چھٹی صدی قبل مسیح میں مغربی ایشیاء کا تمام علاقہ منگولین نسل کے سیتھین قبائل کے حملوں سے غارت ہورہا تھا_انہی منگولین نسل کے سیتھین قبائل کو قدیم کُتب اور مذہبی کتابوں میں یاجوج ماجوج کہہ کر پکارا گیا ہے_مولانا ابوالکام آزاد کے مطابق قرآن مجید کے سورہ کہف میں جن یاجوج ماجوج کا ذکر آیا ہے وہ یہی منگولین نسل ہے_ بحر خزر اور بحر اسود کا علاقہ ان وحشی اور خونخوار قوم کا مرکز بن چکا تھا یہ وحشی قوم وہشت کی قدرتی ہمّجیت اور درندگی سے لڑھتے سرد علاقے کی صحرائی زندگی اور وحشیانہ خصائل کی خوشونت نے انھیں وقت کی شاہستہ اقوام کے لئے ایک خوفناک ہستی بنادیا تھا_ یہ وسط ایشیاء سے لیکر بحر اسود کے شمالی کناروں تک آباد تھے اور اطراف و جوانب میں برابر حملہ آور ہوتے رہتے تھے_ جب کبھی موقع پاتے قرب و جوار کی آبادیاں غارت کرتے_ یہ قتل و غارت کا ایک ایسا منظم سیلاب تھا جسے دنیا کی کوئی انسانی قوت روک نہیں سکتی تھی_ ان کی شب و روز کی زندگی منگولیاں کے باد رفتار گھوڑوں کی پیٹھ پر بسر ہوتی تھی_ اور سو سو میل تک بغیر دم لیے چلے جاتے تھے جب ان کے حملے اسلامی ملکوں میں گرے تو ان کی برق رفتار کا یہ حال تھا کہ ایک شھر کی تبائی کی خبر دوسرے شھر تک پہنچنے نہیں پاتی تھی کہ وہ خود اس کے دروازے پر نمودار ہوجاتے تھے_ لیکن یہ کبھی جم کر ٹک نہیں سکتے تھے اور نہ علاقے فتح کرکے اپنے قبضے میں رکھ سکتے تھے_ مگر جب کبھی صدیوں بعد ان میں سے کوئی حکمران قائد پیدا ہوجاتا اور وہ بہت سے قبیلوں کو متحد کرکے ایک فوج کی نوعیت دے دیتا تو پھر قتل و غارت گری کا ایک ایسی منظم طاقت پیدا ہوجاتی جو صرف وقتی حملوں پر قانع نہیں رہتی بلکہ مملکتوں اور قوموں پر قابض ہوجاتی اور شھری آبادیوں کی بڑی قوتیں بھی اس کی راہ نہیں روک سکتیں_ ان میں چنگیز خان اپنی مثال آپ ہے_
قرآن مجید کے سورہ کہف میں پھر ذوالقرنین کا ذکر آتا ہے اللہ تعالٰی فرماتا ہے ‘ذوالقرنین میرا چرواہا ہوگا اور میں نے اسے اس لئے پکارا ہے کہ بنی اسرائیل کو بابلیوں کے ظلم سے نجات دلائے” نیز اسے ‘خدا کا مسیح” بھی کہا ہے_
ذوالقرنین نے ایک دیوار تعمیر کرکے یاجوج ماجوج کی راہیں مسدود کردی تھی_ کہا جاتا ہے کہ اس وقت یاجوج ماجوج کا حملہ ایک خاص راہ سے ہوتا تھا دوسری راہیں ان پر نہیں کھلی تھی اس لئے ذالقرنین نے دیوار تعمیر کرکے اسے بند کردیا اور صدیوں تک کے لئے ملک محفوظ ہوگیا_ جس طرح تین صدیوں بعد شہنشاہ چین شین شیہ ھوانگ ٹی (Ch’in Shih Huang Ti) نے حملوں کو روکنے کے لئے وہ عظیم الشان دیوار تعمیر کی جو دیوارِ چین کے نام سے مشہور ہے یہ دیوار پندرہ سو میل تک چلی گئی ہے اس کی تعمیر 214 قبل مسیح میں شروع ہوئی اور دس برس میں ختم ہوئی_ اس نے شمال اور مغرب کی طرف سے منگولین قبائل کے حملوں کی تمام راہیں مسدود کردی تھی_ اس لئے ان کا رخ پھر وسط ایشیاء کی طرف مڑگیا_
مولانا ابوالکلام آزاد قرآن مجید کی تفسیر بیان کرکے اپنی تحقیق سے ایران کے عظیم شہنشاہ سائرس کو قرآن مجید کے سورہ کہف کا ذوالقرنین ثابت کرتا ہے_ یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ایران کے آخری مید بلوچ حکمران استیاگس (آستیا غوث) نے اپنی بیٹی ماندین جسے یونانی مورخین میندانے تحریر کرتے ہے کی شادی آریائی ہخامنشی سردار کمبی سس(کمبوجیہ) سے کردی اس کے بطن سے سائرس نے جنم لیا_ جس نے بعد اپنے نانا استیاگس کو گرفتار کرکے تخت پر قبضہ کرلیا_ اس بغاوت میں استیاگس کے افواج کے سپہ سالار ہارپیگ (ہار پاگس) جو آرمینیائی النسل تھا نے دیگر بلوچ قبائل کے ساتھ ملکر سائرس کا ساتھ دیا_ ورنہ تخت پر ان کا قبضہ ناممکن تھا_ سائرس اپنے دور حکمرانی میں ایک عظیم حکمران ثابت ہوا_ اس نے کرمان،لیڈیا (آرمینیا اور ترقی) بابل اور چین تک فتوحات کے جھنڈے گاڑے مکران کا بھی کافی حصہ اسکے زیر اثر آیا_ سائرس کا اصل نام گورش تھا جنھیں یونانیوں نے سائرس کے نام سے پکارا_ اسی طرح عبرانیوں نے خورس اور عربوں نے قوروش اور خیار شایا کیار شایا کے خسرو کے نام سے پکارا_
ذوالقرنین یعنی سائرس نے یاجوج ماجوج کا راستہ روکنے کے لئے جو ایک دیوار تعمیر کی تھی اس دیوار میں اب شگاف آچکا ہے بلوچستان کی جانب سے ایک درہ کُھل چکا ہے یاجوج ماجوج اس سے نکل کر بلوچستان میں داخل ہوچکے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ان میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں اب یہ نئے رنگ ڈنگ اور بوٹ سوٹ میں دکھائی دیتے ہیں لیکن نسل و کردار وہی ہیں_ وہ یاجوج ماجوج دیہاتوں اور شھروں کو لوٹتے تھے اور یہ موجودہ یاجوج ماجوج دیہاتوں اور شھروں کے ساتھ ساتھ زیر زمین قدرتی وسائل اور سمندری وسائل کو بھی لوٹتے ہیں_ وہ مال مڈی لوٹنے کے ساتھ وہاں کے رہنے والوں کو قتل کرتے تھے اور یہ مال مڈی لوٹنے کے ساتھ قتل عام بھی کرتے ہیں اور بہت سو کو اٹھاکر اپنے ساتھ لیجاتے ہیں اور پھر انھیں اذیتیں دے دے کر قتل کرکے ایک ایک کرکے ان کی لاشیں پھینک دیتے ہیں_ وہ عورتوں کی عصمت دری کرتے تھے اور یہ انھیں روڈوں پر گھسیٹ گھسیٹ کر ان کی عزت پامال کرتے ہیں_ وہ آگ لگاکر دیہاتوں اور شھروں کو جلا دیتے تھے اور یہ بمباری کرکے گاوُں کے گاوُں اور شھروں کے شھر کو ملیامیٹ کردیتے ہیں_ وہ بچوں کو اپنے ساتھ لیجاکر غلام بنادیتے تھے اور یہ بچوں کو ان کی ماں کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے گولیوں سے چھلنی کردیتے ہیں_ وہ لوٹ مار کے بعد وہاں نہیں ٹکتے تھے اور یہ ٹک کر ہی لوٹ مار کررہے ہیں_ وہ لوگوں پر تلوار و نیزے چلاتے تھے اور یہ لوگوں پر گولیاں اور توپیں چلاتے ہیں_ وہ وحشی تھے ان میں انسانیت نہیں تھی اور یہ پڑھے لکھے ہیں بوٹ سوٹ میں ہیں ان میں بھی انسانیت نہیں ہے_ ان کا مشغلہ لوٹ مار، قتل و غارت گری کا تھا اور ان کا مشغلہ سیاست و کاروبار کرنا بھی ہے اور لوٹ مار،قتل و غارت گری بھی کرتے ہیں_ وہ غیر مہذب و وحشی تھے ہر مذہب کے لوگوں کو مارتے تھے اور یہ دکاوئے میں مہذب و شھری لگتے ہیں مسلمان بھی ہے اور ہر مسلمان کو مارتے ہیں_ اُنھیں عرفِ عام میں وحشی و درندے کہتے تھے وہ منگولین تھے اور اِنھیں عرف عام میں پاک فوج کہتے ہیں یہ پاکستانی ہے لیکن ان کا کردار و عمل ناپاک ہے_ وہ صدیوں قبل مختلف ممالک پر وارد ہوئے اور یہ 1948 کو بلوچستان میں وارد ہوئے_اُن کا اب نام نشان نہیں ہے لیکن یہ اب بھی یہی ہیں_
اُن یاجوج ماجوج کا راستہ روکنے کے لئے اللہ تعالٰی نے ذوالقرنین کو بھیجا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں وارد ہونے والے یاجوج ماجوج کے لئے کون آئے گا؟
لگتا نہیں کہ ان کے لئے اللہ پاک کسی ذوالقرنین کو بھیجے گا_ اب بلوچ کو خود ذوالقرنین بن کر ایک دیوار تعمیر کرنی ہوگی تاکہ آئندہ یہ اپنا رخ بلوچ سرزمیں کی جانب نہ کریں_ اور وہ دیوار بلوچ کی یکجہتی،اتحاد و یگانگت ہے جس کے بل بوتے پر بلوچ ان ظالم و جابر یاجوج ماجوجوں کا مقابلہ کرسکتا ہے اپنی سرزمین ساحل و وسائل کی دفاع و تحفظ کو یقینی بناسکتا ہے بصورت دیگر یہ یاجوج ماجوج ہمیشہ بلوچ کو لقمہ اجل بناتے رہے گے_ بلوچ یا تو متحد و منظم ہوکر ان کا مقابلہ کریں یا ان کے ہاتھوں مرتا رہے یہ بلوچ پر منعصر ہے وہ اتحاد و اتفاق کو ترجیح دیتا ہے یا غلامی اور مرنے پر خوش رہنا چاہتا ہے_ بلوچستان کے جو موجودہ حالات ہیں اس سے زیادہ ابتر تو نہیں ہونگے ہر بلوچ گھر ان کے ظلم،جبر و ناانصافیوں کا شکار ہے ہر گھر میں ماتم ہے ایک ماں کا لخت جگر تو ایک بہن کا بھائی، ایک عورت کا شوہر تو ایک بچے کا والد اور ایک کا اپنا و پیارا لاپتہ ہے ان کو ایسی چوٹ لگائی گئی ہے جس کے درد کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے_ ان لاپتہ افراد کے لواحقین انصاف کی تلاش میں سرگردہ عدالتوں کے چکر لگاکر تک چکی ہیں لیکن یہ انصاف ہے کہ نہیں ملتا_ لگتا ہے عدالت و انصاف بھی لاپتہ ہوچکے ہیں_ پھر تنگ آکر روڈوں پر،پریس کلبوں کے سامنے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے احتجاج کرتے ہیں تو انھیں شدید تشدد سے گزرنا پڑتا ہے ان کی آواز ملکی سطح پر نہ بین الاقوامی سطح پر سنی جاتی ہے لگتا ہے ان کے سنائی دینے والے کان بھی لاپتہ ہوچکے ہیں_ اور نا انسانی حقوق کے علمبردار ایسے ماورائے عدالت عمل کے خلاف کوئی خاص کردار ادا کررہے ہیں لگتا ہے یہ بھی لاپتہ ہوچکے ہیں_ بلوچستان کے تیل،گیس و دیگر وسائل سے جن وحدتوں کے گھروں کے چھولے اور ایندھن چل رہے ہیں ان کی تعمیر و ترقی ہورہی ہے کالجز و یونیورسٹیاں بنائی جارہی ہے لیکن افسوس بلوچستان کے وسائل سے چلنے والے ان وحدتوں کے عوام کے لبوں پر بلوچ عوام پر ہونے والی ظلم و ذیادتیوں کے خلاف دو چار مذمتی الفاظ بھی نہیں نکلتے_ لگتا ہے وہ بھی لاپتہ ہوچکے ہیں_ اس کے برعکس ان کے اوپر کیے گئے ہر ظلم کے خلاف بلوچ نے بحیثیت ایک قوم دوست،انسان دوست ہمیشہ آواز بلند کی ہے_ بلوچستان میں آئے روز لوگ لاپتہ ہورہے ہیں_ عورتوں کو روڈوں پر گھسیٹا جارہا ہے ان کی تذلیل کی جارہی ہے اور یہ سب کچھ اس ملک میں ہورہا ہے جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے لیکن اس میں اسلامی روایت کو پاوُں تلے روندا جاتا ہے جمہوریت میں آمریت ہے پاک نام پر ناپاک حرکتیں ہوتی ہے پھر بھی یہ دیش اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتا ہے_ بلوچستان میں اظہار رائے پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے پرامن جمہوری جدوجہد پر قدغن ہے جس کی وجہ سے نوجوان کسی اور راہ کا انتخاب کررہے ہیں_جس طرح اپنی روانی کے لئے راہ نہ پانے کی صورت میں ندی نالے جب چڑھنے لگتے ہیں تو سب رکاوُٹوں کو خس و خاشاک کے مانند بہا لے جاتے ہیں اسی طرح بڑھتے ہوئے جزبات بھی اپنے اخراج کے لئے موذوں صورت تلاش کرلیتے ہیں_ جب متاعِ لوح و قلم چھین لیا جائے اور لب اظہار پر تالے لگادیئے جائیں اگر جزبات کا اظہار نہ ہوسکے تو ہر طرف مرگ ناگہانی کا آسیب منڈلانے لگتا ہے_ لیکن یہ حاکم وقت کو کون سمجھائے؟
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مرجائے گا
بلوچ انسانیت دوستی کے ترقی پسندانہ فکر کا حامی ہے ترقی پسندانہ قوم پرستی پر یقین رکھتی ہے اور تشدد سے پرہیز پرامن جمہوری جدوجہد کررہی ہے_ لیکن پرامن جمہوری و سیاسی جدوجہد کا راستہ روکنے کے لئے ریاست کی جانب سے طاقت کا جو بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے دراصل بلوچ کو کسی اور راہ پر بھیجنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا_ حقوق پر قدغن،جدوجہد پر قدغن،وسائل کی لوٹ مار،ساحل کی لوٹ مار،تعمیر و ترقی لاپتہ،لوگ لاپتہ تو پھر ان قدغن،لوٹ مار اور لاپتہ پر آواز بلند ہوگی_ جمہوری و سیاسی مزاحمت ہوگی_ مزاحمت تو بلوچ کی روح میں ہے اسے طاقت و قوت سے ختم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں_ اس مزاحمت کو جمہوری و سیاسی ہی رہنے دیا جائے مسلح نا بنایا جائے جس کے نتائج انتہائی خطرناک نکلے گے اور نکل بھی رہے ہیں_ریاستی یاجوج ماجوج میں تہذیب،روایت و اخلاقیات نام کی کوئی شے نہیں ہے اور حقیقتاٙٙ یہ وہی یاجوج ماجوج ہیں جو اس صدی میں کسی اور روپ میں نکل کر یہاں وارد ہوئے ہیں اور بلوچ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں_ اب بلوچ اتحاد ناگزیر ہے گوکہ اس کام خیر میں رکاوُٹ بہت ہیں سرکار کے پالے ہوئے نام نہاد قبائلی سردار،پارلیمانی جماعتوں کے لیڈران جو بلوچی زبان منہ میں رکھ کر بلوچی پوشاک میں ملبوس درحقیقت چند مرعات و مفادات کی خاطر بلوچ اتحاد میں ہمیشہ رکاوُٹ ڈال کر اپنی دھرتی ماں کا سودا کرکے اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا کردار ادا کرتے آرہے ہیں یہ لوگ ہمیشہ اپنی قوم کے خیرخواہ بننے کا ناٹک کرتے ہیں اور قوم و سرزمین کے نام پر پارٹیاں بناتے ضرور ہے لیکن حقیقت میں ان کا کام اپنی قوم کو غلامی کے لئے تیار رکھنے ان کو ڈرانے اور اپنے آقاوُں سے ملنے والی چھوٹی موٹی مراعات کے عوض غلامی کی زنجیریں پہنے رکھنے کا تقاضہ کرنا ہوتا ہے یہ اپنی محکوم قوم سے کہتے ہیں کہ دشمن بہت طاقتور ہے ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے اس لئے پارلیمنٹ میں مسئلہ کا حل تلاش کرنا چائیے_ یہ جناب سمجھتے ہے کہ ہمیں صرف پیٹ بھر روٹی چائیے؟ لیکن ان کو ہم بتا دے کہ ایسا نہیں ہے ان لوگوں کو جو ہماری پیٹھ پر سوار ہے اور جنھوں نے ہماری آنکھیں بند کر رکھی ہے ہم انھیں بتا دینا چاہتے کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں نہ تو ہم بیوقوف ہیں اور نہ جانور کہ ہمیں پیٹ بھرنے کے علاوہ اور کچھ چائیے ہی نہیں_ ہم اپنی سرزمین،ساحل و وسائل پر اپنی حاکمیت چاہتے ہیں جو ہمارا ہے ہم ایسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں جو انسانوں کے شایان شان ہو،ہم اپنے دشمنوں پر یہ ثابت کردینا چاہتے کہ غلامی کی زندگی جو انھوں نے ہم پر مسلط کر رکھی ہے ہم ہر اعتبار سے ان کے برابر ہی نہیں بلکہ ان سے ارفع و اعلٰی ہیں ہم نے نہ غلامی قبول کی ہے نہ کریں گے_
یہ پارلیمانی جناب پچھلے ستتر (77) سالوں سے قومی مسئلے کا حل پارلیمان میں ڈھونڈ رہے کیا انھیں مل سکا؟ بلکل نہیں_ پارلیمان میں 18 ویں ترمیم سمیت کئی قراردادیں پیش ہوئی اور کئی منظور بھی ہوگئیں لیکن قومی استحصال جوں کا توں بڑھتا ہی چلا جارہا ہے_ بلوچستان میں پاکستان کا کردار نیم سامراجی طاقت کا ہے جو بڑی سامراجی طاقتوں کے لئے بلوچستان کا استحصال کرنے کا ڈھانچہ بھی فرائم کرتا ہے اور گماشتوں کی طرح کچھ منافع خود بھی کماتا ہے_ بلوچستان کی معدنیات،بندرگاہ یا وسائل کے حوالے سے ہونے والے معائدوں پر اگر روشنی ڈالی جائے تو نظر آئے گا کہ 50 سے زائد فیصد منافع غیر ملکی کمپنیاں کماتی ہیں تو 25 فیصد سے زائد وفاقی حکومت و ادارے اور بلوچستان کے حصے میں آنے والے 25 فیصد بھی بلوچستان میں نہیں آتے بلکہ وفاقی اور باہر کے کمپنیاں اور ٹھیکدار لے جاتے ہیں_ چین،امریکہ،کینڈا،یورپ،آسٹریلیاں،پاکستان سارے سامراجی سرمائے کے لئے بلوچستان کے استحصال میں معاونت فرائم کررہا ہے اور اس طفیل خود بھی منافع کمارہا ہے_ یہی وجہ ہے کہ اپنی مکمل گرفت قائم رکھنے کے لئے ایک جانب بلوچستان کو چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے اور عوامی آواز کو دبانے کے لئے طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے جبر و استبداد کی تمام حدیں پار کرچکا ہے دوسری جانب بلوچستان کے قبائلی سرداروں اور پارلیمانی پارٹیوں کے ذریعے بلوچ کی مزاحمتی روح کو فنا کرنے کی کوشش کررہا ہے یہی وجہ ہیکہ ان لوگوں نے کبھی بھی بلوچ کی وحدت اور اتحاد و یکجہتی پر سنجیدگی نہیں دکھائی تاکہ بلوچ وحدت اسی طرح پارا پارا رہے اور ان کی کرسیاں اور وزارتیں قائم رہے اور ان کے خزانے بھرتے رہے پوری دنیا میں یہ طبقات قومی غدار اور سوداگروں کی صورت میں نظر آئے ہیں_
ایک جانب ان لوگوں کی دشمن سے وفاداری اور اپنی قوم سے غداری اور دوسری جانب بلوچ کی خانہ جنگی،برادر کُشی نے بلوچ کو شدید نقصانات سے دوچار کردیا ہے_اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچ اتحاد و یکجہتی کی فزا قائم ہوکر بلوچ کی طاقت و قوت اکھٹی ہوکر اپنی سرزمین ساحل و وسائل کی دفاع و تحفظ کرسکے_ اس قومی کاز کے لئے حقیقی سیاسی رہنماوُں و کارکنوں، طلباء تنظیموں،دانشوروں،قلم کاروں،ادیبوں اور وطن دوستوں کو اپنا فعال و بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا قومی غداروں کو بے نقاب کرکے خانہ جنگی(آپسی جنگ و جدل) کے قومی نقصانات سے پوری قوم کو آگاہ کرنا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے قومی جرم و نقصانات سے قوم کو بچایا جاسکے_
نہ سمجھو گے تو مٹ جاوُگے بلوچستان والوں
تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں















