متحدہ بلوچستان کا مجموعی رقبہ تقریباً 633,000 مربع کلومیٹر بنتا ہے
اس میں موجودہ پاکستانی بلوچستان، ایران کا بلوچستان (سیستان و بلوچستان)، اور افغانستان کے بلوچستان کے علاقے شامل ہیں۔ نیمروز
زابل،قندھار
صحرا کی تپتی ریت سے لے کر پہاڑوں کی بلندیوں تک، بلوچستان کی ہر انچ زمین اپنے دامن میں صدیوں کی داستانیں سمیٹے ہوئے ہے
یہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ایک زندہ تہذیب کا آئینہ ہے جو ہزاروں سال سے اپنی شناخت کی جنگ لڑ رہی ہے
بلوچستان کی تاریخ کا ہر ورق خون اور جذبے سے لکھا گیا ہے
قدیم مکران تہذیب، جو 4000 قبل مسیح میں پروان چڑھی، آج بھی اس خطے کی عظمت رفتہ کی گواہ ہے
یہاں کے لوگوں نے سکندر اعظم کے لشکروں کا مقابلہ کیا، عرب تاجروں سے تجارت کی، اور مغلیہ سلطنت کی طاقت کو للکارا
خان آف قلات کی عظیم ریاست (1666-1948) بلوچ خودمختاری کا سب سے روشن باب ہے، جس نے دو صدیوں تک برطانوی سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا
1871 کی گولڈسمڈ لائن اور 1893 کی ڈیورنڈ لائن نے نہ صرف بلوچستان کے جغرافیے کو پارہ پارہ کیا، بلکہ ایک قوم کی روح کو بھی زخمی کر دیا
یہ وہ تاریخی ظلم تھا جس نے بلوچ عوام کو تین مختلف ممالک میں بٹا دیا، مگر ان کے عزم کو کبھی شکست نہ دے سکا
1948 میں قلات ریاست کے زبردستی الحاق نے بلوچ مزاحمت کو ایک نئی راہ دی
نواب نوروز خان سے لے کر نواب اکبر بگٹی تک، ہر دور میں بلوچ رہنماؤں نے ظلم کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا
اسی سلسلے میں ہیربیار مری کا ذکر انتہائی اہم ہے
انہوں نے اپنی قربانی اور وطن سے محبت سے یہ ثابت کیا کہ آزادی کی جدوجہد میں عزم اور جذبہ سب سے بڑی طاقت ہے
ان کی قربانی آج بھی بلوچ عوام کے لیے ایک مشعل راہ ہے اور نوجوان نسل کو تحریک اور عزم کی راہ دکھاتی ہے
1970 کی دہائی میں مارشل لاء کے خلاف ہونے والی بغاوت، اور موجودہ دور میں جاری تحریک، ہر مرحلے پر بلوچوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی زمین کے حقوق سے کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتے
وسائل پر قبضے کی کہانی
بلوچستان کے معدنی خزانے اسے دنیا کے امیر ترین خطوں میں سے ایک بناتے ہیں
ریکو ڈک کا تانبا اور سونا، سوئی کی گیس، اور گوادر کی بندرگاہ – یہ سب اس سرزمین کے تحفے ہیں
مگر المیہ یہ ہے کہ ان وسائل سے بلوچ عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا
مرکز نے ہمیشہ اس خطے کو لوٹنے کی پالیسی اپنائی ہے
بلوچ عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں
تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں
ہزاروں بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں، اور ہر روز نئی لاشیں ملیٹری ایکشنز میں برآمد ہوتی ہیں
یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے بین الاقوامی میڈیا بھی تسلیم کرتا ہے
نئی نسل میں آزادی کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے
سوشل میڈیا نے بلوچ جدوجہد کو عالمی سطح پر متعارف کرایا ہے
یہ وہ وقت ہے جب دنیا بلوچ عوام کے جائز مطالبے کو سمجھ رہی ہے
بلوچستان کی زمین خون سے سینچی گئی ہے
یہاں کا ہر پتھر، ہر درخت آزادی کی داستان سناتا ہے
جب تک ایک بھی بلوچ زندہ ہے، یہ جدوجہد جاری رہے گی
جیسا کہ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا
ہم مرنا جانتے ہیں، مگر جھکنا نہیں جانتے
ہیربیار مری جیسے قربانی دینے والے بلوچ رہنماؤں کا ذکر ہمیشہ تحریک اور عزم کی یاد دلاتا ہے
یہ بلوچ قوم کی پہچان ہے، اور یہی اس کی ہمت اور عزت کی علامت















