آرچن بلوچ

تم بلوچ  سے  کہ رہے ہو  کہ ‘‘پاکستان کے ساتھ چلیں۔ کیوں اپنی انرجی ایک لاحاصل اییکٹیویٹی پہ لگا رہے ہیں‘‘؟  اور یہ بھی پوچھ رہ ہے ہو کہ “کیا انڈیا غیر نہیں ہے جس سے بلوچ  مدد مانگ رہے ہیں‘‘؟  اب تم کہ رہے ہو کہ  ‘‘ہاں جی بلکل زیادتیاں ہیں۔ لیکن اداروں کی طرف سے ہونگی۔ پنجابی قوم کی طرف سے نہیں ہیں‘‘۔ بلوچستان کی طول وعرض پر تمھاری فوج کی دھشت گردی نے  بلوچستان  میں  ہر گھر کو ماتم کدہ بنا دیا ہے۔

تو سنو!  شروع سے لیکر آج تک اس بدبخت ملک کو تمھارے پنجابی مقدرہ قوت فوج اور  سول ادارے چلارہے ہیں، تو پھر یہ کیوں ماننے سے انکار کرہے ہو کہ پنجابی نہیں ادارے زیادیاں کررہےہیں، ان اداروں کو بھی یہی تمھارے پنجابی چلار رہےہیں اور کوئی خدائی فرشتہ یا شیطان  چلا نہیں رہا ہے۔ جب ہم نے صرف حق و حقوق  کی بات تب بھی تم نے ہمارے اوپر غدار اور بغداد کا انجٹ ہونے  کا الزام لگا کر ہمارے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالتے ہوئے موت کی سزا دی۔ ہم اسد جان مینگل کو کیسے بھولیں جسے تم نے اپنی عہد  جوانی میں  غائب کردیا؟  اب جبکہ ہماری قوم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم دائمی حق و حقوق کی لاحاصل جہد نہیں کرینگے  اس سے بہتر  یہی ہے کہ  ہم اپنی کھوئی ہوئی آزادی کو  مسلح جہد کے زریع  بحال کریں کیونکہ ہردو صورتوں میں الزام غداری اور  سز ا موت ہے ۔ اب کی بار  تم ہندوستان اور امریکہ کا اجنٹ ہونے کا  الزام لگا رہے ہو، اور پوچھ رہے ہو کہ ‘‘کیا انڈیا غیر نہیں ہے جس سے بلوچ  مدد مانگ رہے ہیں‘‘؟  جہاں ہاں تم غیر ہو اور انڈیا بلکل غیر نہیں!

 اگر تم غیر نہیں ہوتے  تو بجائے طاقت کے استعمال کے،  تم ہمیں  باہمی رضا و رغبت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر  پاکستان اور بلوچستان کا  ایک یونین  بنانے کی تجویز دیتے۔ لیکن  تم نے  برطانیہ کی وفاداری کی عوض  ملی  فوجی طاقت کے زریعے  ہماری  سرزمیں بلوچستان پر بلجبر قبضہ کیا ، لیکن اس کے باوجود ہمارے بزرگوں نے بامر مجبوری پاکستانی پارلمنانی نظام کے تحت کام کرنے کی حامی بھر لی ، لیکن اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ بھوک، جہالت، بیماری بے روزگاری، ملکی وسائل کی لوٹ مار، نا انصافی ، پنجابی فوج کی دھشت گردی اور گنڈہ گردی، عزت کی پائمالی، نشتہ و اسملنگ کی بھرمار ، عالمی قوتوں کے مفاداد کی جنگ کا میدان!

کیا تماری فوج نے  ان حقیقی بلوچ نمائندوں کو جیلوں میں نہیں ڈالا،  جو پاکستانی ریاست کے ساتھ رہ کر اپنے قومی کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے؟

کیا کبھی تماری اس  فوج نے،  جوکہ پنجابیوں پر مشتمل ہے، ہمارے ملک بلوچستان کو مائی کرومنیجمنٹ کرنے کی غلیظ کردار سے اپنی ہاتھ کھینچ لی ہے؟ اب جبکہ  ہماری عوام کو پورا طرح یقین  ہے کہ  تم ایک دھشت گرد اور  مجرم ہو، جہوریت کا قاتل ہو، تو ایسی صورت میں ہم اپنی قومی sovereignty کو کیسے تم جیسے غیروں کے ہاتھوں چھوڑ دیں؟  پچھلے78 سالوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آپ  کی پنجاب بلوچستان کوگدھ کی طرح نوچ رہا  ہے۔ کہتے ہیں کہ مسلمان کا مال مسلمان پر حرام ہے، اسلام کی اس زریں اصول کے بنیاد پر تم ایک چور ہو، اگر تم غیرنہ ہوتےتو ہماری وسائل پرہماری اختیارکومانتے، ہمیں اپنے برابرسمجھتے، ہمیہں غربت کی طرف نہ دکھیلتے ہمیں آزاد زندگی گزارنےدیتے. بلوچوں پرعرصہ حیات تنگ نہ کرتے،ایک نا ختم  ہونے والے جہدوجہد کی طرف نہ دکھیلتے ہمارے رہنماؤں کوجیلوں میں نہ ڈالتے۔

اگر آپ پنجابی مسلم ، قوم غیر نہ ہوتے  تو ہمارے اوپر یقین کرتے اور بلوچستان پر خود کو مسلط نہیں کرتے، ہم اپنی ملک  کی سرحدوں کی حفاظت خود کرتے۔  اگرتم غیرنہ ہوتے تو انگریز کی  کرپٹ  کردہ   راشی ، وخشی سرداروں کو فوج اور آئی ایس آئی کے زریعے ہمارے اورپر  سالوں سال  مسلط نہ کرتے۔

اب جبکہ بلوچ عوام نے  جمہوری اور پر امن جہد سے تنگ آکر  اپنی  آزادی اور نجات کیلئےمسلح  دفاعی جہد شروع کیا تو تماری فوج نے بلوچستان کو ایک قتل گاہ  بنا دیا ۔  خون کی ہولی کھیل رہا ہے، ہمیں زیرکرنے کی ہر غلیظ اور ناجائز حربےکوآزما رہا ہے۔ گن شپ ہیلی کپٹر اور جنگی جہازوں سے لیکر شہر کی ایک  بدمعاش چور غنڈوں  تک کو استعمال کرر ہا ہے۔ کبھی جنگی اخلاقیات کے بارے سنا ہے تم نے؟  ہمیں یقین کامل ہے کہ تم مہذب تہذیب پر یقین نہیں رکھتے،  بلکہ تادیبی کاروائیوں کے زریعے تم ہماری جہد کو زیر کرنے کی غلیط حرکتوں پریقین رکھتے ہو۔ تم ہمارے کمزور  اور  غریب لوگوں کے جھونپڑیوں کو جلاتے ہو، نہتے لوگوں کو پر وار کرتے ہو، ہمارے عورتوں کی عزتوں کو فوجی طاقت کے زریعے پائمال کرتے ہو،  یہی ہے تماری مسلمانیت  اور  وخشی  تہذیب! بھلا ہوتماری بدنیتی اور گندھی فکر کا جس نے بلوچوں کو 78  سالوں سے ایسا نہیں چھوڑا کہ وہ ایک دن کی  روٹی باعزت طریقے سے کمائیں،  پانی کی ایک ایک بوندھ سے ہمارے لوگ ترستے ہین۔  وہ اپنی شہروں میں   دبی  Dubai   جیسے بلند و بلا عمارتوں کا تصور تک اپنے زھنوں نہیں لاتے۔ آج  یہاں اگر بلند و بالا عمارتیں ہوتیں تو  بیروت ، بغدار کابل اور سوریا کی تباہی کے  مناظر کم پڑتیں۔

جب سے بلوچ عوام نے تماری جبر اور بربریت سے نجات حاصل کرنے کیلئے مزاحمت شروع کی تو تم  نے مزاکرات کرنے کے بجائے  ہمیں مسخ شدہ لاشوں دینا شروع کیں، ہزاروں کے حساب میں تماری بدتہزیب فوج نے ہمارے نوجوانوں کو بغیر کسی قانونی وجہ گمنام کردیا۔  ابتک 20000 ہزار سے زیادہ لوگ غائب ہوچکے ہین۔

تم کہ رہے ہو کہ ‘‘ہاں جی بلکل زیادتیاں ہیں۔ لیکن اداروں کی طرف سے ہونگی۔ پنجابی قوم کی طرف سے نہیں ہیں‘‘۔  تمھاری نظرمیں اوپر کی تمام باتیں شاید زیادتیاں ہیں،  لیکن مہذب تہذیبوں کے انصاف کے پیمانے انہیں انسانیت کے خلاف نا قابل معافی جنگی جرا ئم گردانتےہیں جسطرح کہ سابقہ چیکوسلواکہ کے فیڈریشن میں سربیا کی جرائم کے کیسز آج ہیگ میں عالمی عدالت کے سامنے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ اس طرح بلوچستان میں تمھارے ملک کے جرائم بھی وہاں پیش ہونگے۔

بلوچ آزادی کی تحریک ایک نا ختم ہونے والی جنگ ہے، اب اس کا خاتمہ تمھارے ریاست کی بس کی بات نہیں، اچھے زمانوں میں تمھاری فوج اسے ختم نہ کرسکی جب دنیا  اسلحہ سے لیکر ڈالروں تک تمھاری مدد کررہا تھا۔ پچھلے 17سالوں سے جاری یہ جنگ بہت مظبوط ہوچکا ہے

خارجی طور پر تمھارے پنجابی پاکستان کی ساری خارجی دفاعی لائینیں یکے بعد دیگرے گر رہی ہیں،

1۔ خلیجی ممالک  منہ موڑ لیں گے

2۔ امریکہ ہاتھ کھینچ رہا ہے

3۔ چائنا سی پیک کے مستقبل کے بارے گومگو کا شکار نظر آرہا ہے

4۔ کشمیرکا فرنٹ کارگر ثابت نہیں ہورہا ہے۔

5۔ افغانستان کو ایک ترنوالہ سمجھ کر ہضم کرنے کی تمھاری جرنیلوں کی خواب چکنا چور ہو چکے ہیں۔

6۔ طالبان اب مجبور ہوکر تم سے الگ ہورہے ہیں اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہیں اور یہ فرنٹ اب تقریباً پنجابی پاکستان کیلئے کسی کام کا نہیں رہا، بلکن اس کے الٹے اثرات تمارے ملک پاکستان پر نظر آرہے ہیں۔۔۔

7۔ روس سے پینگیں بڑھانے کے تماری تمام کاوشیں بے سود نظر آرہے ہیں!

8۔ یورپ برطانیہ جیسے ملک کے وزیرآعظم کو گھنٹوں انتظارکراونے کے بعد تب 5 منٹ بات کرنے کی اجازت دیتا ہے، تو پاکستان جیسے ملک کیلئے وہاں ہمدردیاں حاصل کرنا ناممکن سی بات  ہے۔

9۔ آپ کی ملک کے خقیر زرمبادل کے زخائر بہت تیزی سے کم ہوتے جارہے  ہیں،  تھارا ملک 74ٹریلین روپوں کا  قرضدار ہے۔ یہ سی پییک ایک سفید ہاتھی بنتا جارہاہے،  آئی ایم ایف نےاپنی   حالیہ رپورٹ خبردار کرتے ہوے کہا ہے کہ  سرمایہ کاری کے ساتھ   repaymentکرنے پڑتے ہیں جنکی ادائیگی کرنا پاکستانی معیشت کے بس کی بات نہیں۔

10۔ تم اندرونی طور پر بھی تنہائی کا شکار ہو،   تمارے فوجی شکنجے میں جکھڑے تمام اقوام   مہاجر سندھی اور پشتون سب  تم سے نفرت کرتے ہیں،   اگر انگریز دور کا  مراعت یافتہ  پشتون اشرافیہ  طبقہ اور مزہبی  انتہا پسند ملا عسکری لحاظ سے آپ کا اتحادی ہے لیکن وہ تجارت اور معاشی مفاد  کےلیے مغربی روٹ کے بارے ہرگز سودابازی نہیں کرینگے۔ اور دوسری طرف  سیکورٹی کے لحاظ سے مغربی روٹ  چائنا کیلئے قابل قبول نہیں۔

خرف آخر ۔ سربوں کی طرح تمھارے  لیے بہتر ہے کہ  تم  نوشتہ دیوار  پڑھ  لو  تمھارے لیئے بس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور  وہ ہے بلوچستان سے اپنی بوری بستر  گول کرکے  نکل جانا،   کیونکہ تم بلوچ مزاحمت کو توڑ نہیں سکتے اور  دنیا کیلئے اب تمھاری وجود بھی قابل قبول نہیں۔ آج بلوچ دنیا میں تنہا نہیں،  دنیا بلوچ کو حمایت دینے کیلئے کھڑی ہے۔