زہک (ہمگام نیوز ) اطلاع کے مطابق جمعہ کو ایک بلوچ شہری جو کہ مقبوضہ بلوچستان میں پیدائش سرٹیفکیٹ سے محروم تھا کو قابض ایرانی پولیس نے اسے گرفتار کر کے اس شہر کے الغدیر فوجی کیمپ میں منتقل کیا اور پھر اسے افغانستان کی سرحد پر چھوڑ دیا گیا جبکہ زہک میں واقع ملا شریف چوکی کے سرحدی مقام پر واپسی پر قابض ایرانی فورسز نے براہ راست فائرنگ کرکے شہید کر دیا ۔
پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر اس بلوچ شہری کی شناخت 28 سالہ رحمت اللہ براہوئی زیرکاری ولد عبداللہ ہے جو کہ شادی شدہ اور پانچ چھوٹے بچوں کا والد تھا ، ساکن شیرآباد زاہدان ہے ۔
رپورٹ کے مطابق رحمت اللہ جو کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والا تعمیراتی مزدور تھا، کو برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے بہانے گرفتار کیے جانے کے بعد اس کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے اور مطلع کرنے کی اجازت کے بغیر الغدیر کیمپ منتقل کیا گیا اور وہاں سے اسے افغانستان کی سرحد عبور کرایا گیا تاکہ وہ اپنے آبائی وطن چھوڑ کر افغانستان چلا جائے۔
یہ بلوچ شہری اپنے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان سے واپسی کے لیے سرحد پار کرنے پر مجبور ہوا، اسے ملا شریف چوکی پر فورسز نے کمر اور ٹانگ پر فائرنگ کی جس سے وہطجان کی بازی ہار گئے۔
اس نوجوان کی موت کے بعد فوج کے اہلکاروں نے اس کے گھر والوں کو بتائے بغیر اس کی لاش کو زابل کے امیر المومنین اسپتال پہنچایا اور اسپتال کے مردہ خانے کے اہلکاروں نے بروز پیر کو اس کے اہل خانہ کو موت کی اطلاع دی۔ تاکہ وہ طبی کام انجام دے سکیں اور قانونی طور پر اس کی لاش کو اپنے قبضے میں لے سکیں۔
واضح رہے کہ ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں ایسے لاکھوں بلوچ ہیں جنہیں قابض ایران نے دانستہ طور پر پیدائشی سرٹیفکیٹ سے محروم کیا گیا ہے تاکہ بلوچستان کی آبادی کو کم کرکے وہاں آباد کاروں کو آباد کرنے کا موقع ملے۔















