پچھلے مضمون میں ایک سوال اٹھایا گیا تھا کہ “اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی شدت سے لڑ سکتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا ہم اتنی ہی گہرائی سے سوچ بھی سکتے ہیں؟”
قومی جدوجہد کے باب میں سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ تجزیے کو تعطل اور سوال کو پسپائی سمجھ لیا جاتا ہے۔ گویا جو سوال اٹھائے وہ حوصلہ شکن ہے، اور جو احتیاط کی بات کرے وہ شکست خوردہ ذہنیت کا حامل، حالانکہ تاریخ اس کے برعکس گواہی دیتی ہے: وہ تحریکیں زیادہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہوئیں جنہوں نے اپنے بیانیے کا تنقیدی جائزہ لینے کی ہمت کی، جدوجہد اپنی جگہ ایک اخلاقی اور سیاسی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر کوئی بھی ضرورت عقل و فہم سے ماورا نہیں ہوتی۔
تاریخ گواہ ہے جب کوئی تحریک داخلی احتساب کو معطل کر دیتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ جذباتی خود تسکینی کا شکار ہو جاتی
ہے۔ پچھلے مضمون ، جہاں بہت سے حلقوں میں زیربحث رہا کہ کسی بھی تحریک کے لیے تنقیدی تجزیہ لازمی امر ہے لیکن وہیں پہ اک آدھ حلقوں میں ایک ابہام بھی پیدا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر حکمتِ عملی اپنی جگہ مگر انتظار اور جمود تحریک کو کمزور کر دیتے ہیں، جو ایک طرح سے پسپائ ، حوصلہ شکنی یا ذہنی شکست خوردگی ہے ، کچھ معتبر ناقدین نے اس “انتظار” کو Waiting for Godot کے آئرش کردار گوڈوٹ سے تشبیہ دے دی۔ یعنی ایسا انتظار جس میں لوگ کسی بیرونی طاقت، معجزے یا مثالی لمحے کے ظہور کا منتظر ہو، گویا دوسرے لفظوں میں، اس تشبیہ کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ گویا جدوجہد کو مؤخر کر دی جائے اور کسی مسیحا کے آنے تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا جائے۔
لیکن سوال یہ ہے کیا پچھلے مضمون میں واقعی ایسا کچھ کہا گیا تھا ؟ یا بقول شاعر
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے۔
جب ھیربخش مری جنگی حکمت عملی کی مثال دیتے ہوۓ قلعے پر حملے کا ذکر کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح قبائلی طرز فکر کے تحت محض بہادری دکھانے کی خواہش میں غیر ضروری جانی نقصان اٹھاتے ہیں حتی کہ رات کی تاریکی جیسے حربی فائدے سے بھی کام نہیں لیتے ،یا ان کا یہ کہنا کہ فقط جذبات کے بل بوتے پر جنگ نہیں جیتی جا سکتی جس کے لیے وہ ریڈ انڈین اور سفید فام امریکیوں کی مثال دے کر بتاتے ہیں کہ محض شجاعت، “اگر حکمتِ عملی سے خالی ہو” تو تاریخ کا دھارا نہیں بدل سکتی ، تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ پسپائی ہے؟ کیا یہ حوصلہ شکنی ہے؟ کیا یہ ذہنی شکست خوردگی ہے؟ یا جدوجہد ترک کرنے کا عندیہ؟
واللہ اعلم، مضمون کی کس سطر سے یہ تاثر اخذ کیا گیا کہ “جدوجہد ترک کر دی جائے”؟ جبکہ مضمون کے ابتدا میں یہ کہنا کہ “لڑیں گے تو سیکھیں گے” اور اختتام پر یہ باور کرانا کہ “محض تسمے باندھ کر بیٹھے رہنے سے جیت کبھی بھی دروازے پر آکر خود دستک نہیں دیتی”، خود جدوجہد کا واضح اعلان ہے۔ پھر اسے ترکِ جدوجہد کی دعوت کیسے سمجھ لیا گیا؟
شطرنج اور “پیٹرن” کی تمثیل کو درست طور پر سمجھا ہی نہیں گیا۔ شطرنج سے مراد مفاہمت یا غیرڈ فعالیت نہیں تھی، بلکہ لڑتے ہوئے گہرے تجزیے اور حکمتِ عملی کی فہم تھی۔ اصل بات چال روکنے کی نہیں، چال کو سمجھنے کی تھی۔ اسی طرح یہ کہنا کہ ہمیں صرف لڑنا نہیں بلکہ جیتنا بھی ہے، کسی طور بے عملی کی دعوت نہیں بنتا۔
جدوجہد ناگزیر ہو سکتی ہے، مگر کیا ناگزیر عمل تجزیے سے بالاتر ہو جاتا ہے؟ اگر ہم پیشگی یہ فرض کر لیں کہ دشمن کمزور ہو چکا ہے اور ہماری ہر پیش قدمی فیصلہ کن ہے، تو وہ سوال کہاں سے اٹھے گا جہاں سنجیدہ جنگی فہم کا آغاز ہوتا ہے؟ طاقت کا شعور ضروری ہے، مگر طاقت کے بارے میں خودساختہ اطمینان سب سے بڑی کمزوری بن سکتا ہے۔ اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا “شکست خوردگی کی نفسیات” نہیں بلکہ خود فریبی سے احتراز کی دعوت ہے۔
اگر ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بلوچ تحریک ارتقا پذیر ہے، تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ ارتقا پذیر تحریکیں اپنے اندر سوال کی گنجائش رکھتی ہیں، بلکہ لازماً رکھتی ہیں۔ جذبہ اور تجزیہ بظاہر ضد دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ جذبہ ایندھن فراہم کرتا ہے، مگر سمت کا تعین ذہن کرتا ہے۔ اگر قیادت کو لڑتے ہوئے پیٹرن پر غور کرنے کا کہا جائے تو اسے” انتظار” سے تعبیر کرنا جلد بازی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ لڑنا ہے یا نہیں؛ بساط پر بیٹھتے ہی یہ طے ہو جاتا ہے کہ مقابلہ کرنا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم لڑتے ہوئے اپنے مقام، اپنی حکمتِ عملی اور اپنے مفروضات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں یا نہیں؟ میدان چھوڑنے کا مفہوم کہاں سے برآمد کر لیا گیا، جبکہ بات صرف میدان کو زیادہ واضح طور پر دیکھنے کی تھی؟
اس مضمون میں “پیٹرن” سے مراد وقتی چالیں یا انفرادی اقدامات نہیں، بلکہ وہ گہرا اور ہمہ جہت نقشہ ہے جو تاریخ، نفسیات، طاقت کے توازن، سیاسی حرکیات اور حالات کے باہمی ربط سے تشکیل پاتا ہے۔ جنگ اور سیاست کے تعلق کو سمجھنے کے لیے Carl Von Clausewitz کا معروف تصور رہنما ہو سکتا ہے کہ جنگ سیاست کا تسلسل ہے۔ اگر سیاست مفادات، امکانات اور طاقت کے توازن کے حساب سے چلتی ہے تو جنگ بھی اسی حساب کی پابند ہے، چال وقتی ردِعمل ہو سکتی ہے، مگر پیٹرن تسلسل، فکری خاکے اور مجموعی سمت کا نام ہے جو پس منظر میں کارفرما رہتی ہے۔ جس طرح شطرنج میں مہارت صرف مہرہ چلانے میں نہیں بلکہ کھیل کے مجموعی ڈھانچے کو سمجھنے میں ہوتی ہے، اسی طرح قومی و سیاسی جدوجہد میں بھی اصل کامیابی اس امر پر منحصر ہے کہ ہم واقعات کے پیچھے کارفرما رجحانات، قوتوں کی صف بندی اور طویل المدتی نتائج کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔
مزید یہ کہ پیٹرن اس ذہنی بصیرت کا نام ہے جو بساط پر نظر آنے والی چالوں سے آگے بڑھ کر مستقبل کی سمت کو بھانپتی ہے۔ اسی تصور کو سمجھانے کے لیے The Queen’s Gambit کردار Harman Beth کی مثال دی گئی ہے، جو کھیل کو صرف سامنے رکھی بساط پر نہیں بلکہ اپنے ذہن میں بنتے نقشوں کی صورت دیکھتی ہے۔ قومی قیادت کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ وقتی نعروں اور عارضی کامیابیوں سے آگے بڑھ کر اس بڑے نقشے کو سمجھے جس میں مخالف کی حکمتِ عملی، عالمی سیاست، داخلی اتحاد اور آئندہ امکانات باہم جڑے ہوتے ہیں۔
پیٹرن کی فہم کے بغیرڈ جدوجہد محض جوش و جذبہ بن کر رہ جاتی ہے؛ پیٹرن کی آگہی ہی اسے حکمت میں ڈھالتی ہے، اور حکمت ہی بالآخر فتح کا امکان پیدا کرتی ہے۔
الغرض، پیٹرن وہ نوشتۂ دیوار ہے جو آنکھ نہیں بلکہ ذہن پڑھتا ہے۔















