندگی پھر سے خطرے میں ہے اور سیاست سرد ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ آپ کا ضمیر ہے، نہ آپ جنگ چاہتے ہیں نہ سیاست۔ زمیں پر جو لوگ قابض ہیں وہ آپ کو ایک ڈھیل دیتے ہیں، آپ کے لوگوں میں پانچ کی نشان دہی کرتے اور باقیوں کو اس نشان دہی میں جو جذباتی شعور ہوتا وہ مار دیتے ہیں۔ماہ رنگ کوئٹہ آئی تو ایک سمندر نے استقبال کیا، پر اب وہ سمندر کہاں ہے؟ حقیقی طور پر جو جذباتی سمندر تھا نہ شعوری۔سوشل میڈیا پر ویوز کرنے کی خاطر تو پنجاب نے بھی اس کو استعمال کیا اور بلوچ وہ سادہ لوح نسل ہے کہ ان کو دیکھتے اتنا فیم دے دو کہ وہ کمائی بھی کرئے اور آپ ان پر اندھا اعتماد کر جاو۔ دنیا میں اچھی قوموں کے نزدیک ایک مثال ہے: جو دشمن ہے وہ دشمن ہے، اس پر سوچنے کی گنجائش نہیں کہ وہ دوست ہو سکتا۔ماہ رنگ چلی گئی، شہید ء ڈغار بھی اس زمیں میں سپرد ء خاک ہوا۔ جذباتی لوگوں نے کیا کر لیا؟ اصلیت میں بلوچستان کا شعوری طبقہ بدلہ ہی نہیں کیونکہ سیاسی لوگ اسی روش پر قائم ہیں۔ جنگ تو ان ماں کے بچوں کی میراث ہے جو سمجھ گئے کہ اور کوئی راستہ نہیں۔بلوچستان میں ریاست روزانہ کی بنیاد پر سستی موت تقسیم کر رہی۔ بلوچ کہاں ہے؟ سب کے پاس ایک ہی بات ہے: پیٹ اور جذبات۔ اب وہ وقت چلا گیا یا تو خود کو صاف طور پر بلوچ سے وابستہ کریں یا رائیگاں جذبات کو سائیڈ کر کے خود کو ہی الگ کر لیں۔ ضمیر بھی آپ کا، عدالت بھی آپکی۔ نہ ہی یہ زمیں آپ کے کھوکھلے جذبات کی منتظر ہے اور نہ آج کے آپ کے اس نام نہاد ایجنڈا کی۔