بلوچ مزاحمت کے دل میں ایک لفظ گونجتا ہے “سرمچار” سرمچار وہ ہے جو اپنی سرزمین کی آزادی کے لیے پہاڑوں کا رخ کرتا ہے، جو اپنی نیند، آرام اور زندگی قربان کر دیتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں غلام نہ رہیں > پاکستانی ریاست اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے سرمچار کو دہشت گرد کہتی ہے، لیکن بلوچ عوام کے دلوں میں وہ ایک ہیرو، محافظ اور آزادی کے سپاہی کی حیثیت رکھتا ہے قابض طاقت کے لیے ہر حریت پسند دہشت گرد ہوتا ہے، مگر مظلوم قوم کے لیے وہ امید اور حوصلے کا نام ہے ._. سرمچار کی زندگی آسان نہیں پہاڑوں میں بھوک، پیاس، سخت گرمی، جان لیوا سردی اور دشمن کے حملوں کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے لیکن اس سب کے باوجود سرمچار اپنی مسکراہٹ اور عزم کے ساتھ لڑتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ اس کی قربانی اس کی قوم کو غلامی سے نکال کر آزادی کی منزل تک پہنچائے گی. بلوچ مزاحمت کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے شہید بالاچ مری، شہید نواب اکبر بگٹی ،شھید دلجان،شھید چاکر بولانی اور دیگر بے شمار سرمچاروں نے اپنی جانیں قربان کر کے یہ پیغام دیا کہ بلوچ قوم غلامی قبول کرنے کے بجائے موت کو ترجیح دیتی ہے. (ایران اور پاکستان کا گٹھ جوڑ) بلوچ قوم کی جدوجہد صرف پاکستان کے خلاف محدود نہیں، بلکہ ایران کے خلاف بھی ہے دونوں ریاستیں بلوچ دشمنی میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی رہی ہیں. 1973 میں جب بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے فوجی آپریشن شروع کیا تو ایران نے پاکستان کو براہِ راست فوجی امداد فراہم کی ایرانی شاہ نے ہیلی کاپٹر اور اسلحہ دیا تاکہ بلوچ تحریک آزادی کو کچلا جا سکے 1974 میں ایران نے اپنے پائلٹ پاکستان کو دیے جو براہِ راست بلوچوں کے خلاف کارروائیوں میں شامل ہوئے اس طرح بلوچ مزاحمت کو کچلنے کے لیے دونوں ریاستیں ایک ہوگئیں. ضیاء الحق کے دور میں بھی ایران اور پاکستان نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھایا بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف انٹیلیجنس شیئرنگ، سرحدی کریک ڈاؤن اور مشترکہ آپریشن کیے گئے یہ واضح ہو گیا کہ دونوں ریاستیں بلوچ تحریک کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں اور اس کو ختم کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں. آج کے حالات میں بھی یہ گٹھ جو جاری ہے پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں فوجی آپریشنوں کے دوران ایران اپنی سرزمین استعمال کر کے بلوچ مزاحمت کاروں پر حملے کرتا ہے. ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں ہزاروں بلوچ نوجوان جیلوں میں قید ہیں، سینکڑوں کو پھانسی دی جا چکی ہے. پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور فوجی آپریشنز کا عذاب ہے تو ایران میں پھانسی گھاٹ اور قید خانوں کا. حالیہ برسوں میں دونوں ریاستوں نے سرحد پار کارروائیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی دکھائی، جس کا سب سے بڑا نشانہ بلوچ ہی بنے. یہ سب ثبوت ہیں کہ ایران اور پاکستان بلوچ دشمنی میں ہمیشہ ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں.