وہ اپنی طاقت سے باخبر ہو رہے ہیں۔ اور یہی کمزوری کی ابتدا ہے۔”

بظاہر یہ جملہ تضاد رکھے ہوئے معلوم ہوتا ہے، مگر تاریخ کی بساط پر یہی تضاد بارہا شکست کا پیش خیمہ بنا ہے۔ طاقت کا شعور اگر فہم، احتساب اور تجزیے کے بغیر پیدا ہو تو وہ اعتماد نہیں بلکہ خود فریبی کو جنم دیتا ہے۔ جب قومیں اور قیادتیں اپنی قوت کا اعلان زیادہ اور اس کا تجزیہ کم کرنے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ خطرہ خاموشی سے آپکی طرف بڑھ رہا ہے۔

آئیے شطرنج کی بساط بچھاتے ہیں۔ ایک شاطر کبھی یہ حماقت نہیں کرتا کہ ساتھ بیٹھے کسی دوسرے شاطر کی بصیرت کو اس بنیاد پر رد کر دے کہ وہ اس لمحے مہرہ نہیں چلا رہا۔ مگر عام ذہن جلد بازی کا اسیر ہوتا ہے۔ وہ چیختا ہے,چلاتا ہے “چونکہ تم نے بندوق نہیں اٹھائی، اس لیے تمہیں جنگ کا علم نہیں۔” اسے چیخنے دیجیے لیکن ہم بساط پر بچھی ہوئ مہروں پہ خاموش اور تاریخی بساط پہ طویل نگاہ ڈالنے کے قائل ہیں۔

شطرنج میں طاقت اہم ہے، مگر طاقت سے بڑھ کر ٹائمنگ اہم ہوتی ہے۔ ایک لمحے کی تاخیر جیتی ہوئی بازی کو شکست میں بدل سکتی ہے، اور ایک بروقت توقف ہار کو فتح کا درجہ دے سکتا ہے۔

لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ٹائمنگ کے باب میں ہم ہمیشہ بے خبر ہی رہے۔ کب، کیا اور کیسے چلنا ہے ؟ ہماری توجہ “کب” پر کبھی رہی ہی نہیں، ہم “کیا” اور “کیسے” کی چالوں میں ہی عمر گزار رہے ہیں ۔ جب بات چالوں سے بڑھ کرپیٹرن تک آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ شطرنج چالوں سے بڑھ کر پیٹرن کا کھیل ہے۔ پیٹرن پر فکری غور کرنے سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہاں، ہمیں لڑنا ہے۔ بقولِ شخصے: “لڑیں گے تو سیکھیں گے۔” مگر لڑتے لڑتے پیٹرن کو سمجھنا قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے، کیونکہ پیٹرن کو سمجھے بغیر لڑائی سپاہی کے لیے محض ایک رومان اور قیادت کے لیے خود فریبی و فکری مغالطہ بن جاتا ہے ، جنگی ماحول میں جذبات اور تازہ خون وقتی توانائی تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمیں صرف لڑنے کے لیے نہیں لڑنا “ہمیں یہ جنگ جیتنی بھی ہے” اور یہی اصل بات ہے۔

چال محض ایک واقعہ ہوتی ہے، جب کہ پیٹرن ایک تاریخ، چال منظر میں ہوتی ہے جبکہ پیٹرن کی تشکیل ذہن میں ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں Queen’s Gambit کے وہ مناظر کون بھول سکتا ہے جہاں بیتھ ہارمن سوتے ہوئے چھت پر پیٹرن دیکھتی ہے، جیسے کھیل اس کے شعور میں رچ بس کر سانس لے رہا ہو۔ بیتھ ہارمن کا چھت پر پیٹرن دیکھنا دراصل اسی شعور کی علامت ہے کہ اصل کھیل بساط سے بڑھ کر ذہن میں کھیلا جاتا ہے، جب پیٹرن ذہن میں واضح ہو جائے تو چال اسی کے مطابق خود بخود ترتیب پاتی ہے، اور ذہن کی بساط حقیقی بساط پر منتقل ہو جاتی ہے۔اسی پیٹرن کو ذہن میں رکھ کر اپنی بساط یعںی اپنی زمین پر جنگ لڑنی ہوگی۔

جہاں تک جنگی چالوں سے بڑھ کر پیٹرن کی بات ہے تو یہ اعتراف کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ اس سطح پر ہم ناکام ہوئے ہیں۔ یٹرن تاریخ، نفسیات، سیاست و طاقت کے توازن اور حالات کے باہمی ربط سے بنتا ہے ہماری قیادت کو سر جوڑ کر یہ سوچنا ہوگا کہ وہ کون سی فکری اور عملی کمزوریاں ہیں کہ پیٹرن کو سمجننے میں ہمارے ادارے ناکام رہے؟ ہمیں اپنے سیاسی و جنگی منظرنامے میں یہ سوالات خود سے کرنے ھونگے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری بین الاقوامی حکمتِ عملی کیا ہے؟ سفارت کاری میں ہمارا توازن کیسا ہے؟ ہم خود کس قدر متحد ہیں ؟ ان سب کے لئے اداروں کا ہونا لازمی ہےلیکن بدقسمتی سے آج کے دن تک اداروں پر فرد حاوی رہا ہے۔

اداروں کے فقدان میں قیادت کا فکری مغالطہ یہ ہوتاہے، کہ وہ بڑی مشکل کو پہلے سے حل شدہ سمجھ لیتے ہیں اور یہ صرف ہماری نہیں بلکہ ہر یوٹیوپیا کی کمزوری ہے ، ہم خیال ہی خیال میں پہلے سے فرض کر لیتے ہیں کہ دشمن کو نفسیاتی یا جانی زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے، اس کی کمر ٹوٹ چکی ہے، کہ وہ کمزور ہو گیا ہے۔ یوں جہاں سے جنگی تجزیہ شروع ہونا چاہیے، ہم وہ باب پہلے سے بند کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی ہی بیان کردہ کامیابی پر یقین کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں، جبکہ اصل صورتِ حال شاید بالکل مختلف ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم چھوٹے مسائل میں الجھ کر اصل مسئلے کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ دشمن کو کو کس قدر جانی و نفسیاتی نقصان ہوا؟ جنگ ایک طویل ذہنی مقابلہ ہے، جس میں دشمن کی تاریخ، اس کی نفسیات، اس کے وسائل اور اس کی آئندہ کی سمت سب کو سمجھنا پڑتی ہے۔

ہمارا ایک اور خطرناک اور دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم “مرنے کو تو تیار بیٹھے ہیں، مگر مارنے سے پہلے۔” قربانی اپنی جگہ معنی رکھتی ہے۔ تاریخ میں ایسے بیانات بھی ملتے ہیں جہاں قیادت نے کہا کہ اگر وہ مارنا جانتے ہیں تو ہمیں مرنا آتا ہے۔ یہ جذبہ وفا اور استقامت کی علامت ہے، مگر صرف مرنے کا عزم کافی نہیں ہوتا۔ قیادت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دیکھے کون سی چال کس پیٹرن کے تحت چل رہی ہے۔

یہاں اسٹریٹیجی اور ٹیکٹکس دونوں میں بدقسمتی سے کوئی جان نظر نہیں آ رہی۔ اسٹریٹیجی وہ ہوتی ہے جو دشمن کی نظروں اور ذہن سے اوجھل ہو، لیکن یہاں تشہیری مہم پہلے سے چلتی ہے۔ اسی طرح ٹیکٹکس کی حالت اتنی پتلی ہے کہ اہداف کی گزرگاہوں کا علم ہی نہیں۔ اس لیے اک آدھ اہداف کے علاوہ اکثر اہداف تک پہچنے سے پہلے ہم ہدف بن جاتے ہیں، ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ایک طرف تنخواہ دار سپاہی ہے جو لالچ یا حکم پر میدان میں اترتا ہے، دوسری طرف خوددار زمین زادہ ہے، جس کے لیے لڑائی وجود کا مسئلہ ہے۔ جس کی قربانی بقول لاکان معنویت پیدا کرتی ہے، مگر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اپنی معنوی دنیا کے بدلے ہم نے دشمن کی حقیقی دنیا کو کتنا مسمار کیا۔ اگر ہم پہلے سے یہ فرض کر لیں کہ دشمن کو بھاری جانی و نفسیاتی نقصان ہو چکا ہے، تو یہ تجزیہ نہیں بلکہ خودفریبی ہے۔

جذبہ اپنی جگہ ضروری ہے۔ کوئی بھی قوم صرف سرد تجزیے سے نہیں لڑ سکتی، یا ہمگام ہوئے بغیر صرف تسمے باندھ کر میدان میں بیٹھنے سے جیت دروازے پر آ کر خود بخود دستک نہیں دیتی۔ اس کے لیے حوصلہ اور عزم درکار ہوتا ہے۔ بقول شاعر رابرٹ براوننگ:

“جوتے پہن لو، زین کَس لو، گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور روانہ ہو جاؤ! نواحی بستیوں سے گزر جاؤ، جو گویا نیند میں ڈوبی ہوئی ہیں”

جنگی گھوڑوں کے رقص پر نیند بھرے شہروں کو جگانا بہترین جذبہ ہے، مگر جذبہ اگر قیادت کی آنکھوں پر بھی پردہ ڈال دے تو جدوجہد وقتی رومان میں بدل جاتی ہے۔ سپاہی کا کام لڑنا ہے، مگر قیادت کا کام لڑتے ہوئے پیٹرن کو سمجھنا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی شدت سے لڑ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ہم اتنی ہی گہرائی سے سوچ بھی سکتے ہیں؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ چالوں پہ چال چل کر خود چال نہ بن جائیں۔ اسی طرح طاقت کا ہونا کافی نہیں، اس کا درست استعمال، درست وقت پر، درست فہم، اور سیاسی بصیرت کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔ جو قومیں اپنی طاقت کے فریب میں مبتلا ہو جائیں، وہ وقتی جوش تو پیدا کر لیتی ہیں، مگر پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر پاتیں، کیونکہ اکثر ان کی طاقت ہی ان کی کمزوری بن جاتی ہے۔