اسلام آباد میں بلوچ ماؤں اور بہنوں کے جاری آلیہ دھرنے نے ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے۔ یہ دھرنا محض ایک احتجاج نہیں، بلکہ بلوچ قوم کی صدیوں پرانی قربانیوں اور جدوجہد کا تسلسل ہے۔ جب ایک ماں اپنے لاپتہ بیٹے کی بازیابی کے لیے سردی، دھوپ اور بارش میں سڑک پر بیٹھنے پر مجبور ہو جائے، تو یہ ریاست کی ناکامی نہیں بلکہ اس کے جابرانہ رویے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان دھرنوں میں شریک خواتین، اپنی آنکھوں میں دکھ اور دلوں میں امید لیے بیٹھی ہیں۔ یہ وہ مائیں ہیں جن کے بیٹے کسی عدالت، کسی جرم یا کسی مقدمے کے بغیر گم کر دیے گئے۔ یہ وہ بہنیں ہیں جن کے بھائیوں کی لاشیں ویران پہاڑوں اور سنسان سڑکوں کے کنارے پھینک دی جاتی ہیں۔ ان کی پکار یہ ہے کہ اگر کوئی قصور ہے تو عدالتوں میں پیش کرو، مگر اس قابض اور جابر ریاست کو قانون اور انصاف سے زیادہ اپنی طاقت اور تشدد پر یقین ہے۔ اسلام آباد کا یہ دھرنا اس حقیقت کو دنیا کے سامنے لاتا ہے کہ بلوچ قوم کو منظم طور پر خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم کی صدا کبھی دبائی نہیں جا سکتی۔ بلوچ خواتین کا یہ عزم، ان کے صبر اور حوصلے کے ساتھ، آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ریاست کے کان بہرے ہیں، مگر یہ احتجاج دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ بلوچستان جل رہا ہے، بلوچ مائیں رو رہی ہیں اور بہنیں انصاف کی دہائی دے رہی ہیں۔ ان دھرنوں سے یہ پیغام جاتا ہے کہ بلوچ اپنے حق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔